بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، بِإِسْنَادِهِ فِي مِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَلَمْ يَقُمْ عِنْدَهَا ‏.‏
The aforesaid tradition (No 1963) has also been transmitted by Yazid ibn AbuZiyad with a different chain of narrators. This version adds the words:He (the Prophet) did not stand near it (the jamrah)
اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے اس میں «ولم يقم عندها» اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے کا جملہ زائد ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is sexual defilement under every hair; so wash the hair and cleanse the skin. Abu Dawud said: The tradition narrated by Harith b. Wajih is rejected (Munkar). He is weak (in transmission)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم ( غسل کرتے وقت ) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، وَسَأَلَهُ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَحَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ الْقُرَشِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَهَا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُسْهِمَ لِي فَتَكَلَّمَ بَعْضُ وُلْدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ لاَ تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ يَا عَجَبًا لِوَبْرٍ قَدْ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَالٍ يُعَيِّرُنِي بِقَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَىَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَؤُلاَءِ كَانُوا نَحْوَ عَشَرَةٍ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَرَجَعَ مَنْ بَقِيَ ‏.‏
Abu Hurairah said “I came to Madeenah when the Abu Apostle of Allaah(ﷺ) was in Khaibar, after it was captured. I asked him to give me a share from the booty. A son of Sa’id bin Al ‘As spoke and said “Do not give him any share, Apostle of Allaah(ﷺ). I said “This is the killer of Ibn Qauqal.” (The son of) Sa’id bin Al ‘As said “Oh, how wonderful! A Wabr who came down to us from the peak of Dal blames me of having killed a Muslim whom Allaah honored at my hands and did not disgrace me at his hands. Abu Dawud said “They were about ten persons. Six of them were killed and the remaining returned
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ۱؎ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا: اللہ کے رسول! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا: ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے۔
Narrated by AbuRazin
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ‏"‏ وَلاَ يَقُصُّهَا إِلاَّ عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْىٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuRazin: The Prophet (ﷺ) said: The vision flutters over a man as long as it is not interpreted , but when it is interpreted, it settles. And I think he said: Tell it only to one who loves (i.e. friend) or one who has judgment
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلاً إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنَّ يَتَوَضَّأَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لاَ يَقْبَلُ صَلاَةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said :while a man was praying letting his lower garment trail, the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Go and perform ablution. He, therefore, went and performed ablution and then returned. He (the prophet) again said: Go and perform ablution. He again went, performed ablution and returned. A man said to him (the prophet): Messenger of Allah, why did you order him to perform ablution? He said: he was praying with lower garment trailing, and does not accept the prayer of a man who lets his lower garment trail
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا کر دوبارہ وضو کرو ، چنانچہ وہ گیا اور اس نے ( دوبارہ ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: جا کر پھر سے وضو کرو ، چنانچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔