Narrated by Abu al-Baddah b. 'Asim b. Adi
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدِ، ابْنَىْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا .
Narrated Abu al-Baddah b. 'Asim b. Adi: On the authority of his father: The Messenger of Allah (ﷺ) permitted the herdsmen of the camel to lapidate the the jamrahs one day and omit one day
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ وَلاَ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ .
Aishah said:The Messenger of Allah (May peace be upon him) used to wash his head with marsh-mallow while he was sexually defiled. It was sufficient for him and he did not pour water upon it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر ( دوسرا ) پانی نہیں ڈالتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُقَاتِلَ مَعَهُ فَقَالَ " ارْجِعْ " . ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ " إِنَّا لاَ نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ " .
A’ishah said (this is the version of narrator Yahya). A man from the polytheists accompanied the Prophet (ﷺ) to fight along with him. He said “Go back. Both the narrators (Musaddad and Yahya) then agreed. The Prophet said “We do not want any help from a polytheist.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلاَ يَقُلْ هَاهْ هَاهْ فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Allah likes sneezing but dislikes yawning. So when one of you yawns, he should restrain it as much as possible, and should not say Ha, Ha, for that is from the devil who laughs at him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے ۔
Narrated by AbuRafi
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضُفُرَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ أَقْبِلْ عَلَى صَلاَتِكَ وَلاَ تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ " . يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرِزَ ضُفُرِهِ .
Narrated AbuRafi': Sa'id ibn AbuSa'id al-Maqburi reported on the authority of his father that he saw AbuRafi' the freed slave of the Prophet (ﷺ), passing by Hasan ibn Ali (Allah be pleased with them) when he was standing offering his prayer. He had tied the back knot of his hair. AbuRafi' untied it. Hasan turned to him with anger, AbuRafi' said to him: Concentrate on your prayer and do not be angry: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: This is the seat of the devil, referring to the back knot of the hair
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔