بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زِيَادٍ، وَأَبَا، عَوَانَةَ وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ لِوَقْتِهَا إِلاَّ بِجَمْعٍ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا ‏.‏
Ibn Mas’ud said “ I never saw the Apostle of Allaah(ﷺ) observe a prayer out of its proper time except(two prayers) at Al Muzdalifah. He combined the sunset and night prayers at Al Muzdalifah and he offered the dawn prayer that day before its proper time
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي بَعْضُ، مَنْ أَرْضَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّمَا جَعَلَ ذَلِكَ رُخْصَةً لِلنَّاسِ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ لِقِلَّةِ الثِّيَابِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي ‏ "‏ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Ubayy b. Ka’b reported :The Messenger of Allah (May peace be upon him) made a concession in the early days of Islam on account of the paucity of clothes that one should not take a bath if one has sexual intercourse (and has no seminal emission). But later on her commanded to take a bath in such a case and prohibited its omission
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی ( کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہو گا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نهى عن ذلك» یعنی ممانعت سے مراد «الماء من الماء» ( غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے ) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کر دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَأَخَذَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - الْفِدَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ ‏}‏ مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أَحَلَّ لَهُمُ اللَّهُ الْغَنَائِمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اسْمِ أَبِي نُوحٍ فَقَالَ أَيْشٍ تَصْنَعُ بِاسْمِهِ اسْمُهُ اسْمٌ شَنِيعٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي نُوحٍ قُرَادٌ وَالصَّحِيحُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ ‏.‏
‘Umar bin Al Khattab said “During the battle of Badr, the Prophet (ﷺ) took ransom”. Thereupon Allaah Most High sent down “It is not fitting for an Apostle that he should have prisoners of war until he hath thoroughly subdued the land. You look on the temporal goods of this world, but Allaah looketh to the Hereafter”. And Allaah is exalted in might and Wise. Had it not been for a previous ordainment from Allaah, a severe penalty would have reached you for the (ransom) that you took. Allaah then made the spoils of war lawful. Abu Dawud said “I heard that Ahmad bin Hanbal was asked about the name of Abu Nuh”. He said “What will you do with his name? His name is a bad one. Abu Dawud said “the name of Abu Nuh is Qurad. What is correct is that his name is ‘Abd Al Rahman bin Ghazwan
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» سے «مسكم فيما أخذتم» تک نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان ( کافروں کا ) اچھی طرح خون نہ بہا لیں، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی ( سورۃ الأنفال: ۶۷-۶۸ ) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کر دیا۔
Narrated by Abdullah ibn Muhammad ibn al-Hanafiyyah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي، إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الأَنْصَارِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ يَا جَارِيَةُ ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ - قَالَ - فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قُمْ يَا بِلاَلُ أَقِمْ فَأَرِحْنَا بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Muhammad ibn al-Hanafiyyah: I and my father went to the house of my father-in-law from the Ansar to pay a sick visit to him. The time of prayer came. He said to someone of his relatives: O girl! bring me water for ablution so that I pray and get comfort. We objected to him for it. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Get up, Bilal, and give us comfort by the prayer
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی ( عیادت ) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا: اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمَصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ بِهَذَا الْخَبَرِ زَادَ ‏"‏ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ ‏"‏ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ‏"‏ ‏.‏ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ الْوَهَمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The imam is appointed only to be followed. This version adds: When he recites (the Qur'an), keep silent." Abu Dawud said: The addition of the words "When he recites, keep silent" in this version are not guarded. The misunderstanding, according to us, is on the part of Abu Khalid (a narrator)
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «إنما جعل الإمام ليؤتم به» والی یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے «وإذا قرأ فأنصتوا» جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «وإذا قرأ فأنصتوا» کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔