حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لَهَا مَنْ هِيَ إِلاَّ أَنْتِ فَضَحِكَتْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ وَعَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ .
Aishah reported:The Prophet (ﷺ) kissed one of his wives and went out to pray (salah). He did not perform ablution. 'Urwah said: I said to her: Who is she except you! Thereupon she laughed. Abu Dawud said: The same version has been reported through a different chain of narrators
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا جِئْنَا دُبَرَ الْكَعْبَةِ قُلْتُ أَلاَ تَتَعَوَّذُ . قَالَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ . ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ .
Amr b. Shu'aib reported on the authority of his father:I went round the Ka'bah along with Abdullah ibn Amr. When we came behind the Ka'bah I asked: Do you not seek refuge? He uttered the words: I seek refuge in Allah from the Hell-fire. He then went (farther) and touched the Black Stone, and stood between the corner (Black Stone) and the entrance of the Ka'bah. He then placed his breast, his face, his hands and his palms in this manner, and he spread them, and said: I saw the apostle of Allah (ﷺ) doing like this
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
Narrated by An-Nu'man ibn Muqarrin
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النُّعْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ مُقَرِّنٍ - قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ .
Narrated An-Nu'man ibn Muqarrin: I was present at fighting along with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he did not fight at the beginning of the day, he waited till the sun had passed the meridian, the winds blew, and help came down
نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( لڑائی میں ) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال ( لڑائی ) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ قَالَ " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ " . قُلْتُ نَعَمْ - قَالَ - فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاَكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرُ " . وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
Anas said; I took ‘Abd Allah b. Abi Talhah, when he was born, to the Prophet (May peace be upon him), and the prophet (May peace be upon him) was wearing a wool;en cloak and rubbing tar on his camel. He asked:Have you some dates? I said : Yes. I then gave him some dates which he put in his mouth, chewed them, opened his mouth and them in it. The baby began to lick them. The prophet (May peace be upon him) said: ANSAR’s favourite (fruit) is dates. And he gave him the name of ‘Abd al-Rahman
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے اور آپ نے اس لڑکے کا نام عبداللہ رکھا۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ . قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَمُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَتْ نَعَمْ .
‘A’ishah (Allah be pleased with her), wife of the prophet (ﷺ), said ; if the Messenger of Allah (ﷺ) had seen what the women have invented, he would have prevented them from visiting the mosque (for praying), as the women of the children of the Israel were prevented. Yahya (the narrator) said; I asked ‘Umrah ; were the women of Israel prevented? She said:yes
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ چیزیں دیکھتے جو عورتیں کرنے لگی ہیں تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔