بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أَرْسَلَ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ كَانَ أَبُو مَعْقِلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَدِمَ قَالَتْ أُمُّ مَعْقِلٍ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَىَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلاَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَىَّ حَجَّةً وَإِنَّ لأَبِي مَعْقِلٍ بَكْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو مَعْقِلٍ صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعْطَاهَا الْبَكْرَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي قَالَ ‏"‏ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً ‏"‏ ‏.‏
AbuBakr ibn AbdurRahman said:The messenger of Marwan whom he sent to Umm Ma'qil reported to me. She said: AbuMa'qil accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) during hajj. When he came (to her) she said: You know that hajj is incumbent on me. They walked until they visited him (i.e. the Prophet) and she asked (him): Messenger of Allah, hajj is due from me, and AbuMa'qil has a camel. AbuMa'qil said: She spoke the truth, I have dedicated it to the cause of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it to her, that is in the cause of Allah. So he gave the camel to her. She then said: Messenger of Allah, I am a woman who has become aged and ill. Is there any action which would be sufficient for me as my hajj? He replied: umrah performed during Ramadan is sufficient as hajj
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد ( جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا ) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎، چنانچہ دونوں ( ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما ) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا ( میرے ساتھ ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُضَاجِعُهَا زَوْجُهَا وَقَالَ مَرَّةً يُبَاشِرُهَا ‏.‏
Aishah said; When anyone amongst us (the wives of the Prophet) menstruated, the Messenger of Allah (May peace be upon him) asked her to tie a waist wrapper (over her body) and then husband lay with her, or he (Shu’bah) said:embraced her
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی ازار ( تہبند ) باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کا شوہر ۱؎ اس کے ساتھ سوتا، ایک بار راوی نے «يضاجعها» کے بجائے «يباشرها» کے الفاظ نقل کئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، - الْمَعْنَى - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏ زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Nafi’ reported on the authority of ‘Abd Allaah bin ‘Umar “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent a detachment towards Najd. ‘Abd Allaah bin ‘Umar also accompanied it. They gained a large number of Camels as a booty. Their portion was twelve Camels each and they were rewarded (in addition) one Camel each. The version of Ibn Mawhab added “The Apostle of Allaah(ﷺ) did not change it”
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل ( انعام ) دئیے گئے۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم کو بدلا نہیں۔
Narrated by Tikhfat al-Ghifari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقْنَا فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Tikhfat al-Ghifari: Ya'ish ibn Tikhfat al-Ghifari said: My father was one of the people in the Suffah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Come with us to the house of Aisha. So we went and he said: Give us food, Aisha. She brought hashishah and we ate. He then said: Give us food, Aisha. She then brought haysah as small in quantity as a pigeon and we ate. He then said: Give us something to drink, Aisha. So she brought a bowl of milk, and we drank. Again he said: Give us something to drink, Aisha. She then brought a small cup and we drank. He then said: If you wish, you may spend the night (here), or if you wish, you may go to the mosque. He said: While I was lying on my stomach because of pain in the lung, a man began to shake me with his foot and then said: This is a method of lying which Allah hates. I looked and saw that he was the Messenger of Allah (ﷺ)
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو ( اسے بھی ) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم لوگوں سے ) فرمایا: تم لوگ چاہو ( ادھر ہی ) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں: تو میں ( مسجد میں ) صبح کے قریب اوندھا ( پیٹ کے بل ) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے ( آنکھ کھول کر ) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّرَّاعُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ فَتُدْرِكُهُ الصَّلاَةُ أَحْيَانًا فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ لَنَا وَهُوَ حَصِيرٌ نَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ ‏.‏
Anas b. Malik said; the prophet (ﷺ) used to visit Umm Sulaim. Sometimes the time for prayer would come and he would pray on out carpet that was really a mat. She (Umm Sulaim) used to wash it with water
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے آتے تھے، تو کبھی نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے۔