Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) had his head shaved at the Farewell Pilgrimage
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي فَيَقْرَأُ وَأَنَا حَائِضٌ .
Aishah said:The Messenger of Allah(ﷺ) would recline on my lap when I was menstruating, then recite the Qur’an
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔
Narrated by Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ، يَذْكُرُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الأَبَاعِرَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ فَلَمَّا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ قَرَأَ عَلَيْهِمْ { إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا } فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتْحٌ هُوَ قَالَ " نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ " . فَقُسِّمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ فِيهِمْ ثَلاَثُمِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَصَحُّ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ وَأَرَى الْوَهَمَ فِي حَدِيثِ مُجَمِّعٍ أَنَّهُ قَالَ ثَلاَثُمِائَةِ فَارِسٍ وَكَانُوا مِائَتَىْ فَارِسٍ .
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari: Mujammi' was one of the Qur'an-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly. The people said to one another: What is the matter with them? They said: Revelation has come down to the Prophet (ﷺ). We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet (ﷺ) standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim. When the people gathered near him, he recited: "Verily We have granted thee a manifest victory. A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, this is a victory. Khaybar was divided among those who had been at al-Hudaybiyyah, and the Messenger of Allah (ﷺ) divided it into eighteen portions. The army consisted of one thousand five hundred men, of which three hundred were cavalry, and he gave two shares to a horseman and one to a foot-soldier. Abu Dawud said: Abu Mu'awiyah's tradition is sounder, and it is one which is followed. I think the error is in the tradition of Mujammi', because he said: "three hundred horsemen." when there were only two hundred
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہی فتح ہے ، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابومعاویہ کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۳ ) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے: تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے ۲؎۔
Narrated by Salim ibn Ubayd al-Ashja'i
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، وَرْقَاءَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْفَجَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الأَشْجَعِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Salim ibn Ubayd al-Ashja'i: The tradition mentioned above (No. 5013) has also been mentioned by Salim ibn Ubayd al-Ashja'i to the same effect from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ قَالَ " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ " . قَالُوا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ جِبْرِيلَ صلى الله عليه وسلم أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا " . وَقَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا " .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: While the Messenger of Allah (ﷺ) was leading his Companions in prayer, he took off his sandals and laid them on his left side; so when the people saw this, they removed their sandals. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he asked: What made you remove your sandals? The replied: We saw you remove your sandals, so we removed our sandals. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Gabriel came to me and informed me that there was filth in them. When any of you comes to the mosque, he should see; if he finds filth on his sandals, he should wipe it off and pray in them
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟ ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے ۔