حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ - قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ - وَقَرَأَ فِيهِمَا زَادَ ابْنُ السَّرْحِ يُرِيدُ الْجَهْرَ .
Abbad b. Tamim al Mazini said on the authority of his uncle (Abd Allah b. Zaid b Asim) who was a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ):One day the Messenger of Allah (ﷺ) went out to make supplication for rain. He turned his back towards the people praying to Allah, the Exalted. The narrator Sulaiman b. Dawud said: He faced the qiblah and turned around his cloak and then offered two rak'ahs of prayer. The narrator Ibn Abi Dhi'b said: He recited from the Qur'an in both of them. The version of Ibn al-Sarh adds: By it he means in a loud voice
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ) سے ( جو صحابی رسول تھے ) سنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔
Narrated by Ya'la b. Umayyah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلاَةَ وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى { إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا } فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمُ . فَقَالَ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
Narrated Ya'la b. Umayyah:I remarked to 'Umar al-Khattab: Have you seen the shortening of the prayer by the people today while Allah has said: "If you fear that those who are infidels may afflict you", whereas those days are gone now? He replied: I have wondered about the same matter for which you wondered. So I mentioned this to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It is an act of charity which Allah has done to you, so accept his charity
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ ( سفر میں ) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ۱؎ ۔
Narrated by Abd Allah b. Shaqiq
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا وَلَيْلاً طَوِيلاً جَالِسًا فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلاَةَ الْفَجْرِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abd Allah b. Shaqiq:I asked A'ishah about the voluntary prayers offered by the Messenger of Allah (ﷺ). She replied: Before the noon prayer he would pray four rak'ahs in my house, then go out and lead the people in prayer, then return to my house and pray two rak'ahs. He would lead the people in the sunset prayer, then return to my house and pray two rak'ahs. Then he would lead the people in the night prayer, and enter my house and pray two rak'ahs. He would pray nine rak'ahs during the night, including witr (prayer). At night he would pray for a long time standing and for a long time sitting. When he recited the Qur'an while standing, he would bow and prostrate himself from the standing position, and when he recited while sitting, he would bow and prostrate himself from the sitting position, and when dawn came he prayed two rak'ahs, then he would come out and lead the people in the dawn prayer
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ .
Narrated Abu Hurairah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone fasts during Ramadan because of faith and in order to seek his reward from Allah, his previous sins will be forgiven to him. If anyone prays in the night of the power (lailat al-qadr) because of faith and in order to seek his reward from Allah his previous sins will be forgiven for him. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted in a similar manner by Yahya b. Abi Kathir and Muhammad b. 'Amr from Abu Salamah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Uqbah ibn Amir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ قَالَ " نَعَمْ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلاَ يَقْرَأْهُمَا " .
Narrated Uqbah ibn Amir: I said to the Messenger of Allah (ﷺ): Are there two prostrations in Surah al-Hajj? He replied: Yes; if anyone does not make two prostrations, he should not recite them
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ زَادَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا تَقُولُ فَقَالَ " لَيْسَ لَكَ وَلاَ لأَصْحَابِكَ " .
The above mentioned tradition has also been narrated by 'Abd Allah (b. Mas'ud) through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:A bedouin said: What are you saying ? He replied: This is neither for you, nor for your companions
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ حَقَّهُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ وَقَالَ عِقَالاً .
This tradition has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version has “Abu Bakr said its due is the payment of zakat.” He used the word “a rope of a Camel”
اس سند سے بھی زہری سے یہی روایت مروی ہے اس میں ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ( اسلام ) کا حق یہ ہے کہ زکاۃ ادا کریں اور اس میں «عقالا» کا لفظ آیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِمَعْنَاهُ قَالَ " عَرِّفْهَا حَوْلاً " . وَقَالَ ثَلاَثَ مِرَارٍ قَالَ فَلاَ أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلاَثِ سِنِينَ .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Shu’bah through a different chain of narrators to the same effect. The version goes :He said : Make it known for a year. He said this three times. He said: I do not know whether he said “for a year” or “for three years”
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں: «عرفها حولا» تین بار کہا، البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لیے کہا یا تین سال میں۔
Narrated by Abu Waqid al-Laythi
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي، وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصْرِ " .
Narrated Abu Waqid al-Laythi: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying to his wives during the Farewell Pilgrimage: This (is the pilgrimage for you); afterwards stick to the surface of the mats (i.e. should stay at home)
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں ۱؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتَّى لاَ يَرَاهُ أَحَدٌ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: When the Prophet (ﷺ) felt the need of relieving himself, he went far off where no one could see him
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کا ارادہ کرتے تو ( اتنی دور ) جاتے کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ پاتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Women may be married for four reasons:for her property, her ranks, her beauty and her religiosity. So get the one who is religious and prosper (lit. may your hands cleave to the dust).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A woman should not ask for the divorce of her sister to make her bowl vacant for her and to marry him. She will have what is decreed for her.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کرا لے ( یعنی اس کا حصہ خود لے لے ) اور خود نکاح کر لے، جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اسے ملے گا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا صَامَ فَنَامَ لَمْ يَأْكُلْ إِلَى مِثْلِهَا وَإِنَّ صِرْمَةَ بْنَ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّ أَتَى امْرَأَتَهُ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ عِنْدَكِ شَىْءٌ قَالَتْ لاَ لَعَلِّي أَذْهَبُ فَأَطْلُبُ لَكَ شَيْئًا . فَذَهَبَتْ وَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَجَاءَتْ فَقَالَتْ خَيْبَةً لَكَ . فَلَمْ يَنْتَصِفِ النَّهَارُ حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ وَكَانَ يَعْمَلُ يَوْمَهُ فِي أَرْضِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ { أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ } قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ { مِنَ الْفَجْرِ } .
Al Bara’ (bin Azib) said “When a man fasted and slept, he could not eat till (another nigh) like it.” Sarmah bin Qais Al Ansari came to his wife while he was fasting and asked her Do you have something (to eat)? She replied “No”. Let me go and seek something for you. So, she went out and sleep overcame him. She came (back) and said (to him) .You are deprived (of food). He fainted before noon. He used to work all day long at his land. This was mentioned to the Prophet (ﷺ). So the following verse was revealed. “Permitted to you on the nights of the fasts, is the approach to your wives. They are your garments and ye are their garments. Allah knoweth what yes used to do secretly amongst yourselves. But he turned to you and forgave you. So now associate with them and seek what Allaah hath ordained for you. And eat and drink until the white thread of dawn appears to you. He recited up to the words “of dawn”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ابتداء اسلام میں ) آدمی جب روزہ رکھتا تھا تو سونے کے بعد آئندہ رات تک کھانا نہیں کھاتا تھا، صرمۃ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ ( کھانا ) ہے؟ وہ بولی: کچھ نہیں ہے لیکن جاتی ہوں ہو سکتا ہے ڈھونڈنے سے کچھ مل جائے، تو وہ چلی گئی لیکن حرمہ کو نیند آ گئی وہ آئی تو ( دیکھ کر ) کہنے لگی کہ اب تو تم ( کھانے سے ) محروم رہ گئے دوپہر کا وقت ہوا بھی نہیں کہ ( بھوک کے مارے ) ان پر غشی طاری ہو گئی اور وہ دن بھر اپنے زمین میں کام کرتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو یہ آیت «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» روزے کی رات میں تمہارے لیے اپنی عورتوں سے جماع حلال کر دیا گیا ہے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «من الفجر» تک پوری آیت پڑھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلاَعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَىَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي " يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ زَانَهُ وَلاَ نُزِعَ مِنْ شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ شَانَهُ " .
Miqdan bin Shuraih reported on the authority of his father. I asked A’ishah about settling in the desert (to worship Allaah in loneliness). She said “The Apostle of Allaah(ﷺ) would go out (from Madina) to these torrential streams. Once he intended to go out to the desert (for worshipping Allaah). He sent me a She-Camel from the Camels of sadaqah that was not used as a mount. He said to me “A’ishah be lenient, for leniency makes a thing decorated and when it is removed from a thing it makes it defective
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان ( میں زندگی گزارنے ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلاَلٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الأُمَّةِ " . قَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ أُضْحِيَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ " لاَ وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: I have been commanded to celebrate festival ('Id) on the day of sacrifice, which Allah, Most High, has appointed for this community. A man said: If I do not find except a she-goat or a she-camel borrowed for milk or other benefits, should I sacrifice it? He said: No, but you should clip your hair , and nails, trim your moustaches, and shave your pubes. This is all your sacrifice in the eyes of Allah, Most High
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے ، ایک شخص کہنے لگا: بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اپنے بال کتر لو، ناخن تراش لو، مونچھ کتر لو، اور زیر ناف کے بال لے لو، اللہ عزوجل کے نزدیک ( ثواب میں ) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Mughaffal
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنَّ الْكِلاَبَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ " .
Narrated Abdullah ibn Mughaffal: The Prophet (ﷺ) said: Were dogs not a species of creature I should command that they all be killed; but kill every pure black one
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں ۱؎ تو میں ان کے قتل کا ضرور حکم دیتا، تو اب تم ان میں سے خالص کالے کتوں کو قتل کرو ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا وَلاَ بَعِيرًا وَلاَ شَاةً وَلاَ أَوْصَى بِشَىْءٍ .
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) did not leave dinars, dirhams, camels and goats, nor did he leave will for anything
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۱؎۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَىَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَىَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ } .
Narrated Jabir:I fell ill, and the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr came to me on foot to visit me. As I was unconscious, I could not speak to him. He performed ablution and sprinkled water on me ; so I became conscious. I said: Messenger of Allah, how should I do in my property, as I have sisters? Thereafter the verse about inheritance was revealed: "They ask thee for legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت«يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) ، اتری ۱؎۔
Narrated by Abd al-Rahman b. Samurah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ فِيهَا إِلَى نَفْسِكَ وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا " .
Narrated 'Abd al-Rahman b. Samurah:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Abdul al-Rahman b. Samurah, do not ask for the position of commander, for if you are given it after asking you will be left to discharge it yourself, but if you are given it without asking you will be helped to discharge it
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۲؎ ۔
Narrated by Muhammad ibn Khalid as-Sulami
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ السُّلَمِيُّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلاَهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ " ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ " . ثُمَّ اتَّفَقَا " حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى " .
Narrated Muhammad ibn Khalid as-Sulami: on his father's authority said his grandfather reported: He was a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ) said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When Allah has previously decreed for a servant a rank which he has not attained by his action, He afflicts him in his body, or his property or his children. Abu Dawud said: Ibn Nufail added in his version: "He then enables him to endure that." The agreed version goes: "So that He may bring him to the rank previously decreed from him by Allah
خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . فَقَالَ الأَشْعَثُ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ لِلْيَهُودِيِّ " احْلِفْ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً } إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him. Al-Ash'ath said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, "As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا ۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں ( جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا ) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ( سورۃ آل عمران: ۷۷ ) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبُسْطَامِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، بِمَعْنَاهُ قَالَ " يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْحَلِفُ " . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ " اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ " .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qais b. Abi Gharazah through a different chain of narrators to the same effect. This version has:"Lying and swearing have a place on i." 'Abd Allah al-Zuhri said: "Unprofitable speech and lying
اس سند سے بھی قیس بن ابی غرزہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں «يحضره اللغو والحلف» کے بجائے: «يحضره الكذب والحلف» ہے عبداللہ الزہری کی روایت میں: «اللغو والكذب» ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَىٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ - وَالأَوَّلُ أَتَمُّ - فَقُلْتُ مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا " . أَوْ " تَعَلَّقْتَهَا " .
A similar tradition has also been transmitted by 'Ubadah b. al-Samit through a different chain of narrators, but the former tradition is more perfect. This version has:I said: What do you think about it, Messenger of Allah? He said: A live coal between your shoulders which you have put around your neck or hanged it
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۱؎ ۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، وَالأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " .
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who has been appointed a judge among the people has been killed without a knife
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ لَقِيتُ شَبِيبَ بْنَ شَيْبَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، - يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِمَعْنَاهُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu al-Darda through a different chain of narrators to the same effect from the Holy Prophet (ﷺ)
اس سند سے بھی ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ } الآيَةَ قَالَ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى } فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ يُنَادِي أَلاَ لاَ يَقْرَبَنَّ الصَّلاَةَ سَكْرَانُ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ } قَالَ عُمَرُ انْتَهَيْنَا .
Narrated Umar ibn al-Khattab: When the prohibition of wine (was yet to be) declared, Umar said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. So the following verse of Surat al-Baqarah revealed; "They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin...." Umar was then called and it was recited to him. He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. Then the following verse of Surat an-Nisa' was revealed: "O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged...." Thereafter the herald of the Messenger of Allah (ﷺ) would call when the (congregational) prayer was performed: Beware, one who is drunk should not come to prayer. Umar was again called and it was recited to him). He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. This verse was revealed: "Will ye not then abstain?" Umar said: We abstained
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ ( سورة النساء: ۴۳ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:«فهل أنتم منتهون» یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے ( سورة المائدہ: ۹۱ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے ۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ زَادَ " فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ " .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn ‘Umar to the same effect through a different chain of narrators. This version has the additional words:If he is not fasting, he should eat, and if he is fasting, he should leave it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو ( کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی ) دعا کرے ۔
Narrated by Umm al-Mundhar bint Qays al-Ansariyyah
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَأَبُو عَامِرٍ - وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ - عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِعَلِيٍّ " مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ " . حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ . قَالَتْ وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا فَجِئْتُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةِ .
Narrated Umm al-Mundhar bint Qays al-Ansariyyah: The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit me, accompanied by Ali who was convalescing. We had some ripe dates hung up. The Messenger of Allah (ﷺ) got up and began to eat from them. Ali also got up to eat, but the Messenger of Allah (ﷺ) said repeatedly to Ali: Stop, Ali, for you are convalescing, and Ali stopped. She said: I then prepared some barley and beer-root and brought it. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Take some of this, Ali, for it will be more beneficial for you. AbuDawud said: The narrator Harun said: al-Adawiyyah (i.e. Umm al-Mundhar)
ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ٹھہرو ( تم نہ کھاؤ ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے«عدویہ» ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone acquires any knowledge of astrology, he acquires a branch of magic of which he gets more as long as he continues to do so
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ " أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ " .
This tradition has also been reported by Abu Suhail Nafi' b. Malik b. Abi 'Amir through a different chain of narrators. It adds:He will be successful, by his father, if he speaks the truth; he will enter Paradise, by his father, if he speaks the truth
اس سند سے بھی ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم! ۱؎ اگر اس نے سچ کہا تو وہ بامراد رہا، اور اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا تو وہ جنت میں جائے گا ۔
Narrated by Amr b. Shu'aib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلاَّ عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلاَّ عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ قَالُوا هُوَ وَهَمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ .
Narrated 'Amr b. Shu'aib: On his father's authority, told that his grandfather reported the Prophet (ﷺ) said: If any slave entered into an agreement to buy his freedom for one hundred uqiyahs and he pays them all but ten, he remains a slave (until he pays the remaining ten); and if a slave entered into an agreement to purchase his freedom for one hundred dinars, and he pays them all but ten dinars, he remains a slave (until he pays the remaining ten). Abu Dawud said: This narrator 'Abbas al-Jariri is not the same person. They said: It is misunderstanding. He is some other narrator
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے ( ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے ) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا ( جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے ) ۔
Narrated by A'ishah
حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ فُلاَنًا كَائِنٌ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا " .
Narrated A'ishah:A man got up (for prayer) at night, he read the Qur'an and raised his voice in reading. When the morning came, the Messenger of Allah (ﷺ) said: May Allah have mercy on so-and-so! Last night he reminded me a number of verses which I was about to forget
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور ( نماز میں ) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ۱؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - جَمِيعًا - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى - عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَقَالَتْ مِمَّنْ أَنْتُنَّ قُلْنَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ . قَالَتْ لَعَلَّكُنَّ مِنَ الْكُورَةِ الَّتِي تَدْخُلُ نِسَاؤُهَا الْحَمَّامَاتِ قُلْنَ نَعَمْ . قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَخْلَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلاَّ هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَهُوَ أَتَمُّ وَلَمْ يَذْكُرْ جَرِيرٌ أَبَا الْمَلِيحِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: AbulMalih said: Some women of Syria came to Aisha. She asked them: From whom are you? They replied: From the people of Syria. She said: Perhaps you belong to the place where women enter hot baths (for washing ). The said: Yes. She said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If a woman puts off her clothes in a place other than her house, she tears the veil between her and Allah, the Exalted. Abu Dawud said: This is the tradition narrated by Jarir, and it is more perfect. Jarir did not mention Abu al-Malih. He said (on the authority of 'A'ishah) that the Messenger of Allah (ﷺ) said
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al-Jariri through a different chain of narrators in a similar way
اس سند سے بھی جریری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَازِنِيُّ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ . قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الأَرْضِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الإِرْفَاهِ . قَالَ فَمَا لِي لاَ أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا .
Abdullah ibn Buraydah said:A man from the companions of the Prophet (ﷺ) travelled to Fudalah ibn Ubayd when he was in Egypt. He came to him and said: I have not come to you to visit you. But you and I heard a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ). I hope you may have some knowledge of it. He asked: What is it? He replied: So and so. He said: Why do I see you dishevelled when you are the ruler of this land? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden us to indulge much in luxury. He said: Why do I see you unshod? He replied: The Prophet (ﷺ) used to command us to go barefoot at times
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ ( مزید ) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ زَادَ فَكَانَ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُثْمَانَ فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ بِئْرٍ إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ فَأَمَرَ بِهَا فَنُزِحَتْ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators. This version as transmitted by 'Isa b. Yunus adds:It remained in his hand until he died, in the hand of 'Abu Bakr until he died, in the hand of 'Umar until he died, and in the hand of 'Uthman. When he was near a well, it fell down in it. He ordered to take it out, but it could not be found
اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَكُونُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ أَرْبَعُ فِتَنٍ فِي آخِرِهَا الْفَنَاءُ " .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: four (majestic) trials (fitnahs) will take place among this community, and in their end there will be destruction
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں چار ( بڑے بڑے ) فتنے ہوں گے ان کا آخری فناء ( قیامت ) ہو گا ۱؎ ۔
Narrated by Jabir b. Samurah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً " . قَالَ فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً قُلْتُ لأَبِي يَا أَبَةِ مَا قَالَ قَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
Narrated Jabir b. Samurah:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: This religion will continue to be strong till the time of twelve caliphs. The people then uttered: Allah is more great and uproared. He then silently a word which I could not understand. So I said to my father: What did he say, father ? He said: All of them will belong to Quraish
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سب قریش میں سے ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمْ فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْهُدْنَةِ، قَالَ قَالَ جُبَيْرٌ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ " .
Dhu Mikhbar said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: you will make a secure peace with the Byzantines, then you and they will fight an enemy behind you, and you will be victorious, take booty, and be safe. You will then return and alight in a meadow with mounds and one of the Christians will raise the cross and say: The cross has conquered. One of the Muslims will become angry and smash it, and the Byzantines will act treacherously and prepare for the battle
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہو گا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ الثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ " .
Abd Allah (b. Mas`ud) reported the Messenger of Allah (peace be upon him) as saying:The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah should not be lawfully shed but only for one of three reasons: married fornicator, soul for soul, and one who deserts his religion separating himself from the community
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں، سوائے تین صورتوں کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو ۔
Narrated by AbuRimthah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ - حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي " ابْنُكَ هَذَا " . قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ " حَقًّا " . قَالَ أَشْهَدُ بِهِ . قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلْفِ أَبِي عَلَىَّ . ثُمَّ قَالَ " أَمَا إِنَّهُ لاَ يَجْنِي عَلَيْكَ وَلاَ تَجْنِي عَلَيْهِ " . وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى }
Narrated AbuRimthah: I went to the Prophet (ﷺ) with my father. The Messenger of Allah (ﷺ) then asked my father: Is this your son? He replied: Yes, by the Lord of the Ka'bah. He again said: Is it true? He said: I bear witness to it. The Messenger of Allah (ﷺ) then smiled for my resemblance with my father, and for the fact that my father took an oath upon me. He then said: He will not bring evil on you, nor will you bring evil on him. The Messenger of Allah (ﷺ) recited the verse: "No bearer of burdens can bear the burden of another
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے میرے والد سے پوچھا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے والد نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ مچ؟ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا، اور نہ تم اس کے جرم میں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی ( الانعام: ۱۶۴، الاسراء: ۱۵، الفاطر: ۱۸ ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، نَحْوَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ أَلاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِينَا فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ " . زَادَ ابْنُ يَحْيَى وَعَمْرٌو فِي حَدِيثَيْهِمَا " وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ " . وَقَالَ عَمْرٌو " الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لاَ يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَهُ " .
Abu `Amir al-Hawdhani said:Mu`awiyah b. Abi Sufiyan stood among us and said: Beware! The Apostle of Allah (ﷺ) stood among us and said: Beware! The people of the Book before were split up into seventy two sects, and this community will be split into seventy three: seventy two of them will go to Hell and one of them will go to Paradise, and it is the majority group. Ibn Yahya and `Amr added in their version : “ There will appear among my community people who will be dominated by desires like rabies which penetrates its patient”, `Amr’s version has: “penetrates its patient. There remains no vein and no joint but it penetrates it.”
ابوعامر عبداللہ بن لحی حمصی ہوزنی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہا: سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: سنو! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے، بہتر ( ۷۲ ) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر ( ۷۳ ) فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی «الجماعة» ہے ۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایت میں اتنا مزید بیان کیا: اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ۱؎ ۔ اور عمرو کی روایت میں «لصاحبه» کے بجائے «بصاحبه» ہے اس میں یہ بھی ہے: کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلاَمٌ لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ أَكُونَ عَلَيْهِ مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِي لِمَ فَعَلْتَ هَذَا أَوْ أَلاَ فَعَلْتَ هَذَا .
Narrated Anas ibn Malik: I served the Prophet (ﷺ) at Medina for ten years. I was a boy. Every work that I did was not according to the desire of my master, but he never said to me: Fie, nor did he say to me: Why did you do this? or Why did you not do this?
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ۔