بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
3
35 hadith
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، كُلُّهُمْ قَدْ حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَامَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ - وَسَاقَ الْحَدِيثَ - ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ‏.‏
Narrated Aishah:There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) came out and led the people in prayer. he stood up and I guessed that he recited Surah al-Baqarah. The narrator then further transmitted the tradition. He (the Prophet) then prostrated himself twice, and then stood up and prolonged the recitation. then I guessed his recitation and knew that he recited Surah Al-i-Imran
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورۃ البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورۃ آل عمران کی قرآت کی ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَىَّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ عَلَيْهَا ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:While travelling the Messenger of Allah (ﷺ) would pray voluntary prayer on his riding beast in whatever direction it turned; and he would observe witr prayer, but he did not offer the obligatory prayers upon it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: Some reliable people testified before me, and among them was Umar ibn al-Khattab, and most reliable in my eyes was Umar: The Prophet of Allah (ﷺ) said: There is no prayer after the dawn prayer until the sun rises; and there is no prayer after the 'Asr prayer until the sun sets
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمران میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Yazid said:I asked Abu Mas'ud while he was making circumambulation of the Ka'bah (about the recitation of some verses from the Qur'an). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone recited two verses from the last of Surah al-Baqarah at night, they will be sufficient for him
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication in the night prayer for a month. He said (in his supplication): O Allah, rescue al-Walid b. al-Walid, rescue Salamah b. Hisham, rescue the weak believers; O Allah, trample severely on Mudar; O Allah, cause them a famine like that of Joseph. Abu Hurairah said: One morning the Messenger of Allah (ﷺ) id not make supplication for them. So I told him about it. He said: You dod not see that they have come (back)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:«اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف ( علیہ السلام ) کے زمانے میں پڑا تھا ) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ( اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ ) آ چکے ہیں؟ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ ‏.‏ قَالَ فِيهِ وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَرَأْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ بِحِمْصَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْحِمْصِيِّ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيِّ - مِنْ غَاضِرَةِ قَيْسٍ - قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَأَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ كُلَّ عَامٍ وَلاَ يُعْطِي الْهَرِمَةَ وَلاَ الدَّرِنَةَ وَلاَ الْمَرِيضَةَ وَلاَ الشَّرَطَ اللَّئِيمَةَ وَلَكِنْ مِنْ وَسَطِ أَمْوَالِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ ‏"‏ ‏.‏
This tradition has also been narrated by Zakariyya bin Ishaq through his chain of narrators. In this version Mulsim bin Shu'bah said:Shafi' means a goat which has a baby in its womb. Abu Dawud said: I read in a document possessed by Abdullah ibn Salim at Hims: Abdullah ibn Mu'awiyah al-Ghadiri reported the Prophet (ﷺ) as saying: He who performs three things will have the taste of the faith. (They are:) One who worships Allah alone and one believes that there is no god but Allah; and one who pays the zakat on his property agreeably every year. One should not give an aged animal, nor one suffering from itch or ailing, and one most condemned, but one should give animals of medium quality, for Allah did not demand from you the best of your animals, nor did He command you to give the animals of worst quality
اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا ‏.‏
Ibn `Umar said that he heard the Prophet (SWAS) say with hair matted that he raised his voice in the talbiyah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے سنا اور آپ اپنے سر کی تلبید ۱؎ کئے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَتَذَاكَرْنَا مُتْعَةَ النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏
Al Zuhri said “we were with ‘Umar bin ‘Abd Al Aziz, there we discussed temporary marriage. A man called Rabi bin Saburah said “I bear witness that my father told me that the Apostle of Allaah(ﷺ) had prohibited it at the Farewell Pilgrimage.”
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے تو عورتوں سے نکاح متعہ ۱؎ کا ذکر ہم میں چل پڑا، تو ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام ربیعہ بن سبرہ تھا کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ سے منع کر دیا ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
‘Umar bin Al Khattab reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Apostle, his emigration is to Allaah and His Apostle but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries , his emigration is to that for which he emigrated
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
Narrated by Rib'i b. Hirash
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّهِ لأَهَلاَّ الْهِلاَلَ أَمْسِ عَشِيَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاَّهُمْ ‏.‏
Narrated Rib'i b. Hirash:On the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ): People differed among themselves on the last day of Ramadan (about the appearance of the moon of Shawwal). Then two bedouins came and witnessed before the Prophet (ﷺ) swearing by Allah that they had sighted moon the previous evening. So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the people to break the fast. The narrator Khalaf has added in his version: "and that they should proceed to the place of prayer (for 'Id)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں ( چاند کی رویت پر ) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔
Narrated by AbuUmamah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَقَرَأْتُهُ، عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏"‏ مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ فِي حَدِيثِهِ ‏:‏ ‏"‏ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: He who does not join the warlike expedition (jihad), or equip, or looks well after a warrior's family when he is away, will be smitten by Allah with a sudden calamity. Yazid ibn Abdu Rabbihi said in his tradition: 'before the Day of Resurrection
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں «قبل يوم القيامة» قیامت سے پہلے کا اضافہ ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Mughaffal
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، وَقَالَ الْحَسَنُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ ‏"‏ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mughaffal: The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one of you should make water in his bath and then wash himself there (after urination). The version of Ahmad has: Then performs ablution there, for evil thoughts come from it
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے ( حمام ) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے ۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔
Narrated by Thawban
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ‏.‏
Narrated Thawban:The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed during a journey and then said: Thawban, mend the meat of this goat. I then kept on supplying its meat until we reached Medina
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: people of two different religions would not inherit from one another
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دین والے ( یعنی مسلمان اور کافر ) کبھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَىَّ وَعَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: I am nearer to the believers than themselves, so if anyone leaves property, it goes to his heirs, and if anyone leaves debt and dependants, let the matter come to me and I shall be responsible
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں مسلمانوں سے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ( بس ) جو مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ ( قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش ) میرے ذمہ ہے ۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Umm Salamah:The Messenger of Allah (ﷺ): When you attend dying man, you should say good words, for the angels say Amin to what you say. When Abu Salamah died, I said: What should I say, Messenger of Allah? He said: O Allah forgive him, and give us something good in exchange. She said: So Allah gave me Muhammad (ﷺ) in exchange for him
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو ۱؎ اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں ، تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں کیا کہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة» اے اللہ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمایا۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - قَالَ ابْنُ يَحْيَى كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏:‏ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فَذَكَرَ رُؤْيَا فَعَبَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ‏:‏ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ لاَ تُقْسِمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:Abu Hurairah narrated that a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I had a dream last night, and he then mentioned it. So Abu Bakr interpreted it. The Prophet (ﷺ) said: You are partly right and partly wrong. He then said: I adjure you, Messenger of Allah, may my father be sacrificed on you, do tell me the mistake I have committed. The Prophet (ﷺ) said: Do not adjure
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔
Narrated by Fudalah bin 'Ubaid
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً بِاثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Fudalah bin 'Ubaid:At the battle of Khaibar I bought a necklace in which there were gold and pearls for twelve dinars. I separated them and found that its worth was more than twelve dinars. So I mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said: It must not be sold till the contents are considered separately
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا ( ۱۲ ) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَذَرُوا النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: A townsman must not sell for a man from the desert ; and leave people alone, Allah will give them provision from one another
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو ( انہیں خود سے لین دین کرنے دو ) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَجَلَسَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ عَنْهُ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ‏"‏ ‏.‏
Yahya ibn Rashid said:We were sitting waiting for Abdullah ibn Umar who came out to us and sat. He then said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone's intercession intervenes as an obstacle to one of the punishments prescribed by Allah, he has opposed Allah; if anyone disputes knowingly about something which is false, he remains in the displeasure of Allah till he desists, and if anyone makes an untruthful accusation against a Muslim, he will be made by Allah to dwell in the corrupt fluid flowing from the inhabitants of Hell till he retracts his statement
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلاَمِ، - يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً ‏"‏ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: That I sit in the company of the people who remember Allah the Exalted from morning prayer till the sun rises is dearer to me than that I emancipate four slaves from the children of Isma`il, and that I sit with the people who remember Allah from afternoon prayer till the sun sets is dearer to me than that I emancipate four slaves
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ، زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسِبُ عَوْفٌ أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلاَ مُزَفَّتٍ وَلاَ دُبَّاءٍ وَلاَ حَنْتَمٍ وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ ‏"‏ ‏.‏
A man of the deputation of 'Abd al-Qais who came to the Prophet (ﷺ) said - the narrator 'Awf thinks that his name was Qais bin al-Nu'man:The Prophet (ﷺ) said: Do not drink from hollowed stumps, vessel smeared with pitch, pumpkins, and green jars, but drink from a skin which is tied with string. If the drink ferments, lighten it by infusing water. If you are helpless, then pour it away
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا ( عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، - يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ شِعْبٍ مِنَ الْجَبَلِ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ فَدَعَوْنَاهُ فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) came out from the valley of a mountain where he had eased himself. There were some dried dates on a shield before us. We called him and he ate with us. He did not touch water
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
Narrated by Asma', daughter of Yazid ibn as-Sakan,
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Asma', daughter of Yazid ibn as-Sakan,: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not kill your children secretly, for the milk, with which a child is suckled while his mother is pregnant, overtakes the horseman and throws him from his horse
اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ، مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ ‏.‏
A similar tradition has also been transmitted by Jabir b. Zaid and al-Hasan through a different chain of narrators. Abu Dawud said:The narrator sa'id retained te tradition more carefully than Hammad
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد ( حماد بن سلمہ ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۱؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ ‏{‏ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ ‏}‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: I saw the Prophet (ﷺ) reading the verse; "does he think that his wealth would make him last for ever?
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «يحسب أن ماله أخلده» ۱؎ پڑھتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا زَادَ وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibrahim b. 'Abd Allah through a different chain of narrators. This version added:I do not say that he had forbidden you
اس سند سے بھی ابراہیم بن عبداللہ سے یہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا ‏.‏
Salamah b. al-Akwa' said:The Prophet (ﷺ) used to say the Maghrib prayer immediately after the sun had set when its upper side would disappear
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے تھے جب اس کے اوپر کا کنارہ غائب ہو جاتا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The hair of the Messenger of Allah (ﷺ) were up to the lobes of his ears
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، قَالَ زِيَادٌ سِيمِينْ كُوشْ ‏.‏
Abd Allah b. 'Abd al-Quddus mentioned in his version:Ziyad, one who has white ears
عبداللہ بن عبدالقدوس نے «عن رجل يقال له زياد» کے بجائے «زیاد سیمین کوش» کہا ہے جس کے معنی سفید کان والا کے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ك ف ر ‏.‏
Shu’bah said in his version:“the letters k, f, r” (are on his forehead)
شعبہ سے ک ف ر مروی ہے۔
Narrated by Nu'aym
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَقَالَ لِهَزَّالٍ ‏ "‏ لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Nu'aym: Ma'iz came to the Prophet (ﷺ) and admitted (having committed adultery) four times in his presence so he ordered him to be stoned to death, but said to Huzzal: If you had covered him with your garment, it would have been better for you
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال ( جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا ) سے کہا: اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپا لیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا ۔
Narrated by Sahl b. Abi Hathmah and Rafi' b. Khadij
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْكُبْرَ الْكُبْرَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ لِيَبْدَإِ الأَكْبَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ قَالَ ‏"‏ فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ ‏.‏ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ قِبَلِهِ ‏.‏ قَالَ قَالَ سَهْلٌ دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا ‏.‏ قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَمَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ فِيهِ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ ‏"‏ وَلَمْ يَذْكُرْ بِشْرٌ دَمًا وَقَالَ عَبْدَةُ عَنْ يَحْيَى كَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى فَبَدَأَ بِقَوْلِهِ ‏"‏ تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الاِسْتِحْقَاقَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا وَهَمٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
Narrated Sahl b. Abi Hathmah and Rafi' b. Khadij: Muhayyasah b. Mas'ud and 'Abd Allah b. Sahl came to Khaibar and parted (from each other) among palm trees. 'Abd Allah b. Sahl was killed. The Jews were blamed (for the murder). 'Abd al-Rahman b. Sahl and Huwayyasah and Muhayyasah, the sons of his uncle (Mas'ud) came to the Prophet (ﷺ). 'Abd al-Rahman, who was the youngest, spoke about his brother, but the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: (Respect) the elder, (respect) the elder or he said: Let the eldest begin. They then spoke about their friend and the Messenger of Allah (ﷺ) said: Fifty of you should take oaths regarding a man from them (the Jews) and he should be entrusted (to him) with his rope (in his neck). They said: It is a matter which we did not see. How can we take oaths ? He said: The Jews exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah! they are a people who are infidels. So the Messenger of Allah (ﷺ) paid them bloodwit himself. Sahl said: Once I entered the resting place of their camels, and the she-camel struck me with her lef. Hammad said this or (something) similar to it. Abu Dawud said: Another version transmitted by Yahya b. Sa'id has: Would you swear fifty oaths and make you claim regarding your friend or your slain man ? Bishr, the transmitter, did mention blood. 'Abdah transmitted it from Yahya as transmitted by Hammad. Ibn 'Uyainah has also transmitted it from Yahya, and began with his words: The Jew will exonerate themselves by fifty oaths which they will swear. He did not mention the claim. Abu Dawud said: This is a misunderstanding on the part of Ibn 'Uyainah
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں ( چلتے چلتے ) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو ( اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا: بڑے کو پہلے بولنے دو چنانچہ ان دونوں ( حویصہ اور محیصہ ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے ان لوگوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے: اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں ( ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں: ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے: کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء «تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون» سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يَقُولُ كَذَبَ عَلَى الْحَسَنِ ضَرْبَانِ مِنَ النَّاسِ قَوْمٌ الْقَدَرُ رَأْيُهُمْ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُنَفِّقُوا بِذَلِكَ رَأْيَهُمْ وَقَوْمٌ لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ شَنَآنٌ وَبُغْضٌ يَقُولُونَ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا
Hammad said:I heard Ayyub say: Two kinds of people have lied to al-Hasan: people who believed in free will and they intended that they publicise their belief by it; and people who had enmity with and hostility (for al-Hasan), saying: Did he not say so and so? Did he not say so and so?
ایوب کہتے ہیں حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں: ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں: کیا یہ ان کا قول نہیں؟ کیا یہ ان کا قول نہیں؟ ۔
Narrated by AbudDarda
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ شَىْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً الْكَيْخَارَانِيَّ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ يَعْقُوبَ وَهُوَ خَالُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ يُقَالُ كَيْخَارَانِيٌّ وَكَوْخَارَانِيٌّ ‏.‏
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: There is nothing heavier than good character put in the scale of a believer on the Day of Resurrection. Abu al-Walid said: I heard 'Ata al-Kaikharani say: Abu Dawud said: His name is 'Ata b. Ya'qub. He is the maternal uncle of Ibrahim b. Nafi'. He is called Kaikharani or Kukharani
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی ۔