حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَىْءٍ، مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ فَقَالَ مَا أَدْرِي أَرَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ .
AbuMijlaz said:I asked Ibn Abbas about a thing concerning the throwing of stones at the jamrahs. He said: I do not know whether the Messenger of Allah (ﷺ) threw six or seven pebbles
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَىَّ الْمَاءَ ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ .
On being asked about (washing) the fluid that flows between man and woman ‘A’ishah said:The Messenger of Allah (May peace be upon him) used to take a handful of water and pour it on the fluid. Again, he would take a handful of water and pour it over the fluid
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: ( اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْهَمَ لِرَجُلٍ وَلِفَرَسِهِ ثَلاَثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ .
Ibn ‘Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) allotted three portions for a man and his horse, one for him and two for his horse
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا: ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ عَلَى فِيهِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ . شَكَّ يَحْيَى .
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) sneezed, he placed his hand or a garment on his mouth, and lessened the noise. The transmitter Yahya is doubtful about the exact words khafada or ghadda (lessened)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الآخَرُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: Kurayb the freed slave of Ibn Abbas reported: Abdullah ibn Abbas saw Abdullah ibn al-Harith praying having the back knot of the hair. He stood behind him and began to untie it. He remained standing unmoved (stationary). When he finished his prayer he came to Ibn Abbas and said to him: What were you doing with my head? He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A man who prays with the black knot of hair tied is the one praying pinioned
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔