Narrated by Abd Allah b. 'Umar
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ . قَالَ " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ . قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
Narrated 'Abd Allah b. 'Umar:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, and those who have clipped their hair. He again said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, those who have clipped their hair. He said: and those who clip their hair
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم کر ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کٹوانے والوں پر بھی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُعْطِيهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي فِيهِ وَضَعْتُهُ وَأَشْرَبُ الشَّرَابَ فَأُنَاوِلُهُ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كُنْتُ أَشْرَبُ مِنْهُ .
Aishah said:I would eat flesh from a bone when I was menstruating, then hand it over to the Prophet(ﷺ) and he would put his mouth where I had put my mouth: I would drink, then hand it over to him, and he would put his mouth( at the place) where I drank
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی سے گوشت نوچتی، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں رکھتی تھی اور میں پانی پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھ کر پیتے جہاں سے میں پیتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ آلِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، بِمَعْنَاهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ . زَادَ فَكَانَ لِلْفَارِسِ ثَلاَثَةُ أَسْهُمٍ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu ‘Umrah through a different chain of narrators to the same effect. But this version has “Three Persons” and added “To the horseman three portions.”
اس سند سے بھی ابو عمرہ سے اسی حدیث کے ہم معنی مروی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ ہم تین آدمی تھے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سوار کو تین حصے ملے تھے۔
Narrated by Salim ibn Ubayd
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . فَقَالَ سَالِمٌ وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ . ثُمَّ قَالَ بَعْدُ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَكَ قَالَ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ لَمْ تَذْكُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلاَ بِشَرٍّ قَالَ إِنَّمَا قُلْتُ لَكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ " . ثُمَّ قَالَ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ " . قَالَ فَذَكَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ " وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَرُدَّ - يَعْنِي عَلَيْهِمْ - يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ " .
Narrated Salim ibn Ubayd: Hilal ibn Yasar said: We were with Salim ibn Ubayd when a man from among the people sneezed and said: Peace be upon you. Salim said: And upon you and your mother. Later he said: Perhaps you found something (annoying) in what I said to you. He said: I wished you would not mention my mother with good or evil. He said: I have just said to you what the Messenger of Allah (ﷺ) said. We were in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) when a man from among the people sneezed, saying: Peace be upon you! The Messenger of Allah (ﷺ) said: And upon you and your mother. He then said: When one of you sneezes, he should praise Allah. He further mentioned some attributes (of Allah), saying: The one who is with him should say to him: Allah have mercy on you, and he should reply to them: Allah forgive us and you
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» ( تم پر سلامتی ہو ) تو سالم نے کہا: «عليك وعلى أمك» ( تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی ) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك وعلى أمك» ، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد الله» کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا ( جو چھینک آنے والا کہے ) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم کرے ) کہے، اور چاہیئے کہ وہ ( چھینکنے والا ) ان کو پھر جواب دے، «يغفر الله لنا ولكم» ( اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے ) ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو عَاصِمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ - أَوْ ذِكْرُ مُوسَى وَعِيسَى ابْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا - أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُعْلَةٌ فَحَذَفَ فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ لِذَلِكَ .
‘Abd Allah b. al-Sa’ib said; the Messenger of Allah (ﷺ) led us in the morning prayer at Mecca. He began to recite Surah al-Mu;minin and while he came to description of Moses and Aaron or the description of Moses and Jesus the narrator Ibn ‘Abbad doubts or other narrators differed amongst themselves on this word the prophet (ﷺ) coughed and gave up (recitation) and then bowed ‘Abd Allah b. al-Sa’ib was present seeing all this incident
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورۃ مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ ۱؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے قصے پر پہنچے ( راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ( سابقہ حدیث کے راوی ) اس وقت وہاں موجود تھے ۲؎۔