Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَعْنِي - عِنْدَهَا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) sent Umm Salamah on the night before the day of sacrifice and she threw pebbles at the jamrah before dawn. She hastened (to Mecca) and performed the circumambulation. That day was the one the Messenger of Allah (ﷺ) spent with her
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات ( دسویں رات ) کو ( منیٰ کی طرف ) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ .
‘A’ishah reported:when the prophet (ﷺ) intended to sleep while he was sexually defiled, he would perform ablution as he did for prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلاَمًا، لاِبْنِ عُمَرَ أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يُقْسَمْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ غَيْرُهُ رَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ .
Narrated Abdullah ibn Umar: Nafi' said that a slave of Ibn Umar ran away to the enemy, and then the Muslims overpowered them. The Messenger of Allah (ﷺ) returned him to Ibn Umar and that was not distributed (as a part of booty). Abu Dawud said: The other narrators said: Khalid b. al-Walid returned him to him (Ibd 'Umar)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي - وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " . أَوْ قَالَ " شَرًّا " .
Safiyyah said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) was in the I’TIKAF(seclusion in the mosque). I came to visit him at night . I talked to him, got up and turned my back. He got up with me to accompany me. He was living in the house of Usamah b. Zaid. Two men of the Ansar passed by him. When they saw the Messenger of Allah (May peace be upon him), they walked quickly. The prophet (May peace be upon him) said: Be at ease; she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Glory be to Allah, Messenger of Allah! He said: The devil flows in man as the blood flows in him. I feared that he might inject something in your hearts, or he said “evil” (instead of something)
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! ( یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں ) آپ نے فرمایا: شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون ( رگوں میں ) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ " قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ " . قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ صلى الله عليه وسلم .
Anas b. Malik said that his grandmother Mulaikah the Messenger of Allah (ﷺ) to take meals which she prepared for him. He took some of it and prayed. He said :Get up, I shall lead you in prayer. Anas said: I got up and took a mat which had become black on account of long use. I then washed it with water. The Messenger of Allah (ﷺ) stood upon it. I and the orphan (Ibn Abi Dumairah, the freed slave of the prophet) stood in a row behind him. The old women stood behind us. He then led us in two raka'at of prayer and left
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: تم لوگ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہو گئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت ( ملیکہ ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس ہوئے۔