حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى قَتَادَةَ .
Hasan narrated from the Prophet (ﷺ) a tradition conveying the same meaning as that of Qatadah
اس سند سے حسن (حسن بصری) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ ( قتادہ ابن دعامۃ ) کی حدیث کے ہم معنی ( مرسلاً ) روایت کی ہے۔
Narrated by Jubayr ibn Mut'im
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَىَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " . قَالَ الْفَضْلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا " .
Narrated Jubayr ibn Mut'im: The Prophet (ﷺ) said: Do not prevent anyone from going round this House (the Ka'bah) and from praying any moment he desires by day or by night. The narrator Fadl (ibn Ya'qub) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Banu Abdu Munaf, do not stop anyone
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر ( کعبہ ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو ۔ فضل کی روایت کے میں ہے: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! کسی کو مت روکو
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، - وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا هَلُمِّي الْكِتَابَ . فَقَالَتْ مَا عِنْدِي مِنْ كِتَابٍ . فَقُلْتُ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ . فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا هَذَا يَا حَاطِبُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَإِنَّ قُرَيْشًا لَهُمْ بِهَا قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي بِهَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ بِي مِنْ كُفْرٍ وَلاَ ارْتِدَادٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَكُمْ " . فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " .
‘Ali said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent me Al Zubair and Al Miqdad and said “Go till you come to the meadow of Khakh for there Is a woman there travelling on a Camel who has a letter which you must take from her. We went off racing one another on our horses till we came to the meadow and when we found the woman, we aid “Bring out the letter. She said “I have no letter”. I said “You must bring out the letter else we strip off your clothes”. She then brought it out from the tresses and we took it to the Prophet(ﷺ). It was addressed from Hatib bin Abi Balta’ah to some of the polytheists(in Makkah) giving them some information about the Apostle of Allaah(ﷺ). He asked “What is this, Hatib? He replied, Apostle of Allaah(ﷺ) do not be hasty with me. I have been a man attached as an ally to the Quraish and am not one of them while those of the Quraish (i.e. the emigrants) have relationship with them by which they guarded their family in Makkah. As I did not have that advantage I wanted to give them some help for which they might guard my relations. I swear by Allaah I am not guilty of unbelief or apostasy (from my religion). The Apostle of Allaah(ﷺ) said “he has told you the truth. ‘Umar said “Let me cut off this hypocrite’s head. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “He was present at Badr and what do you know, perhaps Allaah might look with pity on those who were present at Badr? And said “Do what you wish, I have forgiven you.”
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے، کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حاطب یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں، خاص ان میں سے نہیں ہوں، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں، قسم اللہ کی! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے: مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو جھانک کر نظر رحمت سے دیکھا، اور فرمایا: تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَضِيءِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ : اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى فِي طِينٍ، قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ قُرَيْطَقٌ لَهُ إِحْدَى يَدَيْنِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهَا شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ شُعَيْرَاتِ الَّتِي تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ .
‘Ali said:Search for the man with crippled hand. He then mentioned the rest of the tradition. This version has: They took him out from beneath the slain in the dust. Abu al-wadi said: As if I am looking at an Abyssinian with a shirt on him. He had one of his hands like the nipple of the female breast, having hair on it like the hair on the tail of the jerboa
ابوالوضی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «مخدج» ( لنجے ) کو تلاش کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - الْمَعْنَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ عُثْمَانُ وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ ح وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، - وَقَالَ وَاصِلٌ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ - وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ " وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ " .
Abu Hurairah reported the prophet (ﷺ) as saying:If anyone removes his brother’s anxiety of this world, Allah will remove for him one of the anxieties of the Day of resurrection; if anyone makes easy for an impoverished man, Allah will make easy for him in this world and on the day of resurrection; if anyone conceals a Muslim’s secrets, Allah will conceal his secrets in this world and on the Day of resurrection; Allah will remain in the aid of a servant so long as the servant remains in the aid of his brother. Abu Dawud said: ‘Uthman did not transmit the following words from Abu Mu’awiyah: “if anyone makes easy for an impoverished man”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ طَحْلاَءَ - عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلاَّهَا وَحَضَرَهَا لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: whoever performs ablution, and performs his ablution perfectly, and then goes to the mosque and finds that the people had finished the prayer (in congregation), Allah will give him a reward like one who prayed in congregation and attended it; The reward of those who prayed in congregation will not be curtailed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔