بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَقَامَ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا وَقَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ ‏.‏
Salamah bin Kuhail said “I saw Sa’id bin Jubair he called the iqamah at Al Muzdalifah and offered three ra’kahs of the sunset prayer and two ra’kahs of the night prayer. He then said “I attended Ibn ‘Umar.” He did like this in this place and he (Ibn ‘Umar) said “I attended the Apostle of Allaah(ﷺ)”. He did in a similar way in this place
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت، پھر آپ نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا۔
Narrated by Abdullah ibn Sa'd al-Ansari
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يَحِلُّ لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ ‏ "‏ لَكَ مَا فَوْقَ الإِزَارِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Sa'd al-Ansari: Abdullah asked the Messenger of Allah (ﷺ): What is lawful for me to do with my wife when she is menstruating? He replied: What is above the waist-wrapper is lawful for you. The narrator also mentioned (the lawfulness of) eating with a woman in menstruation, and he transmitted the tradition in full
عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے لنگی ( تہبند ) کے اوپر والے حصہ ( سے لطف اندوز ہونا ) درست ہے ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا، پھر راوی نے ( سابقہ ) پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
Anas said “Eighty Meccans came down from the mountain of Al Tan’im against the Prophet(ﷺ) and his Companions at the (time of the) dawn prayer to kill them. The Apostle of Allaah(ﷺ) took them captive without fighting and the Apostle of Allaah(ﷺ) set them free. Thereupon Allaah Most High sent down “He it is Who averted their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah,” till the end of the verse
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية ( سورۃ الفتح: ۲۴ ) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ أَلاَ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ وَلَكِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn ‘Umar reported the prophet (May peace be upon him) as saying:The desert Arabs may not dominate you in respect of the name of your prayer. Beware! It is al-`Isha, but they milk their camels when it is fairly dark
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر «أعراب» ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں۲؎ ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْمِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا قَالَ فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَسَكَتَ عَنَّا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ جَالِسًا فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَلاَ تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) rode a horse in Medina. It threw him off at the root of a date-palm. His foot was injured. We visited him to inquire about his illness. We found him praying sitting in the apartment of Aisha. We, therefore, stood, (praying) behind him. He kept silent. We again visited him to inquire about his illness. He offered the obligatory prayer sitting. We, therefore, stood (praying) behind him; he made a sign to us and we sat down. When he finished the prayer, he said: When the imam prays sitting, pray sitting; and when the imam prays standing, pray standing, and do not act as the people of Persia used to act with their chiefs (i.e. the people stood and they were sitting)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کے درخت کی جڑ پر گرا دیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی، ہم لوگ آپ کی عیادت کے لیے آئے، اس وقت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے ملے، ہم لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں خاموش رہے ( ہمیں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا ) ۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے تو آپ نے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی، ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب امام کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اس طرح نہ کرو جس طرح فارس کے لوگ اپنے سرکردہ لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں ۱؎ ۔