Narrated by Abu al-Baddah b. 'Asim
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِرِعَاءِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ بِيَوْمَيْنِ وَيَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ .
Narrated Abu al-Baddah b. 'Asim: On the authority of his father 'Asim: The Messenger of Allah (ﷺ) gave permission to the herdsmen of the camels not to pass night at Mina and asked them to throw pebbles on the day of sacrifice, and to throw pebbles at the jamrahs the next day and the following two days, and on the day of their return
عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منیٰ میں ) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن ( تیرہویں کو ) رمی کریں گے۔
Narrated by Thawban
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ قَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ - قَالَ ابْنُ عَوْفٍ - وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ أَفْتَانِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنِ الْغُسْلِ، مِنَ الْجَنَابَةِ أَنَّ ثَوْبَانَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمُ، اسْتَفْتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " أَمَّا الرَّجُلُ فَلْيَنْشُرْ رَأْسَهُ فَلْيَغْسِلْهُ حَتَّى يَبْلُغَ أُصُولَ الشَّعْرِ وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَلاَ عَلَيْهَا أَنْ لاَ تَنْقُضَهُ لِتَغْرِفْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ بِكَفَّيْهَا " .
Narrated Thawban: Shurayh ibn Ubayd said: Jubayr ibn Nufayr gave me a verdict about the bath because of sexual defilement that Thawban reported to them that they asked the Prophet (ﷺ) about it. He (the Prophet) replied: As regards man, he should undo the hair of his head and wash it until the water should reach the roots of the hair. But there is no harm if the woman does not undo it (her hair) and pour three handfuls of water over her head
شریح بن عبید کہتے ہیں: جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ أَمِيحُ أَصْحَابِي الْمَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: I supplied water to my companions on the day of Badr
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بدر کے دن ( پانی کم ہونے کی وجہ سے ) صحابہ کے لیے چلو سے پانی کا ڈول بھر رہا تھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، نَحْوَهُ قَالَ " فِي الصَّلاَةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ " .
The tradition mentioned above has also been transmitted in a similar way by Suhail through a different chain of narrators. This version has; “during prayer, so he should hold as far as possible”
سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے ( جب جمائی ) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ أَبِي .
‘A’ishah said; The Messenger of Allah (ﷺ) would not pray on our sheets of cloth or on our quits. ‘Ubaid allah said:My father doubted
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف ۱؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد ( معاذ ) کو شک ہوا ہے ( کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: «شعرنا» کہا، یا: «لحفنا» ) ۔