Narrated by Az-Zuhri
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَتَمَّ الصَّلاَةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الأَعْرَابِ لأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعْلِمَهُمْ أَنَّ الصَّلاَةَ أَرْبَعٌ .
Narrated Az-Zuhri: Uthman offered complete prayer at Mina for the sake of bedouins who attended (hajj) in large numbers that year. He led the people four rak'ahs in prayer in order to teach them that the prayer (i.e. noon or afternoon prayer) essentially contained four rak'ahs
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها لَئِنْ شِئْتُمْ لأُرِيَنَّكُمْ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَائِطِ حَيْثُ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: If you want, I can certainly show you the marks of the hand of the Messenger of Allah (ﷺ) on the wall where he took a bath because of sexual defilement
شعبی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیوار پر دکھاؤں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیا کرتے تھے ( اور دیوار پر اپنا ہاتھ ملتے تھے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ سَأَلْتُ ثَوْرًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، نَحْوَهُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by ‘Awf bin Malik Al Ashja’I through a different chain of narrators
اس سند سے بھی عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ } فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى فَقَالَ { إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا } .
Ibn ‘Abbas said :The verse “And the poets it is those straying in evil who follow them. He (Allah) then abrogated it and made an exception saying: Except those who believe and work righteousness, engage much in the remembrance of Allah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «والشعراء يتبعهم الغاوون» شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں ( الشعراء: ۲۲۴ ) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے «إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا» سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ( الشعراء: ۲۲۷ ) میں بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ أَتَيْنَا جَابِرًا - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَىَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لاَ تَسْقُطُ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُنِي وَأَنَا لاَ أَشْعُرُ ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَىَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا جَابِرُ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ " .
‘Ubadah b. al-Samit said:we came to Jabir b. ‘Abd Allah. He said : I (Jabir) accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) in a battle. He got up to pray. I had a sheet of cloth upon me, and I began to cross both the ends, but they did not reach (my shoulders). It had fringes which I turned over and crossed the two ends, and bowed down retaining it with my neck lest it should fall down. Then I came and stood on the left side of the Messenger of Allah (ﷺ). He then took and brought me around him and set me on his right side. Then Ibn Sakhr came and stood on his left side. he then took us with his both hands and made us stand behind him. The Messenger of Allah (ﷺ) began to look at me furtive glances, but I could not understand. When I understood, he hinted at me tie the wrapper. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished the prayer, he said (to me): O Jabir. I said; Yes, Messenger of Allah. He said; if it (the sheet) is wide, cross both its ends (over the shoulders); if it is tight, tie it over your loins
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا ( رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ( کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ) ، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جابر! ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو ۔