حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ . قَالَ وَأَخْبَرَنِي عِلاَجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَكَذَا .
Ash’ath bin Sulaim reported on the authority of his father “I proceeded along with Ibn ‘Umar from ‘Arafah towards Al Muzdalifah.” He was not tiring of uttering “Allaah is most great” and “There is no god but Allaah”, till we came to Al Muzdalifah. He uttered the adhan and the iqamah or ordered some person who called the adhan and the iqamah. He then led us the three rak’ahs of the sunset prayers and turned to us and said (Another) prayer. Thereafter he led us in the two rak’ahs of the night prayer. Then he called for his dinner. He (Ash’ath) said ‘Ilaj bin ‘Amr reported a tradition like that of my father on the authority of Ibn ‘Umar. Ibn ‘Umar was asked about it. He said “I prayed along with the Apostle of Allaah(ﷺ) in a similar manner.”
سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے، جب ہم مزدلفہ آ گئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت، یا ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عشاء پڑھ لو چنانچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔ اشعث کہتے ہیں: اور مجھے علاج بن عمرو نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعْدٍ الأَغْطَشِ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الأَزْدِيِّ، - قَالَ هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ أَمِيرُ حِمْصَ - عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ فَقَالَ " مَا فَوْقَ الإِزَارِ وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ هُوَ - يَعْنِي الْحَدِيثَ - بِالْقَوِيِّ .
Narrated Mu'adh ibn Jabal: I asked the Messenger of Allah (ﷺ): What is lawful for a man to do with his wife when she is menstruating? He replied: What is above the waist-wrapper, but it is better to abstain from it, too. Abu Dawud said: This (tradition) is not strong
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگی ( تہبند ) کے اوپر کا حصہ ( اس سے لطف اندوز ہونا ) جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُسَارَى بَدْرٍ " لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ " .
Jubair bin Mut’im reported the Prophet (ﷺ) as saying about the prisoners taken at Badr. If Mut’im bin ‘Adi had been alive and spoken to me about these filthy ones, I would have left them for him
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا ۔
Narrated by A man
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ - لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا بِلاَلُ أَقِمِ الصَّلاَةَ أَرِحْنَا بِهَا " .
Narrated A man: Salim ibn AbulJa'dah said: A man said: (Mis'ar said: I think he was from the tribe of Khuza'ah): would that I had prayed, and got comfort. The people objected to him for it. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: O Bilal, call iqamah for prayer: give us comfort by it
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَلاَ تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَلاَ تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " . قَالَ مُسْلِمٌ " وَلَكَ الْحَمْدُ " . " وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَلاَ تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " . أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ سُلَيْمَانَ .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The imam is appointed only to be followed; when he says "Allah is most great," say "Allah is most great" and do not say "Allah is most great" until he says "Allah is most great." When he bows; bow; and do not bow until he bows. And when he says "Allah listens to him who praise Him," say "O Allah, our Lord, to Thee be the praise." The version recorded by Muslim goes: "And to Thee be the praise: And when he prostrate; and do not prostrate until he prostrates. When he prays standing, pray standing, and when he prays sitting, all of you pray sitting. Abu Dawud said: The words "O Allah, our Lord, to You be the praise" reported by Sulaiman were explained to me by some of our companions
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، تم اس وقت تک «الله أكبر» نہ کہو جب تک کہ امام «الله أكبر» نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو ( مسلم کی روایت میں «ولك الحمد» واو کے ساتھ ہے ) ، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اللهم ربنا لك الحمد» کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ۱؎۔