حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ بِإِقَامَةٍ إِقَامَةٍ جَمَعَ بَيْنَهُمَا . قَالَ أَحْمَدُ قَالَ وَكِيعٌ صَلَّى كُلَّ صَلاَةٍ بِإِقَامَةٍ .
The aforesaid tradition has been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version adds “Each prayer with an iqamah”. Ahmad reported on the authority of Waki’ “he offered each prayer with a single iqamah.”
اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔ احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی۔
Narrated by Al-Miqdad ibn al-Aswad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْىُ مَاذَا عَلَيْهِ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ . قَالَ الْمِقْدَادُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ " .
Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad: Ali ibn AbuTalib commanded him to ask the Messenger of Allah (ﷺ) what a man should do when he wants to have intercourse with his wife and the prostatic fluid comes out (at this moment). (He said): I am ashamed of consulting him because of the position of his daughter. Al-Miqdad said: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it. He said: When any of you finds, he should wash his private part, and perform ablution as he does for prayer
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اپنے لیے ) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے؟ ( انہوں نے کہا ) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے ۔
Narrated by Sa'd
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَسَمَّاهُمْ وَابْنُ أَبِي سَرْحٍ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ " . فَقَالُوا مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ أَلاَ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ قَالَ " إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الأَعْيُنِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ أَخَا عُثْمَانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَكَانَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَخَا عُثْمَانَ لأُمِّهِ وَضَرَبَهُ عُثْمَانُ الْحَدَّ إِذْ شَرِبَ الْخَمْرَ .
Narrated Sa'd: On the day when Mecca was conquered, the Messenger of Allah (ﷺ) gave protection to the People except four men and two women and he named them. Ibn AbuSarh was one of them. He then narrated the tradition. He said: Ibn AbuSarh hid himself with Uthman ibn Affan. When the Messenger of Allah (ﷺ) called the people to take the oath of allegiance, he brought him and made him stand before the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Messenger of Allah, receive the oath of allegiance from him. He raised his head and looked at him thrice, denying him every time. After the third time he received his oath. He then turned to his Companions and said: Is not there any intelligent man among you who would stand to this (man) when he saw me desisting from receiving the oath of allegiance, and kill him? They replied: We do not know, Messenger of Allah, what lies in your heart; did you not give us an hint with your eye? He said: It is not proper for a Prophet to have a treacherous eye. Abu Dawud said: 'Abd Allah (b. Abi Sarh) was the foster brother of 'Uthman, and Walid b. 'Uqbah was his brother by mother, and 'Uthman inflicted on him hadd punishment when he drank wine
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی، انہوں نے ان کا اور ابن ابی السرح کا نام لیا، رہا ابن ابی سرح تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! عبداللہ سے بیعت لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا، تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار آپ انکار کرتے رہے، تین بار کے بعد پھر اس سے بیعت لے لی، پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں تھا کہ جس وقت میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روک رکھا تھا، اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ کے دل کا حال نہیں معلوم تھا، آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہیں کر دیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کنکھیوں سے اشارے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عثمان کا رضاعی بھائی تھا اور ولید بن عقبہ عثمان کا اخیافی بھائی تھا، اس نے شراب پی تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگائی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ جَاشَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " .
‘A’ishah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:None of you should say Ja’shat nafsi (My heart is being agitated), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ، بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ بَلَى قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي .
Hammam said:Hudhaifah led the people in prayer in al-Mada’in standing on the shop(or a bench). Abu Mas’ud took him by his shirt, and brought him down. When he( Abu Mas’ud) finished his prayer, he said: Do you not know that they(the people) were prohibited to do so. He said: Yes, I remembered when you pulled me down
ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن ( کوفہ کے پاس ایک شہر ہے ) میں ایک چبوترہ ( اونچی جگہ ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی ( اور لوگ نیچے تھے ) ، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں ( نیچے ) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔