Narrated by Al-Mughirah ibn Shu'bah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - قَالَ مَحْمُودٌ - أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ .
Narrated Al-Mughirah ibn Shu'bah: I poured water while the Prophet (ﷺ) performed ablution in the battle of Tabuk. He wiped over the upper part of the socks and their lower part. Abu Dawud said: I have been told that Thawr did not hear this tradition from Raja
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ . قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ . فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَاِمِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاَثًا " . وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ . قُلْتُ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لاَ يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُصْرَفُونَ عَنْهُ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلاَمَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلاَ تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ .
Abu Al Tufail said I said to Ibn ‘Abbas Your people think that the Apostle of Allaah(ﷺ) walked proudly with swift strides while going round the Ka’bah and that it is sunnah (practice of the Prophet). He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part).” I asked “What truth did they speak and what lie did they tell?” He said “They spoke the truth that the Apostle of Allaah(ﷺ) walked proudly while going round the Ka’bah but they told a lie, this is no sunnah. The Quraish asserted during the days of Al Hudaibiyyah “Forsake Muhammad and his Companions till they die the death of a Camel which dies of bacteria in its nose. When they concluded a treaty with him agreeing upon the fact that they (the Prophet and his Companions) would come (to Makkah) next year and stay at Makkah three days, the Apostle of Allaah(ﷺ) said to the Companions “Walk proudly (moving shoulders) while going round the Ka’bah in first three circuits. (Ibn ‘Abbas said) But this is not sunnah. I said “Your people think that the Apostle of Allaah(ﷺ) ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel and that is sunnah.” He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). I asked “What truth did they speak and what lie did they tell? He said “they spoke the truth that the Apostle of Allaah(ﷺ) ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel. They told a lie that it is a sunnah. As the people did not move from around the Apostle of Allaah(ﷺ) and did not separate themselves from him he did the sa’i on a Camel so that they may listen to him and see his position and their hands might not reach him
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے ( واقعہ یہ ہے ) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو ، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَأَنْ يَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلاَتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ " .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allah, and that Muhammad is His servant and His Apostle, face our qiblah (direction of prayer), eat what we slaughter, and pray like us. When they do that, their life and property are unlawful for us except what is due to them. They will have the same rights as the Muslims have, and have the same responsibilities as the Muslims have
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ هِشَامٌ : " بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نَقْتُلُهُمْ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ : " أَفَلاَ نُقَاتِلُهُمْ " . قَالَ : " لاَ مَا صَلَّوْا " .
Umm Salamah, wife of the Prophet (May peace be upon him) is reported to have said:The Messenger of Allah (May peace be upon him) said: You will have commanders some of whom you will approve and some of whom you will disapprove. He who expresses disapproval with his tongue (Abu Dawud said : This is Hisham’s version) is guiltless; and he who feels disapproval in his heart, is safe, but he who is pleased and follows them. He was asked; shall we not kill them, Messenger of Allah? Abu Dawud’s version has : Shall we not fight with them? He replied : No, so long as they pray
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف ( نیک اعمال ) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر ( خلاف شرع امور ) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، ( ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے ( جس نے منکر کا ) اپنی زبان سے انکار کیا ) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ ( سلیمان ابن داود طیالسی ) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ - قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ - قَالَتْ - فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ فَجَاءَتْنِي أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي وَلِي جُمَيْمَةٌ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
‘A’ishah said :We came to Medina and stayed with Banu al-Harith b. al-Khazraj. She said : I swear by Allah, I was swinging between two date-palms. Then my mother came down; and I had my hair up to the ears. The transmitter then rest of the tradition
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے، قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، - يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ " .
‘Uthman b. ‘Affan reported the Messenger of Allah (may peace be him) as saying; if anyone says the night prayer in congregation, he is like one who keeps vigil (in prayer) till midnight; and he who says both the night and dawn prayer in congregation is like one who keeps vigil (in prayer) the whole night
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ۔