Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالاً لاَ يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَيَقُولُ " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " . وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ .
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet then took up Usamah behind him (on the camel), and drove the camel at a quick pace. The people were beating their camels right and left, but he did not pay attention to them; he was saying: O people, preserve a quiet demeanour. He proceeded (from Arafat) when the sun had set
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ( ارکان عرفات سے فراغت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ، - وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى - عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالاَنِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْجُدُ وَيَنَامُ وَيَنْفُخُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلاَ يَتَوَضَّأُ . قَالَ فَقُلْتُ لَهُ صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ وَقَدْ نِمْتَ فَقَالَ " إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا " . زَادَ عُثْمَانُ وَهَنَّادٌ " فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَوْلُهُ " الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا " . هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِيُّ عَنْ قَتَادَةَ وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا وَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَحْفُوظًا وَقَالَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَنَامُ عَيْنَاىَ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي " . وَقَالَ شُعْبَةُ إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلاَةِ وَحَدِيثَ الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالاَنِيِّ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَانْتَهَرَنِي اسْتِعْظَامًا لَهُ وَقَالَ مَا لِيَزِيدَ الدَّالاَنِيِّ يُدْخِلُ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ وَلَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) used to prostrate and sleep (in prostration) and produce puffing sounds (during sleep). Then he would stand and pray and would not perform ablution. I said to him: you prayed but did not perform ablution though you slept (in prostration). He replied: Ablution is necessary for one who sleeps while he is lying down. Uthman and Hannad added: For when he lies down, his joints are relaxed. Abu Dawud said: The statement "ablution is necessary for one who sleeps while one is lying down" is a munkar (rejected) tradition. It has been narrated only by Yazid Abu Khalid al-Dalani, on the authority of Qatadah. And its earlier part has been narrated by a group (of narrators) from Ibn 'Abbas; they did not mention anything about it. He (Ibn 'Abbas) said: The Prophet (ﷺ) was protected (during his sleep). 'Aishah reported: The Prophet (ﷺ) said: My eyes sleep, but my heart does not sleep. Shu'bah said: Qatadah heard from Abu'l-'Aliyah only four traditions: the tradition about Jonah son of Matthew, the tradition reported by Ibn 'Umar about prayer, the tradition stating that the judges are three, and the tradition narrated by Ibn 'Abbas saying: (This tradition) has been narrated to me by reliable persons ; 'Umar is one of them, and the most reliable of them in my opinion is 'Umar. Abu Dawud said: I asked Ahmad b. Hanbal about the tradition narrated by Yazid al-Dalani. He rebuked me out of respect for him. Then he said: Yazid al-Dalani does not add anything to what has been narrated by the teachers of Qatadah. He did not care of this tradition (due to its weakness)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور (سجدہ میں) سو جاتے، اور خراٹے لینے لگتے تھے، پھر اٹھتے اور نماز پڑھتے، اور وضو نہیں کرتے تھے، (ایک بار) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہی ان لوگوں نے اس میں سے کچھ ذکر نہیں کیا ہے۔ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ( غفلت ) کی نیند سے محفوظ تھے۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ۔ اور شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں: ایک یونس بن متی کی، دوسری ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جو نماز کے باب میں مروی ہے، تیسری حدیث «القضاة ثلاثة» ہے، اور چوتھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث: «حدثني رجال مرضيون منهم عمر وأرضاهم عندي عمر» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید دالانی کی روایت کا احمد بن حنبل سے ذکر کیا، تو انہوں نے مجھے اسے بڑی بات سمجھتے ہوئے ڈانٹا: اور کہا یزید دالانی کو کیا ہے؟ وہ قتادہ کے شاگردوں کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتے ہیں جنہیں ان لوگوں نے روایت نہیں کی ہیں، امام احمد نے ( دالانی کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ) اس حدیث کی پرواہ نہیں کی۔
Narrated by Jundub ibn Makith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ وَكُنْتُ فِيهِمْ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الإِسْلاَمَ وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقْ مِنْكَ فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا .
Narrated Jundub ibn Makith: The Messenger of Allah (ﷺ) sent Abdullah ibn Ghalib al-Laythi along with a detachment and I was also with them. He ordered them to attach Banu al-Mulawwih from all sides at al-Kadid. So we went out and when we reached al-Kadid we met al-Harith ibn al-Barsa al-Laythi, and seized him. He said: I came with the intention of embracing Islam, and I came out to go to the Messenger of Allah (ﷺ). We said: If you are a Muslim, there is no harm if we keep you in chains for a day and night; and if you are not, we shall tie you with chains. So we tied him with chains
جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا، میں بھی انہیں میں تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے، ہم نے اسے پکڑ لیا، وہ کہنے لگا: میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جا رہا تھا، ہم نے کہا: اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمَ فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَلَكِنْ قُولُوا حَدَائِقَ الأَعْنَابِ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :None of you should Call (grapes) karm, for the karm is a Muslim man, but call (grapes) garden of grapes (hada’iq al-a’nab)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( انگور اور اس کے باغ کو ) «كرم» نہ کہے ۱؎، اس لیے کہ «كرم» مسلمان مرد کو کہتے ہیں ۲؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلاَّدٍ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا .
This tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Umm Waraqah daughter of ‘Abd Allah b. al-Harith. The first version is complete. This version goes:The Messenger of Allah(ﷺ) used to visit her at her house. He appointed a mu’adhdhin to call adhan for her; and he commanded her to lead the inmates of her house in prayer. ‘Abd al-Rahman said: I saw her mu’adhdhin who was an old man
اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔