حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ، - وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ - عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ " فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ " . ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ . فَقَالَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ .
‘Uqbah b. ‘Amir al-JuhanI narrated this tradition from the Prophet(ﷺ) in a similar way. He did not mention about tending the camels. After the words “and he performed ablution well” he added the words:“he then raises his eyes towards the sky”. He transmitted the tradition conveying the same meaning as that of Mu’awiyah
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «فأحسن الوضوء» کے بعد یہ جملہ کہا ہے: پھر اس نے ( یعنی وضو کرنے والے نے ) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی ۱؎۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاَثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions performed umrah from al-Ji'ranah and walked proudly with rapid strides round the House (the Ka'bah) in three circuits and walked as usual in four circuits
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَزَلَتْ { إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ } فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ لاَ يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ تَخْفِيفٌ فَقَالَ { الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ } قَرَأَ أَبُو تَوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ { يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ } قَالَ فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْهُمْ .
Ibn ‘Abbas said “When the verse “If there are twenty amongst you patient and persevering, they will vanquish two hundred” was revealed. It was heavy and troublesome for Muslims when Allaah prescribed for them that one (fighting Muslim) should not fly from ten (fighting Non-Muslims). Then a light commandment was revealed saying “For the present Allaah hath lightened your (task).” The narrator Abu Tawbah recited the verse to “they will vanquish two hundred.” When Allaah lightened the number, patient and perseverance also decreased according to the number lightened from them.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے ( سورۃ الانفال: ۶۵ ) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کر دیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا: «الآن خفف الله عنكم» اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے ( سورۃ الانفال: ۶۶ ) ۔ ابوتوبہ نے پوری آیت «يغلبوا مائتين» تک پڑھ کر سنایا اور کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کر دی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کر دی۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri ; Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ - يَعْنِي الْوَلِيدَ - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلاَفٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ لاَ يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَىْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سِيمَاهُمْ قَالَ : " التَّحْلِيقُ " .
Narrated AbuSa'id al-Khudri ; Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: Soon there will appear disagreement and dissension in my people; there will be people who will be good in speech and bad in work. They recite the Qur'an, but it does not pass their collar-bones. They will swerve from the religion as an animal goes through the animal shot at. They will not return to it till the arrow comes back to its notch. They are worst of the people and animals. Happy is the one who kills them and they kill him. They call to the book of Allah, but they have nothing to do with it. He who fights against them will be nearer to Allah than them (the rest of the people). The people asked: What is their sign? He replied: They shave the head
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ ( اپنی روش سے ) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار ( اپنی ابتدائی جگہ ) پر الٹا نہ آ جائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ مَنْصُورٌ - قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ أَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ فَقَالَ إِذَا قَرَأْتَهُ عَلَىَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ ثُمَّ اتَّفَقَا - عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صلى الله عليه وسلم صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ يَقُولُ " لاَ تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلاَّ مِنْ شَقِيٍّ " .
Narrated AbuHurayrah: I heard AbulQasim (ﷺ) who spoke the truth and whose word was verified say: Mercy is taken away only from him who is miserable
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ۱؎ فرماتے سنا ہے: رحمت ( مہربانی و شفقت ) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ۲؎ ۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّلاَةُ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلاَةً فَإِذَا صَلاَّهَا فِي فَلاَةٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ خَمْسِينَ صَلاَةً " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَدِيثِ " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الْفَلاَةِ تُضَاعَفُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي الْجَمَاعَةِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: Prayer in congregation is equivalent to twenty-five prayers (offered alone). If he prays in a jungle, and performs its bowing and prostrations perfectly, it becomes equivalent to fifty prayers (in respect of reward). Abu Dawud said: 'Abd al-Walid b. Ziyad narrated in his version of this tradition: "Prayer said by a single person in a jungle is more excellent by multiplied degrees than prayer said in congregation
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز ( کا ثواب ) پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور جب اسے چٹیل میدان میں پڑھے اور رکوع و سجدہ اچھی طرح سے کرے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالواحد بن زیاد کی روایت میں یوں ہے: آدمی کی نماز چٹیل میدان میں باجماعت نماز سے ثواب میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔