بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
Narrated by Some Companions of the Prophet
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، - هُوَ ابْنُ سَعْدٍ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاَةَ ‏.‏
Narrated Some Companions of the Prophet: The Prophet (ﷺ) saw a person offering prayer, and on the back of his foot a small part equal to the space of a dirham remained unwashed; the water did not reach it. The Prophet (ﷺ) commanded him to repeat the ablution and prayer
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الأَوَّلَ ‏.‏
Jabir bin ‘Abdallah said “Neither the Prophet (ﷺ) nor his Companions ran between Al Safa’ and Al Marwah except once and that was his first running.”
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ( جنہوں نے قران کیا تھا ) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ انْطَلَقَ حَاطِبٌ فَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَدْ سَارَ إِلَيْكُمْ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ ‏.‏ فَانْتَحَيْنَاهَا فَمَا وَجَدْنَا مَعَهَا كِتَابًا فَقَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لأَقْتُلَنَّكِ أَوْ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
‘Ali said “Hatib went and wrote to the people of Makkah that Muhammad (ﷺ) is going to proceed to them. This version has “She said “I have no letter. We made her Camel kneel down, but we did not find any letter with her. ’Ali said “By Him in Whose name oath is taken, I shall kill you or you should bring out the letter. He then narrated the rest of the tradition
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، ورنہ خط مجھے نکال کر دے، پھر پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ ‏:‏ إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمُخْدَجَ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكَانَ فَقِيرًا وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاكِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مَعَ النَّاسِ وَقَدْ كَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي ‏.‏ قَالَ أَبُو مَرْيَمَ ‏:‏ وَكَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّى نَافِعًا ذَا الثُّدَيَّةِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ عَلَى رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْىِ عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السِّنَّوْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ ‏.‏
Abu Maryam said:This man with the crippled hand was on that day with us in the mosque. We would sit with him by day and by night, and he was a poor man. I saw him attending the meals of ‘Ali (ra) which he took with the people, and I clothed him with a cloak of mine. Abu Maryam said: The man with the crippled hand was called Nafi` Dhu al-Thadyah (Nafi`, man of nipple). He had in his hand something like a female breast with a nipple at it ends like the nipple of the female breast. If had some hair on it like the whiskers of cat. Abu Dawud said: He was known among the people by the name of Harqus
ابومریم کہتے ہیں کہ یہ «مخدج» ( لنجا ) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے، وہ فقیر تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی رضی اللہ عنہ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا۔ ابومریم کہتے ہیں: لوگ «مخدج» ( لنجے ) کو «نافعا ذا الثدية» ( پستان والا ) کا نام دیتے تھے، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Hudhaifah said :Your prophet (May peace be upon him) said : Every good act is a SADAQAH (almsgiving)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بھلی بات صدقہ ہے ۱؎ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاَتٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: Do not prevent the female servants of Allah from visiting the mosques of Allah, but they may go out (to the mosque) having no perfumed themselves
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں ۔