بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
Narrated by Busrah daughter of Safwan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ‏.‏ فَقَالَ عُرْوَةُ مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Busrah daughter of Safwan: Abdullah ibn AbuBakr reported that he heard Urwah say: I entered upon Marwan ibn al-Hakam. We mentioned things that render the ablution void. Marwan said: Does it become void by touching the penis? Urwah replied: This I do not know. Marwan said: Busrah daughter of Safwan reported to me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who touches his penis should perform ablution
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی ( وضو ہے ) ، اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے“۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ‏}‏ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ كَلاَّ لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ‏}‏ ‏.‏
‘Urwa bin Al Zubair said I said to A’ishah, wife of the Prophet(ﷺ) while I was a boy. What do you think about the pronouncement of Allaah, the Exalted “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah. “I think there is no harm for anyone if he does not run between them. A’ishah(may Allah be pleased with her) said Nay, had it been so as you said, it would have been thus. It is no sin on him not to go around them. This verse was revealed about the Ansaar, they used to perform hajj for Manat. Manat was erected in front of Qudaid. Hence they used to avoid going around Al Safa and Al Marwah. When Islam came, they asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about it. Allaah, the Exalted therefore revealed the verse “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہرگز نہیں، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری، وہ مناۃ ( یعنی زمانہ جاہلیت کا بت ) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مَطَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏.‏
A similar tradition has also been transmitted by Abu Bardah on the authority of his father from the Prophet (ﷺ)
ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ قَالَ سَمَّيْتُهَا بَرَّةَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ هَذَا الاِسْمِ سُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ مَا نُسَمِّيهَا قَالَ ‏"‏ سَمُّوهَا زَيْنَبَ ‏"‏ ‏.‏
Muhammad b. ‘Amr b. ‘Ata said :Zainab daughter of Abu Salamah asked him: Which name did you give to your daughter? He replied : Barrah. She said: The Messenger of Allah (May peace be upon him) forbade giving this name. I was called Barrah but the Prophet (May peace be upon him) said: Do not declare yourselves pure, for Allah knows best those of you who are obedient. He said: we asked; which name should we give her? He replied: Call her Zainab
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر ( میرے گھر والوں میں سے ) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :if we reserve this door for women (it would be better). Nafi' said: Ibn ‘Umar did not enter through it( the door) till he died. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though a different chain of transmitters by 'Umar. And this is more correct
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو زیادہ اچھا ہو ) ۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم»کے بجائے «قال عمر» ( عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔