بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ بَلَغَنِي عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: Shaving is not a duty laid on women; only clipping the hair is incumbent on them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ ‏"‏ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ قَالَ ‏"‏ دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said about a person who had intercourse with his wife while she was menstruating: He must give one dinar or half a dinar in alms. Abu Dawud said: The correct version says si: One dinar or half a dinar. Shu'bah (a narrator) did not sometimes narrate this tradition as a statement of the Prophet (ﷺ)
سیدنا ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں مجامعت کرتا ہے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”ایک دینار صدقہ کرے یا آدھا دینار۔“ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ صحیح روایت ایسے ہی ہے کہ ”ایک دینار یا آدھا دینار۔“ لیکن شعبہ اس روایت کو بعض اوقات مرفوع بیان نہ کرتے تھے۔ (بلکہ سیدنا ابن عباس ؓ پر موقوف کر دیتے تھے)۔
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِي صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلاَ لَكَ ‏"‏ فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلاَئِي ‏.‏ فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ أَجِبْ ‏.‏ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَىْءٌ بِكَلاَمِي فَجِئْتُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلاَ لَكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَكَ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُونَكَ النَّفْلَ ‏.‏
Mus’ab bin Sa’d reported on the authority of his father (Sa’ad bin Abi Waqqas) “I brought a sword to the Prophet(ﷺ) on the day of the Badr and I said (to him) Apostle of Allaah(ﷺ) , Allaah has healed up my breast from the enemy today, so give me this sword. He said “This sword is neither mine nor yours. I then went away saying “today this will be given to a man who has not been put to trial like me. Meanwhile a messenger and came to me and said “Respond, I thought something was revealed about me owing to my speech. I came and the Prophet (ﷺ) said to me “You asked me for this sword, but this was neither mine nor yours. Now Allaah has given it to me, hence it is yours. He then recited “they ask thee concerning (things taken as) spoils of war. Say “(Such) spoils are at the disposal of Allaah and the Apostle. Abu Dawud said “According to the reading of the Qur’an of Ibn Mas’ud the verse goes. They ask thee concerning (things taken as ) spoils of war
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے، لہٰذا ( اب ) یہ تمہاری ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی«يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «يسألونك عن النفل» ہے۔
Narrated by Ubayd ibn Rifa'ah az-Zuraqi
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ، حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلاَثًا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَكُفَّ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ubayd ibn Rifa'ah az-Zuraqi: The Prophet (ﷺ) said: Invoke a blessing on one who sneezes three times; (and if he sneezes more often), then if you wish to invoke a blessing on him, you may invoke, and if you wish (to stop), then stop
عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلاَ يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلاَ عَنْ يَسَارِهِ فَتَكُونَ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ إِلاَّ أَنْ لاَ يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When any of you prays, he should not place his sandals on his right side or on his left so as to be on the right side of someone else, unless no one is at his left, but should place them between his feet
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے ( اتار کر ) نہ داہنی طرف رکھے اور نہ بائیں طرف، کیونکہ یہ دوسری مصلی کا داہنا ہے، سوائے اس کے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو اور چاہیئے کہ وہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے ۔