Narrated by Rafi' ibn Amr al-Muzani
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ - رضى الله عنه - يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَاعِدٍ وَقَائِمٍ .
Narrated Rafi' ibn Amr al-Muzani: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) addressing the people at Mina (on the day of sacrifice) when the sun rose high (i.e. in the forenoon) on a white mule, and Ali (Allah be pleased with him) was interpreting on his behalf; some people were standing and some sitting
رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ۱؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلاَ يَذْكُرُ احْتِلاَمًا قَالَ " يَغْتَسِلُ " . وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلاَ يَجِدُ الْبَلَلَ قَالَ " لاَ غُسْلَ عَلَيْهِ " . فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَرْأَةُ تَرَى ذَلِكَ أَعَلَيْهَا غُسْلٌ قَالَ " نَعَمْ إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) was asked about a person who found moisture (on his body or clothes) but did not remember the sexual dream. He replied: He should take a bath. He was asked about a person who remembered that he had a sexual dream but did not find moisture. He replied: Bath is not necessary for him. Umm Salamah then asked: Is washing necessary for a woman if she sees that (in her dream)? He replied: Yes. Woman are counterpart of men
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص ( کپڑے پر ) تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر وہ تری نہ دیکھے، تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے ۔ یہ سن کر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر عورت ( خواب میں ) یہی دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیونکہ عورتیں ( اصل خلقت اور طبیعت میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ - عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَى فِي النَّاسِ فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهُ وَيُقَسِّمُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ . فَقَالَ " أَسَمِعْتَ بِلاَلاً يُنَادِي " . ثَلاَثًا . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ " . فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ " كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ عَنْكَ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: When the Messenger of Allah (ﷺ) gained booty he ordered Bilal to make a public announcement. He made a public announcement, and when the people brought their booty, he would take a fifth and divide it. Thereafter a man brought a halter of hair and said: Messenger of Allah, this is a part of the booty we got. He asked: Have you heard Bilal making announcement three times? He replied: Yes. He asked: What did prevent you from bringing it? He made some excuse, to which he said: Be (as you are), you may bring it on the Day of Judgment, for I shall not accept it from you
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ لوگ اپنا مال غنیمت لے کر آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیتے، ایک شخص اس تقسیم کے بعد بال کی ایک لگام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بھی اسی مال غنیمت میں سے ہے جو ہمیں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے بلال رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ آواز لگاتے سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے لانے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ تو اس نے آپ سے کچھ عذر بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ لے جاؤ، قیامت کے دن لے کر آنا، میں تم سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَحَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنُهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ فَقَالَ عَمْرٌو لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَقَدْ رَأَيْتُ أَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ " .
One day when a man got up and spoke at length Amr ibn al-'As said If he had been moderate in what he said:It would have been better for him. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: I think (or, I have been commanded) that I should be brief in what I say, for brevity is better
ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور ( اس سے پہلے ) ایک شخص کھڑے ہو کر بے تحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا: اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَىْءٌ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:None of you should pray in a single garment of which no part comes over the shoulders
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو ۔