بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Abu Umamah
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - الْحَرَّانِيُّ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْكَلاَعِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ خُطْبَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ ‏.‏
Narrated Abu Umamah:I heard the address of the Messenger of Allah (ﷺ) at Mina on the day of sacrifice
سلیم بن عامر کلاعی کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے منیٰ میں یوم النحر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الأَزْرَقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، - إِمَامُ مَسْجِدِ صَنْعَاءَ - حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مَقَامِهِ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ ‏ "‏ مَكَانَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ حَرْبٍ وَقَالَ عَيَّاشٌ فِي حَدِيثِهِ فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ ‏.‏
Abu Hurairah reported:The prayer (in congregation) began and people stood in their rows. The Messenger of Allah (May peace be upon him) came out (from his residence). When he stood at his proper place he recalled that he did not take a bath. He then said to the people: (Remain standing) at your places. Then he returned to his house and came out upon us after taking a bath while the drops of water were coming down from his head. We were standing in the rows (of prayer). This is the version of Ibn Harb. ‘Ayyash reported in his version: we kept on waiting for him while we were standing until he came upon us after he had taken a bath
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) نماز کے لیے اقامت ہو گئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر ( آ کر ) کھڑے ہو گئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا: تم سب اپنی جگہ پر رہو ، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس ( واپس ) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے: ہم لوگ اسی طرح ( صف باندھے ) کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ غسل کئے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ يَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ وَرِقًا إِلاَّ الثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ وَالأَمْوَالَ - قَالَ - فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ وَادِي الْقُرَى وَقَدْ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادِي الْقُرَى فَبَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said “We went out along with the Apostle of Allaah(ﷺ) in the year of Khaibar. We did not get gold or silver in the booty of war except clothes, equipment and property. The Apostle of Allaah(ﷺ) sent (a detachment) towards Wadi Al Qura. The Apostle of Allaah(ﷺ) was presented a black slave called Mid’am. And while they were in Wadi Al Qura and Mid’am was unsaddling a Camel belonging to the Apostle of Allaah(ﷺ) he was struck by a random arrow which killed him. The people said “Congratulations to him, he will go to paradise. But the Apostle of Allaah(ﷺ) said “Not at all. By Him in Whose hand my soul is the cloak he took on the day of Khaibar from the spoils which was not among the shares divided will blaze with fire upon him. When they (the people) heard that, a man brought a sandal strap or two sandal straps to the Apostle of Allaah(ﷺ). The Apostle of Allaah(ﷺ) said “A sandal strap of fire or two sandal straps of fire.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے سال نکلے، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی جانب چلے اور آپ کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا، جب لوگ وادی القری میں پہنچے تو مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا، اتنے میں اس کو ایک تیر آ لگا اور وہ مر گیا، لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت کی مبارک بادی ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے تقسیم سے قبل لی تھی اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے ، جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کا ایک تسمہ ہے یا فرمایا: آگ کے دو تسمے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ - يَعْنِي لِبَيَانِهِمَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah b. ‘Umar said :When two men who came from the east made a speech and the people were charmed with their eloquence, the Messenger of Allah (May peace be upon him) said: In some eloquent speech there is magic
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی ۱؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑ گئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ۲؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ «إن من البيان لسحرا» کہا یا «إن بعض البيان لسحر» کہا۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said; The Messenger of Allah (ﷺ) was asked shout the validity of prayer in a single garment. The prophet (ﷺ) said:Does every one of you has two garment?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔