Narrated by Harmas ibn Ziyad al-Bahili
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ يَوْمَ الأَضْحَى بِمِنًى .
Narrated Harmas ibn Ziyad al-Bahili: I saw the Prophet (ﷺ) addressing the people on his she-camel al-Adba', on the day of sacrifice at Mina
ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ فَكَبَّرَ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ ثُمَّ قَالَ " كَمَا أَنْتُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَوْنٍ وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ مُرْسَلاً عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَكَبَّرَ ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَوْمِ أَنِ اجْلِسُوا فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ فِي صَلاَةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَبَّرَ .
This tradition has been reported by Hammad b. Salamah through the same chain of narrators and conveying a similar meaning. This version adds in the beginning:He uttered TAKBIR (Allahu akbar), and in the end : when he finished the prayer, he said : I am a human being; I was sexually defiled. Abu Dawud said : This tradition has been narrated al-Zuhri from Abu Salamah b. ‘Abd al-Rahman on the authority of Abu Hurairah. It says: When he stood at the place of prayer, we waited for his utterance of takbir (Allah-u akbar).He went away and said : (remain) as you were. Another version on the authority of Muhammad reporting from the Prophet (ﷺ) says: He uttered takbir (Allah-u-Akbar) and then made a sign to the people, meaning "sit down". He then went away and took a bath. This tradition has also been narrated through a different chain. It says: The Messenger of Allah (ﷺ) uttered takbir (Allah-u-akbar) in a prayer. Abu Dawud said: Another version through a different chain says; The Prophet (May peace be upon him) uttered takbir (Allah-u akbar)
اس طریق سے بھی حماد بن سلمہ نے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس کے شروع میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی ، اور آخر میں یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، میں جنبی تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: جب آپ مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے اور ہم آپ کی تکبیر ( تحریمہ ) کا انتظار کرنے لگے، تو آپ ( وہاں سے ) یہ فرماتے ہوئے پلٹے کہ تم جیسے ہو اسی حالت میں رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن عون اور ہشام نے اسے محمد سے، محمد بن سیرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور غسل فرمایا۔ اور اسی طرح اسے مالک نے اسماعیل بن ابوحکیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے ( مرسلاً ) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ہم سے ابان نے بیان کیا ہے، ابان یحییٰ سے، اور یحییٰ ربیع بن محمد سے اور ربیع بن محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی۔
Narrated by Zayd ibn Khalid al-Juhani
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَاهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لاَ يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani: A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) died on the day of Khaybar. They mentioned the matter to the Messenger of Allah. He said: Offer prayer over your companion. When the faces of the people looked perplexed, he said: Your companion misappropriated booty in the path of Allah. We searched his belongings and found some Jewish beads not worth two dirhams
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہو گیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی نے جہاد میں خیانت کی ہے ، پھر جب ہم نے اس کا سامان ڈھونڈا تو یہود کے مونگوں میں سے ہمیں چند مونگے ملے جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلاَمِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: On the Day of resurrection Allah will not accept repentance or ransom from him who learns excellence of speech to captivate thereby the hearts of men, or of people
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کر لے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل ( عبادت ) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ بُغَيْلٍ الْمُرْهِبِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلاَةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاَةِ .
Anas said:The prophet (ﷺ) persuaded them to say prayer in congregation and prohibited them to leave before he goes away from the prayer
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی مسلمانوں کو ) نماز کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے نماز سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا۔