بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ فَقَالَ ‏"‏ لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ ‏"‏ وَالأَنْصَارُ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ‏"‏ ثُمَّ لْيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
AbdurRahman ibn Mu'adh said that he heard a man from the Companions of the Prophet (ﷺ) say:The Prophet (ﷺ) addressed the people at Mina and he made them stay in their dwellings. He then said: The Muhajirun (Emigrants) should stay here, and he made a sign to the right side of the qiblah, and the Ansar (the Helpers) here, and he made a sign to the left side of the qiblah; the people should stay around them
عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا، اور انصار یہاں اتریں، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَبِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا جُنُبٌ فَاخْتَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُسْلِمَ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنِي بَكْرٌ ‏.‏
Abu Hudhaifah reported :The Messenger of Allah (ﷺ) met me on one of the streets of medina while I was sexually defiled. I retreated and went away. I then took a bath and came to him. He asked : Where were you, O Abu Hurairah? I replied : As I was sexually defiled, I disliked to sit in your company without purification. He exclaimed: Glory be to Allah! A Muslim is not defiled. He (Abu Dawud) said : The version of this tradition reported by Bishr has the chain: Humaid reported from Bakr
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے ایک راستے میں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی، میں اس وقت جنبی تھا، اس لیے پیچھے ہٹ گیا اور ( وہاں سے ) چلا گیا، پھر غسل کر کے واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں ( چلے گئے ) تھے؟ ، میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، اس لیے ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھنا مجھے نامناسب معلوم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْعَزِيزِ، - شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الأُرْدُنِّ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ رَابَطْنَا مَدِينَةَ قِنَّسْرِينَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ فَلَمَّا فَتَحَهَا أَصَابَ فِيهَا غَنَمًا وَبَقَرًا فَقَسَمَ فِينَا طَائِفَةً مِنْهَا وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ فَلَقِيتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ مُعَاذٌ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ فَأَصَبْنَا فِيهَا غَنَمًا فَقَسَمَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَائِفَةً وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Jabal: AbdurRahman ibn Ghanam said: We were stationed at the frontiers of the city of Qinnisrin with Shurahbil ibn as-Simt. When he conquered it, he got sheep and cows there. He distributed some of them amongst us, and deposited the rest of them in the spoils of war. I met Mu'adh ibn Jabal and mentioned it to him. Mu'adh said: we went on an expedition of Khaybar along with the Messenger of Allah (ﷺ) and we got spoils there. The Messenger of Allah (ﷺ) divided them among us and placed the rest of them in the booty
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے بیان کیا، تو آپ نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn as-Sa'ib ibn Yazid
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لاَعِبًا وَلاَ جَادًّا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ ‏"‏ لَعِبًا وَلاَ جِدًّا ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا ‏"‏ ‏.‏ لَمْ يَقُلِ ابْنُ بَشَّارٍ ابْنِ يَزِيدَ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abdullah ibn as-Sa'ib ibn Yazid: The Messenger of Allah (ﷺ) said: None of you should take the property of his brother in amusement (i.e. jest), nor in earnest. The narrator Sulayman said: Out of amusement and out of earnest. If anyone takes the staff of his brother, he should return it. The transmitter Ibn Bashshar did not say "Ibn Yazid, and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان ( بلا اجازت ) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎ ۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا‏ ‏» کے بجائے ) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ ( ضرورت پوری کر کے ) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ، أَبَانُ وَغَيْرُهُ - عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ ‏.‏
Al-Bara b.‘Azib said ; we used to pray along with the prophet (ﷺ); none of us bowed his back until he saw that the prophet (ﷺ) bowed (his back)
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے ) نہ دیکھ لیتا۔