Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ فَكَانَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Narrated Jabir:There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah (ﷺ) on a hot day. The Messenger of Allah (ﷺ)led his Companions in prayer and prolonged the standing until the people began to fall down. He then bowed and prolonged it; then he raised his head and prolonged (the stay); then he bowed and prolonged it; then he raised his head and prolonged (the stay); then he made two prostrations and then stood up; then he did in the same manner. He thus performed four bowings and four prostrations. Then the narrator narrated the rest of the tradition
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی، ( اس میں ) آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا ( رکوع ) کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا ( قیام ) کیا، پھر دو سجدے کئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح ( دو رکعت میں ) چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
Narrated by Hisham b. Sa'd
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ بَيْنَهُمَا عَشْرَةُ أَمْيَالٍ يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ وَسَرِفَ .
Narrated Hisham b. Sa'd:There was a distance of ten miles between them, that is, Mecca and Sarif
ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ قَالَ سُفْيَانُ كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلاً أَنَّ جَدَّهُمْ زَيْدًا صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ .
This tradition has also been transmitted by 'Ata b. Abi Rabah on the authority of Sa'd b. Sa'id through a different chain of narrators. Abu Dawud said:'Abd Rabbihi and Yahya b. Sa'id also narrated this tradition from the Prophet (ﷺ) omitting the name of the Companion (mursal). Their grandfather Zaid prayed along with the Prophet (ﷺ)
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔
Narrated by Abd Allah b. 'Amr
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " . فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ فَقَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " . قَالَ عَطَاءٌ وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي فَقَالَ بَعْضُنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ بَعْضُنَا خَمْسًا .
Narrated 'Abd Allah b. 'Amr:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Keep fast for three days of month, and finish the recitation of the Qur'an in one month. I and he differed among ourselves on period of time. He said: Fast one day and give it up other day. The narrator 'Ata said: The people differed from my father (in narrating the period of time). Some narrated seven days and others five
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو ، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ۱؎ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو ۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔
Narrated by AbuQatadah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ " مَتَى تُوتِرُ " قَالَ أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ . وَقَالَ لِعُمَرَ " مَتَى تُوتِرُ " . قَالَ آخِرَ اللَّيْلِ . فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ " أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ " . وَقَالَ لِعُمَرَ " أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ " .
Narrated AbuQatadah: The Prophet (ﷺ) asked AbuBakr: When do you observe the witr? He replied: I observe the witr prayer in the early hours of the night. The Prophet (ﷺ) asked Umar: When do you observe the witr? He replied: At the end of the night. He then said to AbuBakr: This has followed it with care; and he said to Umar: He has followed it with strength
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ ، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم کب پڑھتے ہو؟ ، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَىْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ كَمَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى حَدِيثَ النُّفَيْلِيِّ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَغَيْرُهُمَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ لَمْ يَرْفَعُوهُ أَوْقَفُوهُ عَلَى عَلِيٍّ .
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: I have given exemption regarding horses and slaves; with regard to coins, however, you must pay a dirham for every forty (dirhams), but nothing is payable on one hundred and ninety. When the total reaches two hundred, five dirhams are payable. Abu Dawud said: Al-A'mash transmitted this tradition from Abu Ishaq like the one transmitted by Abu 'Awanah. This tradition has also been narrated by Shaiban, Abu Mu'awiyah and Ibrahim b. Tahman from Abu Ishaq from al-Harith on the authority of 'Ali from the Prophet (ﷺ) to the same effect. The tradition reported by al-Nufail has also been narrated by Shu'bah, Sufyan, and others from Abu Ishaq from 'Asim from 'Ali, But they did not attribute it to the Prophet (ﷺ)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑا، غلام اور لونڈی کی زکاۃ معاف کر دی ہے لہٰذا تم چاندی کی زکاۃ دو، ہر چالیس ( ۴۰ ) درہم پہ ایک ( ۱ ) درہم، ایک سو نوے ( ۱۹۰ ) درہم میں کوئی زکاۃ نہیں، جب دو سو ( ۲۰۰ ) درہم پورے ہو جائیں تو ان میں پانچ ( ۵ ) درہم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش نے ابواسحاق سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے ابوعوانہ نے کی ہے اور اسے شیبان ابومعاویہ اور ابراہیم بن طہمان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق، حارث سے حارث نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نفیلی کی حدیث شعبہ و سفیان اور ان کے علاوہ لوگوں نے ابواسحاق سے ابواسحاق نے عاصم سے عاصم نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوعاً کے بجائے علی رضی اللہ عنہ پر موقوفاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ . قَالَ أَحْمَدُ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ عَنْ عَمْرٍو .
‘Abd al-Rahman bin `Uthman al-Taime said:The Messenger of Allah (SWAS) prohibited taking the find of pilgrims. Ibn Wahb said : One should leave the find of a pilgrim till its owner finds it
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، ابن موہب نے«أخبرني عمرو» کے بجائے «عن عمرو» کہا ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ أَفْلَحَ، - يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ - عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) appointed Dhat Irq as the place for putting on ihram for the people of Iraq
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق ۱؎ کو میقات مقرر کیا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ أَلْقَاهُ . وَالْوَهَمُ فِيهِ مِنْ هَمَّامٍ وَلَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ هَمَّامٌ .
Narrated Anas ibn Malik: When the Prophet (ﷺ) entered the privy, he removed his ring. Abu Dawud said: This is a munkar tradition, i.e. it contradicts the well-known version reported by reliable narrators. On the authority of Anas the well-known version says: The Prophet (ﷺ) had a silver ring made for him. Then he cast it off. The misunderstanding is on the part of Hammam (who is the narrator of the previous tradition mentioned in the text). This is transmitted only by Hammam
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی نکال کر رکھ دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے، معروف وہ روایت ہے جسے ابن جریج نے زیاد بن سعد سے، زیاد نے زہری سے اور زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ( اسے پہنا ) پھر اسے نکال کر پھینک دیا۔ اس حدیث میں ہمام راوی سے وہم ہوا ہے، اسے صرف ہمام ہی نے روایت کیا ہے۔
Narrated by Hajjaj ibn Malik al-Aslami
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعَةِ قَالَ " الْغُرَّةُ الْعَبْدُ أَوِ الأَمَةُ " . قَالَ النُّفَيْلِيُّ حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ الأَسْلَمِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ .
Narrated Hajjaj ibn Malik al-Aslami: I asked: Messenger of Allah, what will remove from me the obligation due for fostering a child? He said: A slave or a slave-woman
حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی یا غلام ( دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے ) سے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الَّذِي، كَانَ يَسْكُنُ إِيلْيَا قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ وَكَانَتْ قَدْ حَفِظَتْ مِنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ طَلاَقَ وَلاَ عَتَاقَ فِي غَلاَقٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْغِلاَقُ أَظُنُّهُ فِي الْغَضَبِ .
Muhammad ibn Ubayd ibn Abu Salih who lived in Ayliya said:I went out with Adi ibn Adi al-Kindi till we came to Mecca. He sent me to Safiyyah daughter of Shaybah who remembered a tradition (that she had heard) from Aisha. She said: I heard Aisha say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is no divorce or emancipation in case of constraint or duress (ghalaq). Abu Dawud said: I think ghalaq means anger
محمد بن عبید بن ابوصالح (جو ایلیاء میں رہتے تھے) کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ۱؎۔
Narrated by Ahmad b. 'Abd al-Wahid
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ كَانَ سَعِيدٌ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ - يَقُولُ سِرُّهُ أَوَّلُهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ سِرُّهُ وَسَطُهُ وَقَالُوا آخِرُهُ .
Narrated Ahmad b. 'Abd al-Wahid:On the authority of Abu Mushir. He said: Sa'id, that is, Ibn 'Abd al-'Aziz said: The meaning of the word sirraha is "in the beginning of it (the month)
ابومسہر کہتے ہیں سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں «سره» کے معنی «أوله» کے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «سره» کے معنی کچھ لوگ «وسطه»کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ «آخره» کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ أَبَدًا " .
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “An infidel and the one who killed him will never be brought together in Hell.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎ ۔
Narrated by Qatadah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مَا الأَعْضَبُ قَالَ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَهُ .
Narrated Qatadah:I asked Sa'id b. al-Musayyab: What is meant by animal with a slit ear and broken horn ? He replied: Half and more than half
قتادہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا: «اعضب» ( یا «عضباء» ) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ( جس کی سینگ یا کان ) آدھا یا آدھے سے زیادہ ٹوٹا یا کٹا ہوا ہو۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَشْيَاءَ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When a man dies, his action discontinues from him except three things, namely, perpetual sadaqah (charity), or the knowledge by which benefit is acquired, or a pious child who prays for him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے ( جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے ) : ایک صدقہ جاریہ ۱؎، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ۲؎، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے ۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنَ الأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ . قَالَ " اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلاً " . قَالَ فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ . قَالَ " فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ " عَلَىَّ الرَّجُلَ " . فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ " .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I have property left by a man of Azd. I do not find any man of Azd to give it to him. He said: Go and look for man of Azd for a year. He then came to him after one year and said: Messenger of Allah, I did not find any man of Azd to give it to him. He said: Look for a man of Khuza'ah whom you meet first and give it to him. When he turned away, he said; Call the man to me. When he came to him, he said: Look for the leading man of Khuza'ah and give it to him
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو ۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو ، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎ ۔
Narrated by Abu Humaid al-Sa'idi
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، - لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنُ الأُتْبِيَّةِ - عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَقَالَ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي . فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ " مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِيءُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي . أَلاَّ جَلَسَ فِي بَيْتِ أُمِّهِ أَوْ أَبِيهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ لاَ يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا فَلَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً فَلَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " .
Narrated Abu Humaid al-Sa'idi:The Prophet (ﷺ) appointed a man of Azd called Ibn al-Lutbiyayah (to collect sadaqah). The narrator Ibn al-Sarh said: (He appointed) Ibn al-Utbiyyah to collect the sadaqah. When he returned he said: This is for you and this was given to me as present. So the Prophet (ﷺ) stood on the pulpit, and after praising and extolling Allah he said: What is the matter with a collector of sadaqah. We send him (to collect sadaqah), and when he return he says: This is for you and this is a present which was given to me. Why did he not sit in his father's or mother's house and see whether it would be given to him or not ? Whoever takes any of it will inevitably bring it on the Day of Resurrection, be it a camel which rumbles, an ox which bellows, or sheep which-bleats. Then raising his arms so that we could see where the hair grow under his armpits, he said: O Allah, have I given full information ? O Allah, have I given full information ?
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا ( ابن سرح کی روایت میں ابن اتبیہ ہے ) جب وہ ( وصول کر کے ) آیا تو کہنے لگا: یہ مال تو تمہارے لیے ہے ( یعنی مسلمانوں کا ) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: عامل کا کیا معاملہ ہے؟ کہ ہم اسے ( وصولی کے لیے ) بھیجیں اور وہ ( زکاۃ کا مال لے کر ) آئے اور پھر یہ کہے: یہ مال تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، کیوں نہیں وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے کہ نہیں ۱؎، تم میں سے جو شخص کوئی چیز لے گا وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا، اگر اونٹ ہو گا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر بیل ہو گا تو ڈکار رہا ہو گا، اگر بکری ہو گی تو ممیا رہی ہو گی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائے کہ ہم نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ ( یعنی تو گواہ رہ جیسا تو نے فرمایا ہو بہو ویسے ہی میں نے اسے پہنچا دیا ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَىِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ " إِلَى صَلاَةٍ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: When a man comes to visit a sick person, he should say: O Allah, cure Thy servant, who may then wreak havoc on an enemy for your sake, or walk at a funeral for your sake. Abu Dawud said: Ibn As-Sarh (one of the narrators) said: "Ilas-salat (To the Salat)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، مِثْلَهُ .
A similar tradition has also been transmitted by Yusuf b. 'Abd Allah b. Salam through a different chain of narrators
اس سند سے بھی یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اسی کے مثل مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، رَفَعَهُ - قَالَ عُثْمَانُ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ قَالَ اشْتَرَى مِنْ عِيرٍ تَبِيعًا وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنُهُ فَأُرْبِحَ فِيهِ فَبَاعَهُ فَتَصَدَّقَ بِالرِّبْحِ عَلَى أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لاَ أَشْتَرِي بَعْدَهَا شَيْئًا إِلاَّ وَعِنْدِي ثَمَنُهُ .
A similar tradition has also been transmitted by Ibn 'Abbas though a different chain of narrators. This version says:"He (the Prophet) purchased a calf from a caravan, but he had no money with him. He then sold it with some profit and gave the profit in charity to the poor and widows of Banu 'Abd al-Muttalib. He then said: I shall not buy anything after this but only when I have money with me
عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: «حدثنا وكيع، عن شريك، عن سماك، عن عكرمة، – عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا: آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی چیز نہ خریدوں گا ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِصَّةِ الْعَبْدِ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِقِصَّةِ النَّخْلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَاخْتَلَفَ الزُّهْرِيُّ وَنَافِعٌ فِي أَرْبَعَةِ أَحَادِيثَ هَذَا أَحَدُهَا .
This tradition has also been narrated by 'Umar from the Messenger of Allah (ﷺ) through a different chain of narrators. It mentions only the sale of the slave. It has also been transmitted by Nafi' on the authority of Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) indicating only the sale of palm-trees. Abu Dawud said:Al-Zuhri and Nafi' differed among themselves in four traditions. This is one of them
عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقْضِي الْحَكَمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .
Abd al-Rahman bin Abi Bakrah reported on the authority of his father that he wrote to his son:The Messenger of Allah (ﷺ) said: A judge should not decide between the two while he is in anger
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: You hear (from me), and others will hear from you; and people will hear from them who heard from you
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ( علم دین ) مجھ سے سنتے ہو اور لوگ تم سے سنیں گے اور پھر جن لوگوں نے تم سے سنا ہے لوگ ان سے سنیں گے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، - قَالَ مُوسَى هُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الأَنْصَارِيُّ - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Every intoxicant is forbidden; if a faraq of anything causes intoxication, a handful of it is forbidden
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَكْثَرُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ جَرِيرٍ لاَ يَذْكُرُ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهَارُونُ النَّحْوِيُّ ذَكَرَ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ أَيْضًا وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) forbade that the food of two people who were rivalling on another should be eaten Abu Dawud said: Most of those who narrated it from Jarir did not mention the name of Ibn Abbas. Harun al-Nahwi mentioned Ibn 'Abbas in it, and Hammad bin Zaid did not mention Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔
Narrated by Tariq ibn Suwayd or Suwayd ibn Tariq
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ذَكَرَ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ أَوْ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَنَهَاهُ فَقَالَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا دَوَاءٌ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَلَكِنَّهَا دَاءٌ " .
Narrated Tariq ibn Suwayd or Suwayd ibn Tariq: Wa'il said: Tariq ibn Suwayd or Suwayd ibn Tariq asked the Prophet (ﷺ) about wine, but he forbade it. He again asked him, but he forbade him. He said to him: Prophet of Allah, it is a medicine. The Prophet (ﷺ) said: No it is a disease
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ بیماری ہے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمِ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ قَالَ سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ قَالَ كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ فَهَلَكُوا فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لاَ تَلِدُ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"An omen is in a dwelling, a woman or a horse." Abu Dawud said: This tradition was read out to al-Harith b. Miskin and I was witness. It was said to him that Ibn Qasim told him that Malik was asked about evil omen in a horse and in a house. He replied: There are many houses in which people lived and perished and again others lived therein and they also perished. This is its explanation so far as we know. Allah knows best. Abu Dawud said: 'Umar (ra) said: A mat in a house better than a woman who does not give birth to a child
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) to the same effect as mentioned by Ibrahim b. Musa through a different chain
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ - أَخْبَرَنَا هَارُونُ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ " . قَالَ وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ " دُرِّيٌّ " . مَرْفُوعَةُ الدَّالِ لاَ تُهْمَزُ " وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: A man from the Illiyyun will look downwards at the people of Paradise and Paradise will be glittering as if it were a brilliant star. He (the narrator) said: In this way the word durri (brilliant) occurs in this tradition, i.e. the letter dal (d) has short vowel u and it has no hamzah ('). AbuBakr and Umar will be of them and will have some additional blessings
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔
Narrated by Sa'd
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْمَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ فَقَالَ كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . هَذَا لَفْظُ عُثْمَانَ وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِهِ .
Narrated Sa'd: I saw a man riding on a white mule and he had a black turban of silk and wool. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) put it on me. This is the version of Uthman, and there is the word akhbara in his tradition
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ " حَبَسُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
Ali (may Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying on the day of Battle of Khandaq (Trench). They (the unbelievers) prevented us from offering the middle prayer i.e. 'Asr prayer. May Allah fill their houses and their graves with Hell-fire
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ہم کو انہوں نے ( یعنی کافروں نے ) نماز وسطیٰ ( یعنی عصر ) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، - زَعَمَ عُمَرُ أَنَّ يَحْيَى، سَمَّى ذَلِكَ الرَّجُلَ فَنَسِيَ عُمَرُ اسْمَهُ - أَنَّ عَمَّارًا قَالَ تَخَلَّقْتُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ . وَالأَوَّلُ أَتَمُّ بِكَثِيرٍ فِيهِ ذَكَرَ الْغُسْلَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ وَهُمْ حُرُمٌ قَالَ لاَ الْقَوْمُ مُقِيمُونَ .
The tradition mentioned above (No. 4164) has also been transmitted by Ammar ibn Yasir through a different chain of narrators. This version has:Ammar said: I used khaluq. The first version is more perfect; it mentioned "taking a bath". Ibn Jurayj said: I said to Umar (a transmitter): They might be wearing ihram (robe of pilgrim)? He replied: No, they were residents
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں دھونے کا ذکر ہے ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ جَدَّهُ، عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلاَبِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ .
AbdurRahman ibn Tarafah said that his grandfather Arfajah ibn As'ad who had his nose cut off at the battle of al-Kilab got a silver nose, but it developed a stench, so the Prophet (ﷺ) ordered him to get a gold nose
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud ; Khuraym ibn Fatik
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ وَابِصَةَ الأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَابِصَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ " قَتْلاَهَا كُلُّهُمْ فِي النَّارِ " . قَالَ فِيهِ قُلْتُ مَتَى ذَلِكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ تِلْكَ أَيَّامُ الْهَرْجِ حَيْثُ لاَ يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ . قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ قَالَ تَكُفُّ لِسَانَكَ وَيَدَكَ وَتَكُونُ حِلْسًا مِنْ أَحْلاَسِ بَيْتِكَ . فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ طَارَ قَلْبِي مَطَارَهُ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ دِمَشْقَ فَلَقِيتُ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ فَحَدَّثْتُهُ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَسَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا حَدَّثَنِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud ; Khuraym ibn Fatik: The tradition mentioned above (No. 4243) has also been transmitted by Ibn Mas'ud through a different chain of narrators. Ibn Mas'ud said: I heard the Prophet (ﷺ) say: He then mentioned a portion of the tradition narrated by AbuBakrah (No. 4243). This version adds: He (the Prophet) said: All their slain will go to Hell. I (Wabisah) asked: When will this happen Ibn Mas'ud? He replied: This is the period of turmoil (harj) when a man will not be safe from his associates. I asked: What do you command me (to do) if I happen to live during that period? He replied: You should restrain your tongue and hand and stay at home. When Uthman was slain, I recollected this tradition. I then rode (on a camel) and came to Damascus. There I met Khuraym ibn Fatik and mentioned this tradition to him. He swore by Allah, there was no god but He, he had heard it from the Messenger of Allah (ﷺ), as Ibn Mas'ud transmitted it to me (Wabisah)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہو گا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ۱؎، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لاَ يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلاَّ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: Leave the Abyssinians alone as long as they leave you alone, for it is only the Abyssinian with short legs who will seek to take out the treasure of the Ka'bah
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں ۱؎، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے ایک باریک پنڈلیوں والے حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۲؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، - قَالَ أَحْمَدُ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَاقُوهَا وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ . قَالَ وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ وَهُمُ الَّذِينَ أَخْبَرَ عَنْهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ .
Narrated Abdullah ibn Umar: Some people raided the camels of the Prophet (ﷺ), drove them off, and apostatised. They killed the herdsman of the Messenger of Allah (ﷺ) who was a believer. He (the Prophet) sent (people) in pursuit of them and they were caught. He had their hands and feet cut off, and their eyes put out. The verse regarding fighting against Allah and His Prophet (ﷺ) was then revealed. These were the people about whom Anas ibn Malik informed al-Hajjaj when he asked him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلاَ يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ . وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلاَ يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ . زَادَ فَأَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً سَمَّتْهَا فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا وَأَكَلَ الْقَوْمُ فَقَالَ " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ " . فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ " مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ " . قَالَتْ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ الَّذِي صَنَعْتُ وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ . فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَتْ ثُمَّ قَالَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ " مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنَ الأَكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي " .
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) would accept a present, but would not accept alms (sadaqah). And Wahb bin Baqiyyah narrated to us, elsewhere, from Khalid, from Muhammad ibn Amr said on the authority of AbuSalamah, and he did not mention the name of Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to accept presents but not alms (sadaqah). This version adds: So a Jewess presented him at Khaybar with a roasted sheep which she had poisoned. The Messenger of Allah (ﷺ) ate of it and the people also ate. He then said: Take away your hands (from the food), for it has informed me that it is poisoned. Bishr ibn al-Bara' ibn Ma'rur al-Ansari died. So he (the Prophet) sent for the Jewess (and said to her): What motivated you to do the work you have done? She said: If you were a prophet, it would not harm you; but if you were a king, I should rid the people of you. The Messenger of Allah (ﷺ) then ordered regarding her and she was killed. He then said about the pain of which he died: I continued to feel pain from the morsel which I had eaten at Khaybar. This is the time when it has cut off my aorta
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو، اس ( گوشت ) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے چنانچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مر گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا: ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ وہ بولی: اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ قتل کر دی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا: جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آ گیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ، لِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلأَرْضِ قَالَ لاَ بَلْ لِلأَرْضِ . قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ قَالَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ . قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى { مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ } قَالَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ لاَ يَفْتِنُونَ بِضَلاَلَتِهِمْ إِلاَّ مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ .
Khalid al-Hadhdha said:I said to al-Hasan: Abu Sa’id, tell me about Adam. Was he created for the heaven or the earth? He said: No, for the earth. I said: It was unavoidable for him. I said: Tell me about the following verse of the Quran: ”can lead (any) into temptation concerning Allah, except such as are (themselves) going to blazing fire.” He said: The devils do not lead anyone astray by their temptation except the one whom Allah destined to go to Hell
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو ( الصافات: ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . أَوْ " بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ " . ثُمَّ قَالَ " ائْذَنُوا لَهُ " . فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ . قَالَ " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ - أَوْ تَرَكَهُ - النَّاسُ لاِتِّقَاءِ فُحْشِهِ " .
A’isha said :A man asked permission to see the Prophet (ﷺ), and he said: He is a bad son of the tribe, or: He is a bad member of the tribe. He then said : Give him permission. Then when he entered, he spoke to him leniently. `A’isha asked : Apostle of Allah! You spoke to him leniently while you said about him what you said! He replied: The one who will have the worst position in Allah’s estimation on the Day of Resurrection will be the one whom people left alone for fear of his ribaldry
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو، جب وہ اندر آ گیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالانکہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو ۔