حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ .
Sulaiman b. 'Amr b. Ahwas reported on the authority of his mother:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) near the Jamrat al-Aqabah (the third or last pillar) riding (on a camel) and I saw a pebble between his fingers. He threw the pebbles and the people also threw (stones at the Jamrah)
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتِ الصَّلاَةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مِرَارٍ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلاَةُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ مَرَّةً .
Narrated Abdullah ibn Umar: There were fifty prayers (obligatory in the beginning); and (in the beginning of Islam) washing seven times because of sexual defilement (was obligatory); and washing the urine from the cloth seven times (was obligatory). The Apostle of Allah (ﷺ) kept on praying to Allah until the number of prayers was reduced to five and washing because of sexual defilement was allowed only once and washing the urine from the clothe was also permitted only once
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں پہلے پچاس ( وقت کی ) نماز ( فرض ہوئی ) تھیں، اور غسل جنابت سات بار کرنے کا حکم تھا، اسی طرح پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو سات بار دھونے کا حکم تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی امت پر برابر اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا ) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نماز پانچ کر دی گئیں، جنابت کا غسل ایک بار رہ گیا، اور پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو اسے بھی ایک بار دھونا رہ گیا۔
Narrated by Sa'id ibn al-'As
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ فَقَالَ أَبَانُ اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لاَ تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ أَبَانُ أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ يَا أَبَانُ " . وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Sa'id ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) sent AbuSa'id ibn al-'As with an expedition from Medina towards Najd. Aban ibn Sa'id and his companions came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Khaybar after it had been captured. The girths of their horses were made of palm fibres. Aban said: Give us a share (from the booty), Messenger of Allah. AbuHurayrah said: I said: Do not give them a share, Messenger of Allah. Aban said: Why are you talking so, Wabr. You have come to us from the peak of Dal. The Prophet (ﷺ) said: Sit down, Aban. The Messenger of Allah (ﷺ) did not give any share to them (from the booty)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا: تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابان تم بیٹھ جاؤ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَالرُّؤْيَا ثَلاَثٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ " . قَالَ " وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ " . يَعْنِي إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ يَعْنِي يَسْتَوِيَانِ .
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:When the time draws near, a believer’s vision can hardly be false. The truer one of them is in his speech, the truer he is in his vision. Visions are of three types: Good visions are glad tidings from Allah, a terrifying vision caused by the devil, and the ideas which come from within a man. So when one sees anything he dislikes, he should get up and pray, and should not tell it to the people. He said : I like a fetter and dislike a shackle on the neck; a fetter indicates being firmly established in religion. Abu Dawud said : “when the time draws near” means that when the day and night are equal
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید ( پیر میں بیڑی پہننے ) کو ( خواب میں ) پسند کرتا ہوں اور غل ( گردن میں طوق ) کو ناپسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے ) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہو جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فِي صَلاَتِهِ خُيَلاَءَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلاَ حَرَامٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا جَمَاعَةٌ عَنْ عَاصِمٍ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَأَبُو الأَحْوَصِ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who lets his garment trail during prayer out of pride, Allah, the Almighty, has nothing to do with pardoning him and protecting him from Hell
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص نماز میں غرور و تکبر کی وجہ سے اپنا تہہ بند ( ٹخنوں سے نیچے ) لٹکائے گا تو اللہ تعالیٰ نہ اس کے لیے جنت حلال کرے گا، نہ اس پر دوزخ حرام کرے گا ؛ یا نہ اس کے گناہ بخشے گا اور نہ اسے برے کاموں سے بچائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے عاصم کے واسطے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہیں میں سے حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابوالاحوص اور ابومعاویہ ہیں۔