بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مِنًى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ صَبِيحَةَ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الإِمَامِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلاَةِ الظُّهْرِ رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ ‏.‏
Ibn ‘Umar said the Apostle of Allaah(ﷺ) proceeded from Mina when he offered the dawn prayer on Yaum Al ‘Arafah (9th of Dhu Al Hijjah) in the morning till he came to ‘Arafah and he descended at Namrah. This is the place where the imam (prayer leader at ‘Arafah) takes his place. When the time of the noon prayer came, the Apostle of Allaah(ﷺ) proceeded earlier and combined the noon and afternoon prayers. He then addressed the people (i.e., recited the sermon) and proceeded. He stationed at a place of stationing in ‘Arafah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نمرہ سے ) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا۔
Narrated by Abdullah ibn Harith ibn Jaz
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي دَارِ رَجُلٍ فَمَرَّ بِلاَلٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ‏.‏ فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً فَلَمْ يَزَلْ يَعْلِكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلاَةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Harith ibn Jaz': One of the Companions of the Prophet (may peace be upon), came upon us in Egypt. When he was narrating traditions in the Mosque of Egypt, I heard him say: I was the seventh or the sixth person in the company of the Messenger of Allah ( peace be upon him) in the house of a person. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He came out and passed by a person who had his fire-pan on the fire. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Has the food in the fire-pan been cooked? He replied: Yes, my parents be sacrificed upon you. He then took a piece out of it and continued to chew it until he uttered the first takbir (AllahuAkbar) of the prayer. All this time I was looking at him
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تمہاری ہانڈی پک گئی؟ ، اس نے جواب دیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا ۔
Narrated by Rabah ibn Rabi
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقِّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَىْءٍ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ ‏"‏ انْظُرْ عَلاَمَ اجْتَمَعَ هَؤُلاَءِ ‏"‏ فَجَاءَ فَقَالَ عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ ‏"‏ قُلْ لِخَالِدٍ لاَ يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلاَ عَسِيفًا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Rabah ibn Rabi': When we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition, he saw some people collected together over something and sent a man and said: See, what are these people collected around? He then came and said: They are round a woman who has been killed. He said: This is not one with whom fighting should have taken place. Khalid ibn al-Walid was in charge of the van; so he sent a man and said: Tell Khalid not to kill a woman or a hired servant
رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں ، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے ۱؎، مقدمۃ الجیش ( فوج کے اگلے حصہ ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Call yourselves by my name, but do not use my KUNYAH (surname). Abu Dawud said : Abu Salih has transmitted it in a similar way from Abu Hurairah, and similar are the traditions of Abu Sufyan from Jabir, of Salim b. Abl al-Ja’d from Jabir, of Sulaiman al-Yashkuri from Jabir, and of Ibn al-Munkadir from Jabir and similar others and Anas b. Malik
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ( یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ ‏"‏ وَلاَ يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَةَ ‏"‏ أَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً ‏"‏ ‏.‏
The version of this tradition narrated through a different chain by Shu’bah has the words:“A man should not lead the another man in prayer. Abu Dawud said: Yahya al-Qattan narrated from Shu’bah in a similar way, i.e. the earliest of them in recitation
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه» کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے «أقدمهم قرائة» ( لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو ) کی روایت کی ہے۔