بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، - الْمَعْنَى - أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ، وَمَعْنَاهُ، قَالَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَلَمْ يُنَادِ فِي الأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى أَثَرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ‏.‏ قَالَ مَخْلَدٌ لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ‏.‏
The aforesaid tradition has also been transmitted to the same effect by by Al Zuhri with a different chain of narrators beginning with Ibn Hanbal on the authority of Hammad. This version adds “With an iqamah for every prayer, he did not call adhan for the first prayer and he did not offer supererogatory prayer after any of them. The narrator Makhlad said “He did not call adhan for any of them.”
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لِلْمِقْدَادِ وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا قَالَ فَسَأَلَهُ الْمِقْدَادُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِيهِ ‏:‏ ‏"‏ وَالأُنْثَيَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
‘Urwah said :‘Ali b abi Talib said to al-miqdad, and made a similar statement as above. Al-Miqdad asked him (the prophet). The prophet (peace be upon him) said: he should wash his penis and testicles. Abu Dawud said : The tradition has been narrators by al-Thawri and a group of narrators from Hisham on the authority of his father from al-Miqdad, from ‘Ali reporting from the prophet (May peace be upon him)
عروہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر راوی نے آگے اسی طرح کی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ مقداد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہیئے کہ وہ شرمگاہ ( عضو مخصوص ) اور فوطوں کو دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری اور ایک جماعت نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے، مقداد رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
Narrated by Sa'id ibn Yarbu' al-Makhzumi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ أَرْبَعَةٌ لاَ أُؤْمِنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمَّاهُمْ ‏.‏ قَالَ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأُفْلِتَتِ الأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ أَفْهَمْ إِسْنَادَهُ مِنِ ابْنِ الْعَلاَءِ كَمَا أُحِبُّ ‏.‏
Narrated Sa'id ibn Yarbu' al-Makhzumi: The Prophet (ﷺ) said: on the day of the conquest of Mecca: There are four persons whom I shall not give protection in the sacred and non-sacred territory. He then named them. There were two singing girls of al-Maqis; one of them was killed and the other escaped and embraced Islam. Abu Dawud said: I could not understand its chain of narrators from Ibn al-'Ala' as I liked
سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: چار آدمیوں کو میں حرم اور حرم سے باہر کہیں بھی امان نہیں دیتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام لیے، اور مقیس کی دو لونڈیوں کو، ایک ان میں سے قتل کی گئی، دوسری بھاگ گئی پھر وہ مسلمان ہو گئی۔
Narrated by Hudhayfah
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلاَنٌ وَلَكِنْ قُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Hudhayfah: The Prophet (ﷺ) said: Do not say: "What Allah wills and so and so wills," but say: "What Allah wills and afterwards so and so wills
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ۱؎ بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلاَ يَقُمْ فِي مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ قَالَ عَمَّارٌ لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدَىَّ ‏.‏
‘Adi b. Thabit al-Ansari said; A man related to me that (once) he was in the company of ‘Ammar b. yasir in al-Mada’in (a city near Ku’fah). The IQAMAH was called for prayer:‘Ammar came forward and stood on a shop (or a beach) and prayed while the people stood on a lower place than he. Hudaifah came forward and took him by the hands and Ammar followed him till Hudaifah brought him down. When ‘Ammar finished his prayer. Hudaifah said to him: Did you not hear the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: When a man leads the people in prayer, he must not stand in a position higher than theirs, or words to that effect? ‘Ammar replied : that is why I followed you when you took me by the hand
عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔