Narrated by Al-Mughirah ibn Shu'bah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ ضِفْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ - قَالَ - فَجَاءَ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ - قَالَ - فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ وَقَالَ " مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ " . وَقَامَ يُصَلِّي . زَادَ الأَنْبَارِيُّ وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ . أَوْ قَالَ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ .
Narrated Al-Mughirah ibn Shu'bah: One night I became the guest of the Prophet (ﷺ). He ordered that a piece of mutton be roasted, and it was roasted. He then took a knife and began to cut the meat with it for me. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He threw the knife and said: What happened! may his hands be smeared with earth! He then stood for offering prayer. Al-Anbari added: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a took-stick; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there. Al-Anbari said: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a tooth-stick ; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا ، وہ بھونی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی ، تو آپ نے چھری رکھ دی ، اور فرمایا : ” اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ “ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : ” میری موچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا “ ، یا فرمایا : ” میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا “ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، بِإِسْنَادِهِ زَادَ " فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Hafs bin Ghiyath from Ja’far with the same chain of narrators. But this version adds “Sacrifice in your dwellings.”
اس سند سے بھی جعفر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: «فانحروا في رحالكم» کہ تم لوگ اپنی قیام گاہوں میں نحر کرو۔
Narrated by AbuUsayd as-Sa'idi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَجِيحٍ، - وَلَيْسَ بِالْمَلْطِيِّ - عَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ " إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَلاَ تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ " .
Narrated AbuUsayd as-Sa'idi: The Prophet (ﷺ) said at the battle of Badr: When they come near you shoot arrows at them; and do not draw swords at them until they come near you
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: جب وہ ( دشمن ) تم سے قریب ہو جائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ۱؎ تلوار نہ سونتنا ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا وَأَفْلَحَ وَبَرَكَةَ " . قَالَ الأَعْمَشُ وَلاَ أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لاَ " فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةٌ فَيَقُولُونَ لاَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If I survive (God willing), I shall forbid my people to give the names Nafi' (beneficial), Aflah (successful) and Barakah (blessing). Al-A'mash said: I do not know whether he mentioned Nafi' or not. When a man comes and asks: Is there Barakah (blessing)? The people say: No. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Zubair on the authority of Jabir from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. This version has no mention of Barakah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، ( اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں ( سفیان ) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں ) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، ( تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ فَقَالَ يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلاَةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلاَةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا . فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ " .
A man from Banu Asad b. Khuzaimah asked Abu Ayyub al-Ansari:if one of us prays in his house, then comes to the mosque and finds that the iqamah is being called, and if I pray along with them ( in congregation), I feel something inside about it. Abu Ayyub replied: We asked the Prophet (ﷺ) about it. He said: That is a share from the spoils received by the warriors (i.e. he will receive double the reward of the prayer)
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔