بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Abd al-Rahman b. Yazid
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏
Narrated 'Abd al-Rahman b. Yazid:On the authority of Ibn Mas'ud: When Ibn Mas'ud came to the largest jamrah, he stood with the House (the Ka'bah) on his left and Mina on his right, and he thew seven pebbles at the jamrah. Then he said: Thus he did throw to whom Surat al-Baqarah was sent down
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ جمرہ کبری ( جمرہ عقبہ ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَيْنَا الضِّمَادُ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحِلاَّتٌ وَمُحْرِمَاتٌ ‏.‏
Aishah said:we took a bath while having an adhesive substance over us (our head) in both states, namely, when wearing a robe for Hajj (ihram) and when wearing ordinary clothes (not meant for Hajj)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم غسل کرتے تھے اور ہمارے سروں پر لیپ لگا ہوتا تھا خواہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے یا حلال ( احرام سے باہر ) ۔
Narrated by Umayr, client of AbulLahm
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَىْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ كَانَ حَرَّمَ اللَّحْمَ عَلَى نَفْسِهِ فَسُمِّيَ آبِي اللَّحْمِ ‏.‏
Narrated Umayr, client of AbulLahm: I was present at Khaybar along with my masters who spoke about me to the Messenger of Allah (ﷺ). He ordered about me, and a sword was girded on me and I was trailing it. He was then informed that I was a slave. He, therefore, ordered that I should be given some inferior goods. Abu Dawud said: This means that he (the Prophet) did not allot a portion of the spoils. Abu Dawud said: Abu 'Ubaid said: As he (the narrator Abi al-Lahm) made eating meat unlawful on himself, he was called Abi al-Lahm (one who hates meat)
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے ( ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا ) حکم دیا، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے ( اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر ) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں ( آبی اللحم ) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa’id al-Khudri reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:When one of you yawns, he should hold his hand over his mouth, for the devil enters
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے، اس لیے کہ شیطان ( منہ میں ) داخل ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلاً ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Ibn Juraij said; I often saw ‘Ata praying while letting his garment trail. Abu Dawud said:This (practice of ‘Ata’) weakens the tradition (narrated by Abu Hurairah)
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل ( سدل کرنا ) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎۔