حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ . قَالَ " عَمْدًا صَنَعْتُهُ " .
Buraidah on the authority of his father reported:The Messenger of Allah (ﷺ) performed five prayers with the same ablution of the occasion of the capture of Mecca, and he wiped over his socks. ‘Umar said to him(the Prophet): I saw you doing a thing today that you never did. He said: I did it deliberately
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn as-Sa'ib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ { رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } .
Narrated Abdullah ibn as-Sa'ib: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say between the two corners: O Allah, bring us a blessing in this world and a blessing in the next and guard us from punishment of Hell
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان«ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ( سورۃ البقرہ: ۹۶ ) کہتے سنا، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَزَلَتْ فِي يَوْمِ بَدْرٍ { وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ } .
Abu Sa’id said “The verse “If any do turn his back to them on such a day” was revealed on the day of the Battle of Badr.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ومن يولهم يومئذ دبره» ۱؎ بدر کے دن نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا فَلأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خُدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : " يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لاَ يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
‘Ali said:When I mention a tradition to you from the Messenger of Allah (May peace be upon him), it is dearer to me that I fall from the heaven than I lie on him. But when I talk to you about matters between me and you, then war is a deception. I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: Towards the end of the time there will be people who are young in age and from Islam as an arrow goes through the animal aimed at, and their faith will not pass their throats. Wherever you meet them kill them, for their killing will bring a reward for him who kills them on the day of Resurrection
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ چالاکی و فریب دہی ہوتی ہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہو گا جو انہیں قتل کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ " . قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ وَأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " .
Tamim al-Dari reported the Prophet (May peace be upon him) as saying; Religion conduct; religion consists in sincere conduct. The people asked; to whom should it be directed, Messenger of Allah? He replied :To Allah, his book, his Apostle, the leaders (public authorities) of the believers and all the believers, and the leaders (public authorities) of Muslim and the Muslims and the Muslims in general
سیدنا تمیم داری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین نصیحت (خلوص و خیر خواہی) کا نام ہے۔ دین نصیحت کا نام ہے۔ دین نصیحت کا نام ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے ﷲ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ﷲ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، اہل ایمان کے ائمہ و حکام اور عام لوگوں کے لیے۔“
Narrated by Ka'b ibn Ujrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَهُمْ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ أَدْرَكَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ قَالَ فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ بِيَدَىَّ فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يُشَبِّكَنَّ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ فِي صَلاَةٍ " .
Narrated Ka'b ibn Ujrah: AbuThumamah al-Hannat said that Ka'b ibn Ujrah met him while he was going to the mosque; one of the two (companions) met his companion (on his way to the mosque) And he met crossing the fingers of my both hands. He prohibited me to do so, and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has said: If any of you performs ablution, and performs his ablution perfectly, and then goes out intending for the mosque, he should not cross the fingers of his hand because he is already in prayer
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ثمامہ حناط نے بیان کیا ہے کہ وہ مسجد جا رہے تھے کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں راستہ میں پا لیا، تو دونوں ایک دوسرے سے ملے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پیوست کئے ہوئے پایا تو اس سے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے ۔