بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِعَرَفَةَ ‏.‏
A man from banu Damrah reported on the authority of his father or his uncle “ I saw the Apostle of Allaah(ﷺ) on the pulpit in ‘Arafah.”
بنی ضمرہ کے ایک آدمی اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں منبر پر ( خطبہ دیتے ) دیکھا۔
Narrated by Umm Habibah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي أَلاَ تَوَضَّأُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ يَا ابْنَ أَخِي ‏.‏
Narrated Umm Habibah: AbuSufyan ibn Sa'id ibn al-Mughirah reported that he entered upon Umm Habibah who presented him a glass of sawiq (a drink prepared with flour and water) to drink. He called for water and rinsed his mouth. She said: O my cousin, don't you perform ablution? The Prophet (ﷺ) said: Perform ablution after eating anything cooked with fire, or he said: anything touched by fire. Abu Dawud said: The version of al-Zuhri has: O my paternal cousin
ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، پھر ( ابوسفیان ) نے پانی منگا کر کلی کی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو ، یا فرمایا: جنہیں آگ نے چھوا ہو، ان چیزوں سے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی حدیث میں لفظ: «يا ابن أخي» اے میرے بھتیجے ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمْ يُقْتَلْ مِنْ نِسَائِهِمْ - تَعْنِي بَنِي قُرَيْظَةَ - إِلاَّ امْرَأَةً إِنَّهَا لَعِنْدِي تُحَدِّثُ تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّيُوفِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلاَنَةُ قَالَتْ أَنَا ‏.‏ قُلْتُ وَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ حَدَثٌ أَحْدَثْتُهُ ‏.‏ قَالَتْ فَانْطَلَقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا أَنَّهَا تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: No woman of Banu Qurayzah was killed except one. She was with me, talking and laughing on her back and belly (extremely), while the Messenger of Allah (ﷺ) was killing her people with the swords. Suddenly a man called her name: Where is so-and-so? She said: I I asked: What is the matter with you? She said: I did a new act. She said: The man took her and beheaded her. She said: I will not forget that she was laughing extremely although she knew that she would be killed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكْنِيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Muhammad b. al-Hanafiyyah quoted 'Ali as saying:I said: Messenger of Allah! tell me if a son is born to me after your death, may I give him your name and your kunyah? He replied: Yes. The transmitter Abu Bakr did not mention the words "I said". Instead, he said: 'Ali said to the Prophet (ﷺ)
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَذَا وَكَذَا وَكُنْتُ غُلاَمًا حَافِظًا فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلاَةَ فَقَالَ ‏ "‏ يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ فَقَدَّمُونِي فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَىَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ ‏.‏ فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا فَمَا فَرِحْتُ بِشَىْءٍ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحِي بِهِ فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ ‏.‏
‘Amr b. Salamah said ; we lived at a place where the people would pass by us when they came to the prophet (ﷺ). When they returned they would again pass by us. And they used to inform us that the Messenger of Allah (ﷺ) said so –and-so. I was a boy with a good memory. From the( process) I memorized a large portion of the Qur’an. Then my father went to the Messenger of Allah(ﷺ) along with a group of his clan. He (the Prophet) taught them prayer. And he said:The one of you who knows most of the Qur’an should act as your imam. I knew the Qur’an better than most of them because I had memorized it. They, therefore, put me in front of them, and I would lead them in prayer. I wore a small yellow mantle which, when I prostrated myself, went up on me, and a woman of the clan said: Cover the back side of your leader from us. So they bought an ‘Ammani shirt for me, and I have never been so pleased about anything after embracing Islam as I was about that (shirt). I used to lead them in prayer and I was only seven or eight year old
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم ایسے مقام پر ( آباد ) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کر لیا تھا، چنانچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چنانچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری ( امام ) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چنانچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ۱؎۔