Narrated by Harithah ibn Wahb al-Khuza'i,
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ، - وَكَانَتْ أُمُّهُ تَحْتَ عُمَرَ فَوَلَدَتْ لَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَارِثَةُ مِنْ خُزَاعَةَ وَدَارُهُمْ بِمَكَّةَ .
Narrated Harithah ibn Wahb al-Khuza'i,: I prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ) at Mina and the people gathered there in large numbers. He led us two rak'ahs in prayer in the Farewell Pilgrimage. Abu Dawud said: Harithah belonged to the tribe of Khuza'ah, and they had their houses in Mecca
ابواسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً يَغْتَسِلُ بِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ صَبَّ عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِشِمَالِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَغَسَلَهَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ الْمِنْدِيلَ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِهِ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا لاَ يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْعَادَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُسَدَّدٌ فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ كَانُوا يَكْرَهُونَهُ لِلْعَادَةِ فَقَالَ هَكَذَا هُوَ وَلَكِنْ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي هَكَذَا .
Maimunah reported:I placed (the vessel of) water for the Prophet (May peace be upon him) to wash himself because of sexual intercourse. He lowered down the vessel and poured water on his right hand. He then washed it twice or thrice. He then poured water over his private parts and washed them with his left hand. Then he put it on the ground and wiped it. He then rinsed his mouth and snuffed up water, and washed his face and hands. He then poured water over his head and body. Then he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake off water from his body. I mentioned it to Ibrahim. He said that they (companions) did not think there was any harm in using the garment (to wipe the water), but they disliked its use as a habit. Abu Dawud said: Musaddad said: I asked ‘Abd Allah b. Dawud whether they (the companions) disliked to make it a habit. He replied: it (the tradition) goes in a similar way and I found it in a similar way in this book of mine
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دوبار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا «العادة» یا «للعادة» ؟ تو انہوں نے جواب دیا «للعادة» ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔
Narrated by Awf ibn Malik al-Ashja'i ; Khalid ibn al-Walid
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ وَلَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ .
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i ; Khalid ibn al-Walid: The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgement that the killer should have what was taken from the man he killed, and did not make this subject to division into fifths
عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا، اور سلب سے خمس نہیں نکالا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا وَيَقُولُ " إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ " .
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) finished the dawn prayer, he would ask: Did any of you have a dream last night? And he said: All that is left of Prophecy after me is a good vision
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے ( سلام پھیر کر ) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه " إِذَا كَانَ لأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلاَ يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ " .
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying, or reported ‘Umar as saying (the narrator is doubtful):if one of you has two (piece of) cloth, he should pray in them; if he has a single (piece of) cloth, he should use it as a wrapper, and should not hang it upon the shoulder like the Jews
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ۱؎ ۔