بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
3
38 hadith
Narrated by Ubayy b. Ka'b
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحُدِّثْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، - وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ - عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطُّوَلِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطُّوَلِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا ‏.‏
Narrated Ubayy b. Ka'b:An eclipse of the sun took place in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The Prophet (ﷺ) led them in prayer. He recited one of the long surahs, bowing five times and prostrating himself twice. He then stood up for the second rak'ah, recited one of the long surahs, bowed five times, prostrated himself twice, then sat where he was facing the qiblah and made the supplication till the eclipse was over
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( دو رکعت ) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ‏.‏
The above mentioned tradition has also been reported by 'Uqail through a different chain of narrators. He said:He would delay the evening prayer till he combined the evening and the night prayers when the twilight disappeared
اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: May Allah show mercy to a man who prays four rak'ahs before the afternoon prayer
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، قَالَ سَأَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَقَالَ لِي فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقُلْتُ مَا أُحَزِّبُهُ ‏.‏ فَقَالَ لِي نَافِعٌ لاَ تَقُلْ مَا أُحَزِّبُهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَرَأْتُ جُزْءًا مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ‏.‏
Ibn al-Had said:Nafi' b. Jubair asked me: In how many days do you recite the Qur'an ? I said: I have not fixed any part from it for daily round. Nafi' said to me: Do not say: I do not fix any part of it for daily round, for the Messenger of Allah (ﷺ) said: I recited a part of the Qur'an. The narrator Ibn al-Had said: I think I have transmitted this tradition from al-Mughirah b. Shu'bah
ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ۱؎ ۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ ‏.‏ قُلْتُ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ قَالَتْ كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ ‏.‏
Abd Allah b. Abu Qais said:I asked 'Aishah about the witr observes by the Messenger of Allah (ﷺ). She replied: Sometime he observed the witr prayer in the early hours of the night, sometimes he observed it at the end of it. I asked: How did he recite the Qur'an ? Did he recite the Qur'an quietly or loudly ? She replied: He did it in any way. Sometimes he recited quietly and sometimes loudly, sometimes he took bath and then slept and sometimes he performed ablution and then slept. Abu Dawud said: The narrators other than Qutaibah said: This refer to his bath due to sexual defilement
عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالنُّفَيْلِيُّ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
This tradition has also been transmitted by Mu’adh through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by Al-Harith ibn Amr as-Sahmi
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي زُرَارَةُ بْنُ كُرَيْمٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو السَّهْمِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ قَالَ فَتَجِيءُ الأَعْرَابُ فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ قَالُوا هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ ‏.‏ قَالَ وَوَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ لأَهْلِ الْعِرَاقِ ‏.‏
Narrated Al-Harith ibn Amr as-Sahmi: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) when he was at Mina, or at Arafat. He was surrounded by the people. When the bedouins came and saw his face, they would say: This is a blessed face. He said: He (the Prophet) appointed Dhat Irq as the place of putting on ihram for the people of Iraq
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا، تو اعراب ( دیہاتی ) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْخَالَتَيْنِ وَالْعَمَّتَيْنِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) abominated the combination of paternal and maternal aunts and the combination of two maternal aunts and two paternal aunts in marriage
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کو ( نکاح میں ) جمع کرنے، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو ( نکاح میں ) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ - أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ - أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا يُغْنِي عَنِّي إِلاَّ كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعْرَةُ ‏.‏ لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ ثُمَّ قَالَ لِجُلَسَائِهِ ‏"‏ أَتَرَوْنَ فُلاَنًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ وَفُلاَنًا يُشْبِهُ مِنْهُ - كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ يَزِيدَ ‏"‏ طَلِّقْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَلِمْتُ رَاجِعْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَتَلاَ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ‏}‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَرَدَّهَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُّ لأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَهْلَهُ أَعْلَمُ بِهِ أَنَّ رُكَانَةَ إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاحِدَةً ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: Abd Yazid, the father of Rukanah and his brothers, divorced Umm Rukanah and married a woman of the tribe of Muzaynah. She went to the Prophet (ﷺ) and said: He is of no use to me except that he is as useful to me as a hair; and she took a hair from her head. So separate me from him. The Prophet (ﷺ) became furious. He called on Rukanah and his brothers. He then said to those who were sitting beside him. Do you see so-and-so who resembles Abdu Yazid in respect of so-and-so; and so-and-so who resembles him in respect of so-and-so? They replied: Yes. The Prophet (ﷺ) said to Abdu Yazid: Divorce her. Then he did so. He said: Take your wife, the mother of Rukanah and his brothers, back in marriage. He said: I have divorced her by three pronouncements, Messenger of Allah. He said: I know: take her back. He then recited the verse: "O Prophet, when you divorce women, divorce them at their appointed periods." Abu Dawud said: The tradition narrated by Nafi' b. 'Ujair and 'Abd Allah b. Yazid b. Rukanah from his father on the authority of his grandfather reads: Rukanah divorced his wife absolutely (i.e. irrevocable divorce). The Prophet (ﷺ) restored her to him. This version is sounder (than other versions), for they (i.e. these narrators) are the children of his man, and the members of the family are more aware of his case. Rukanah divorced his wife absolutely (i.e. three divorces in one pronouncement) and the Prophet (ﷺ) made it a single divorce
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں ( ملتی ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: اسے طلاق دے دو ، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو ، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» ( سورۃ الطلاق: ۱ ) اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت ( حدیث نمبر: ۲۲۰۶ ) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی شمار کیا ۱؎۔
Narrated by Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِهَا ثُمَّ بَالَ فَقُلْنَا انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ ‏.‏ فَسَمِعَ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ‏"‏ جِلْدَ أَحَدِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ جَسَدَ أَحَدِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Amr ibn al-'As: AbdurRahman ibn Hasanah reported: I and Amr ibn al-'As went to the Prophet (ﷺ). He came out with a leather shield (in his hand). He covered himself with it and urinated. Then we said: Look at him. He is urinating as a woman does. The Prophet (ﷺ), heard this and said: Do you not know what befell a person from amongst Banu Isra'il (the children of Israel)? When urine fell on them, they would cut off the place where the urine fell; but he (that person) forbade them (to do so), and was punished in his grave. Abu Dawud said: One version of Abu Musa has the wording: "he cut off his skin". Another version of Abu Musa goes: "he cut off (part of) his body
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں: : میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( باہر ) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا: آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح ( چھپ کر ) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا؟ ان میں سے جب کسی شخص کو ( اس کے جسم کے کسی حصہ میں ) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔
Narrated by Ammar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Ammar: AbuIshaq reported on the authority of Silah: We were with Ammar on the day when the appearance of the moon was doubtful. (The meat of) goat was brought to him. Some people kept aloof from (eating) it. Ammar said: He who keeps fast on this day disobeys AbulQasim (i.e. the Prophet) (ﷺ)
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک ( بھنی ہوئی ) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی ( کھانے سے احتراز کرتے ہوئے ) الگ ہٹ گیا اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے ( شک والے ) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
Narrated by Mu'adh ibn Anas al-Juhani
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الصَّلاَةَ وَالصِّيَامَ وَالذِّكْرَ تُضَاعَفُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Anas al-Juhani: The Messenger of Allah (ﷺ) said: (The reward of) prayer, fasting and remembrance of Allah is enhanced seven hundred times over (the reward of) spending in Allah's path
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دوران جہاد ) نماز، روزہ اور ذکر الٰہی ( کا ثواب ) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: We sacrificed along with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah a camel for seven and a cow for seven people
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔
Narrated by Amr b. Suh'aib
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ، أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ، عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يَعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ فَقَالَ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى بِعِتْقِ مِائَةِ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ بَلَغَهُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather told that Al-'As ibn Wa'il left his will that a hundred slaves should be emancipated on his behalf. His son Hisham emancipated fifty slaves and his son Amr intended to emancipate the remaining fifty on his behalf, but he said: I should ask first the Messenger of Allah (ﷺ). He, therefore, came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my father left in his will that a hundred slaves should be emancipated on his behalf and Hisham has emancipated fifty on his behalf and fifty remain. Shall I emancipate them on his behalf? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Had he been a Muslim and you had emancipated slaves on his behalf, or given sadaqah on his behalf, or performed the pilgrimage, that would have reached him
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
Narrated by Wathilah ibn al-Asqa
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَرْأَةُ تُحْرِزُ ثَلاَثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لاَعَنَتْ عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Wathilah ibn al-Asqa': The Prophet (ﷺ) said: A woman gets inheritance from the three following: one she has set free, a foundling, and her child about whom she has invoked a curse on herself if she was untrue in declaring he was not born out of wedlock
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے: اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی، راہ میں پائے ہوئے بچے کی، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو ( یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو ) تو عورت اس کی وارث ہو گی ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا أُوتِيكُمْ مِنْ شَىْءٍ وَمَا أَمْنَعُكُمُوهُ إِنْ أَنَا إِلاَّ خَازِنٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: It is not on my own that I give you or withhold from you: I am just a treasure, putting it where I have been commanded
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو کوئی چیز نہ اپنی طرف سے دیتا ہوں اور نہ ہی اسے دینے سے روکتا ہوں میں تو صرف خازن ہوں میں تو بس وہیں خرچ کرتا ہوں جہاں مجھے حکم ہوتا ہے ۔
Narrated by Ubayd ibn Khalid as-Sulami,
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ - قَالَ ‏ "‏ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ubayd ibn Khalid as-Sulami,: A man from the Companions of the Prophet (ﷺ), said: The narrator Sa'd ibn Ubaydah narrated sometimes from the Prophet (ﷺ) and sometimes as a statement of Ubayd (ibn Khalid): The Prophet (ﷺ) said: Sudden death is a wrathful catching
صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا) اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎ ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ‏:‏ أَكْثَرُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ ‏:‏ ‏ "‏ لاَ، وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:The oath which the Messenger of Allah (ﷺ) often used was this: No, by Him who overturns the hearts
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اس طرح قسم کھاتے تھے: «لا، ‏‏‏‏ ومقلب القلوب» نہیں! قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) owed me a debt and gave me something extra when he paid it
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاهُ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْهُ بِعَشْرَةٍ ‏.‏
Abu Hurairah said:Do not go our to meet what is being brought (to market for sale). If anyone does so and buys some of it, the owner of merchandise has a choice (of canceling the deal) when it comes to the market. Abu 'Ali said: I heard Abu Dawud say: Sufyan said: none of you must buy in opposition to one another ; that is he says: I have a better one for ten (dirhams)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر ( ارزاں ) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے ( کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ( خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے ) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلاَ آلُو ‏.‏ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدْرَهُ وَقَالَ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Some companions of Mu'adh ibn Jabal said:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to send Mu'adh ibn Jabal to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allah's Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allah's Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ) and in Allah's Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah (ﷺ) then patted him on the breast and said: Praise be to Allah Who has helped the messenger of the Messenger of Allah to find something which pleases the Messenger of Allah
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: relate traditions from the children of Isra'il; there is no harm
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ قَالاَ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ‏.‏
Ibn ‘Umar and Ibn ‘Abbas said :We testify that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade (the use of) gourds, green jars, receptacles smeared with pitch, and hollowed stumps of palm-trees
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ مُسَدَّدٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ وَإِنْ سَمِعَ الإِقَامَةَ وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الإِمَامِ ‏.‏
Ibn ‘Umar reported the Prophet(ﷺ) as sayings:When the evening meal is brought before one of you and the congregational prayer is also ready, he should not get up until he finishes(eating). Musaddad’s version adds: When the evening meal was put before ‘Abd Allah b. ‘Umar, or it was brought to him, he did not get up until he finished it, even if he heard call to prayer(just before it), and even if he heard the recitation of the Qur’an by the leader-in-prayer
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو ( نماز کے لیے ) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ ( کھانے سے ) فارغ ہو لے ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرُّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Sa’d b. Abl Waqqas reported the prophet (ﷺ) as saying:He who has a morning meal of seven ‘Ajwah dates will not suffer from any harm that day through poison or magic
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَقَالَ ‏ "‏ كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلاً عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) took a man who was suffering from tubercular leprosy by the hand; he then put it along with his own hand in the dish and said: Eat with confidence in Allah and trust in Him
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported the Prophet (ﷺ) as saying:If a man is shared by two men, and one of them emancipates his share, a price of the slave will be fixed, not more or less, and he will be emancipated by him in case he is rich
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎ ۔
Narrated by Umm Salamah, wife of the Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، يَذْكُرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ ‏}‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ ‏.‏
Narrated Umm Salamah, wife of the Prophet (ﷺ): The reading of the following verse by the Prophet (ﷺ) goes: "Nay, but there came to thee (ja'atki) my signs, and thou didst reject them (fakadhdhabti biha) ; thou wast haughty (wastakbarti) and became one of those who reject Faith (wa kunti). Abu Dawud said: This is a mursal tradition, i.e. the link of the Companion has been omitted, for the narrator al-Rabi' did not meet Umm Salamah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے ( سورۃ الزمر: ۵۹ ) ۱؎ ( واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ ‏.‏ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ وَقَالَ ‏ "‏ تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been narrated by 'Abd Allah b. 'Umar through a different chain of narrators. This version has:He said: A robe of silk brocade. He then sent him a Jubbah of brocade and said: You may sell it and fulfill your need
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں دھاری دار ریشمی جوڑے کے بجائے موٹے ریشم کا جوڑا ہے نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone says a rak'ah of the 'Asr prayer before sunset, he has observed (the 'Asr prayer), and if anyone performs a rak'ah of the Fajr prayer, he has observed (the Fajr prayer)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی ۱؎۔
Narrated by Ammar ibn Yasir
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ تَقْرَبُهُمُ الْمَلاَئِكَةُ جِيفَةُ الْكَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ وَالْجُنُبُ إِلاَّ أَنْ يَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ammar ibn Yasir: The Prophet (ﷺ) said: The angels do not come near three: the dead body of the unbeliever, one who smears himself with khaluq, and the one who is sexually defiled except that he performs ablution
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے قریب نہیں جاتے: ایک کافر کی لاش کے پاس، دوسرے جو زعفران میں لت پت ہو اور تیسرے جنبی ( ناپاک ) إلا یہ کہ وہ وضو کر لے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ - قَالَتْ - فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَى أُمَامَةَ ابْنَةَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ فَقَالَ ‏ "‏ تَحَلَّىْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) got some ornaments presented by Negus as a gift to him. They contained a gold ring with an Abyssinian stone. The Messenger of Allah (ﷺ) turning his attention from it took it by means of a stick or his finger, then called Umamah, daughter of Abul'As and daughter of his daughter Zaynab, and said: Wear it, my dear daughter
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: بیٹی! اسے تو پہن لے ۔
Narrated by AbuDharr
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ ‏"‏ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ أَوْ قَالَ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ تَصْبِرُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَدْ غَرِقَتْ بِالدَّمِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ آخُذُ سَيْفِي وَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي قَالَ ‏"‏ شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ ‏"‏ تَلْزَمُ بَيْتَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنْ دُخِلَ عَلَىَّ بَيْتِي قَالَ ‏"‏ فَإِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ الْمُشَعَّثَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
Narrated AbuDharr: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: O AbuDharr. I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah. He then mentioned the tradition in which he said: What will you do when there the death of the people (in Medina) and a house will reach the value of a slave (that is, a grave will be sold for a slave). I replied: Allah and His Apostle know best. Or he said: What Allah and His Apostle choose for me. He said: You must show endurance. Or he said; you may endure. He then said to me: What will you do, AbuDharr, when you see the Ahjar az-Zayt covered with blood? I replied: What Allah and His Apostle choose for me. He said: You must go to those who are like-minded. I asked: Should I not take my sword and put it on my shoulder? He replied: you would then associate yourself with the people. I then asked: What do you order me to do? You must stay at home. I asked: (What should I do) if people enter my house and find me? He replied: If you are afraid the gleam of the sword may dazzle you, put the end of your garment over your face in order that (the one who kills you) may bear the punishment of your sins and his. Abu Dawud said: No one mentioned al-Mush'ath in the chain of this tradition except Hammad b. Zaid
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا: تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس دن تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا؟ ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، یا کہا: اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: صبر کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ارشاد فرمائیں تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجار الزیت ۲؎ کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو ۳؎ ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا ( اور قتل ہو جانا ) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَاكَ حِينُ ‏{‏ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ الآيَةَ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The last hour will not come before rising of the sun in its place of setting. When it rises (there) and the people see it, those who are on it (the earth) will believe. This is the time of which the Qur’anic verse says: “. . .no good will it do to a soul to believe in them then, if it believed not before nor earned righteousness through its faith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکل آئے، تو جب سورج نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو جو بھی روئے زمین پر ہو گا ایمان لے آئے گا، لیکن یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو بھی جو اس سے پہلے ایمان نہ لے آیا ہو اور اپنے ایمان میں خیر نہ کما لیا ہو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ ‏}‏ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The verse "The punishment of those who wage war against Allah and His Apostle, and strive with might and main for mischief through the land is execution, or crucifixion, or the cutting off of hands and feet from opposite side or exile from the land...most merciful" was revealed about polytheists. If any of them repents before they are arrested, it does not prevent from inflicting on him the prescribed punishment which he deserves
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض» سے «غفور رحيم» تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو ایسا نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہو جائے ۲؎۔
Narrated by Samurah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Samurah: The Prophet (ﷺ) Said: If anyone kills his slave, we shall kill him, and if anyone cuts off the nose of his slave, we shall cut off his nose
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔
حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، قَالَ كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ لأَنْ يُسْقَطَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَقُولَ الأَمْرُ بِيَدِي ‏.‏
Humaid said:Al-Hasan used to say that his fall from the heaven on the earth is dearer to him than uttering: The matter is in my hand
حمید کہتے ہیں کہ حسن بصری کہتے تھے: آسمان سے زمین پر گر پڑنا اس بات سے مجھے زیادہ عزیز ہے کہ میں کہوں: معاملہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۱؎۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَجُلاً الْتَقَمَ أُذُنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُنَحِّي رَأْسَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأْسَهُ وَمَا رَأَيْتُ رَجُلاً أَخَذَ بِيَدِهِ فَتَرَكَ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: I never said that when any man brought his mouth to the ear of the Messenger of Allah (ﷺ) and he withdrew his head until the man himself withdrew his head, and I never saw that when any man took him by his hand and he withdrew his hand, until the man himself withdrew his hand
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو ( کچھ کہنے کے لیے ) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔