بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Nubayt
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْحَىِّ عَنْ أَبِيهِ، نُبَيْطٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ أَحْمَرَ يَخْطُبُ ‏.‏
Narrated Nubayt: Nubayt had seen the Prophet (ﷺ) in Arafat
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَهُ دَسَمًا ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah b.’Abbas said that the Prophet (peace be upon him) drank some milk and then rinsed his mouth saying :it contains greasiness
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی منگا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ ذَرَارِيِّهِمْ وَنِسَائِهِمْ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُمْ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ عَمْرٌو - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - يَقُولُ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ ‏.‏
Al Sa’b bin Jaththamah said that he asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about the polytheists whose settlemnst were attacked at night when some of their offspring and women were smitten. The Prophet(ﷺ) “They are of them. ‘Amr bin Dinar used to say “they are regarded in the same way as their parents.” Al-Zuhri said:Thereafter the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to kill women and children
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں ( تو کیا حکم ہے؟ ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور عمرو بن دینار کہتے تھے: وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں ۔ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلاَمًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah! I have given birth to a boy, and call him Muhammad and AbulQasim as kunyah (surname), but I have been told that you disapproved of that. He replied: What is it which has made my name lawful and my kunyah unlawful, or what is it which has made my kunyah unlawful and my name lawful?
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوصَلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي ‏.‏
This tradition has also been transmitted through a different chain by ‘Amr b. Salamah. This version says:“I used to lead them in prayer with a sheet of cloth on me that was patched and torn. When I prostrated myself, my buttocks were disclosed
اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔