Narrated by Az-Zuhri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ لَمَّا اتَّخَذَ عُثْمَانُ الأَمْوَالَ بِالطَّائِفِ وَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا صَلَّى أَرْبَعًا قَالَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ الأَئِمَّةُ بَعْدَهُ .
Narrated Az-Zuhri: When Uthman placed his property at at-Ta'if and intended to settle there, he prayed four rak'ahs. The rulers after him followed the same practice
زہری کہتے ہیں جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں، وہ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ غَسَلَ مَرَافِغَهُ وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَإِذَا أَنْقَاهُمَا أَهْوَى بِهِمَا إِلَى حَائِطٍ ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْوُضُوءَ وَيُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ .
Aishah said; When the Messenger of Allah (May peace be upon him) intended to take a bath because of sexual defilement, he would begin with his hands and wash them. Then he would wash the joints of his limbs and pour water upon him when he cleansed both his (hands), he would rub them on the wall (to make them perfectly clean with the dust). Then he would perform ablution and pour water over his head
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں پہونچوں کو، پھر اپنے جوڑوں کو دھوتے ( مثلاً کہنی بغل وغیرہ جہاں میل جم جاتا ہے ) اور ان پر پانی بہاتے، جب دونوں ہاتھ صاف ہو جاتے تو انہیں ( مٹی سے ) دیوار پر ملتے، ( تاکہ مکمل صاف ہو جائے ) پھر وضو شروع کرتے اور اپنے سر پر پانی ڈالتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ فَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرَقِ وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذْهَبٌ وَسِلاَحٌ مُذْهَبٌ فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يُغْرِي بِالْمُسْلِمِينَ فَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ فَخَرَّ وَعَلاَهُ فَقَتَلَهُ وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلاَحَهُ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ قَالَ عَوْفٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ . قُلْتُ لَتَرُدَّنَّهُ عَلَيْهِ أَوْ لأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ عَوْفٌ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا خَالِدُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ " قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَكْثَرْتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا خَالِدُ رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ " . قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ لَهُ دُونَكَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا ذَلِكَ " فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا خَالِدُ لاَ تَرُدَّ عَلَيْهِ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي لَكُمْ صِفْوَةُ أَمْرِهِمْ وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ " .
‘Awf bin malik Al Ashja’I said “I went out with Zaid bin Harith in the battle of Mutah. For the reinforcement of the Muslim army a man from the people of Yemen accompanied me. He had only his sword with him. A man from the Muslims slaughtered a Camel. The man for the reinforcement asked him for a part of its skin which he gave him. He made it like the shape of a shield. We went on and met the Byzantine armies. There was a man among them on a reddish horse with a golden saddle and golden weapons. This Byzantinian soldiers began to attack the Muslims desperately. The man for reinforcement sat behind a rock for (attacking) him. He hamstrung his horse and overpowered him and then killed him. He took his horse and weapons. When Allah, Most High, bestowed victory on the Muslims. Khalid bin Al Walid sent for him and took his spoils. ‘Awf said “I came to him and said “Khalid, do you know that the Apostle of Allaah(ﷺ) had decided to give spoils to the killer? He said “Yes, I thought it abundant. I said “You should return it to him, or I shall tell you about it before the Apostle of Allaah(ﷺ). But he refused to return it. ‘Awf said “We then assembled with the Apostle of Allaah(ﷺ). I told him the story of the man of reinforcement and what Khalid had done. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Khalid, what made you do the work you have done?” He said “Apostle of Allaah(ﷺ), I considered it to be abundant. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Khalid, return it to him what you have taken from him.” ‘Awf said “I said to him “here you are, Khalid. Did I not keep my word? The Apostle of Allaah(ﷺ) said “What is that? I then informed him.” He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) became angry and said “Khalid, do not return it to him. Are you going to leave my commanders? You may take from them what is best for you and eave to them what is worst
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی میرے ساتھ ہو گیا، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی، اس نے اسے دے دی، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا، اس پر ایک سنہری زین تھی، ہتھیار بھی سنہرا تھا، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے، وہ گر پڑا، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مددی کے پاس کسی کو بھیاد اور سامان میں سے کچھ لے لیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: خالد! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے لیے سلب کا فیصلہ کیا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا، تو میں نے کہا: تم یہ سامان اس کو دے دو، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا، لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد رضی اللہ عنہ کی سلوک بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟ خالد نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ جانا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: خالد! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے آپ سے بتایا۔ عوف کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے، اور فرمایا: خالد! واپس نہ دو، کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میرے امیروں کو چھوڑ دو کہ وہ جو اچھا کام کریں اس سے تم نفع اٹھاؤ اور بری بات ان پر ڈال دیا کرو ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، وَهِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو مَنْ قَالَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) used to setup a pulpit in the mosque for Hassan who would stand on it and satirise those who spoke against the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) would say: The spirit of holiness (i.e. Gabriel) is with Hassan so long as he speaks in defence of the Messenger of Allah (ﷺ)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً روح القدس ( جبرائیل ) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ وَالصَّوَابُ أَبُو حَرْمَلٍ عَنْ - مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ .
‘Abd al-rahman b. Abu Bakr reported on the authority of his father Jabir b. ‘Abd Allah led us in prayer in a single shirt, having no sheet upon him. When he finished the prayer he said:I witnesses the Messenger of Allah (ﷺ) praying in a shirt
عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔