حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مَا كُنْتُ أُرَى بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ إِلاَّ أَحَقَّ بِالْغَسْلِ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ .
This tradition has been transmitted through a different chain of narrators. This version adds:“I always preferred to wash the under part of the feet until I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping the upper part of them
اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Narrated by Ya'la
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ طَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ .
Narrated Ya'la: The Messenger of Allah (ﷺ) went round the House (the Ka'bah) wearing a green Yamani mantle under his right armpit with the end over his left shoulder
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ فَقَالَ مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ قَالَ سَبْىُ هَوَازِنَ أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ . فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The tradition mentioned above (No. 2468) has also been transmitted by Abdullah ibn Budayl through a different chain of narrators in a similar way. This version adds: While he (Umar) was observing i'tikaf (in the sacred mosque), the people uttered (loudly): "Allah is most great." He said: What is this, Abdullah? He said: These are the captives of the Hawazin whom the Messenger of Allah (ﷺ) has set free. He said: This slave-girl too? He sent her along with them
اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے الله أكبر کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے، کہا: یہ لونڈی بھی ( تو انہیں میں سے ہے ) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کر دیا۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُمْ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُو لَهُمْ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to keep to the rear when travelling and urge on the weak. He would take someone up behind him and make supplication for them all
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ساقہ ( لشکر کے پچھلے دستہ ) کے ساتھ رہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوروں کو ساتھ لیتے، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔
Narrated by AbuDharr
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَمَنْدَلٌ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِهِ " .
Narrated AbuDharr: The Prophet (ﷺ) said: He who separates from the community within a span takes off the noose of Islam from his neck
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جماعت ۲؎ سے ایک بالشت بھی علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها، قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَّعْنَنِي ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When we came to Medina, the women came to me when I was playing on the swing, and my hair were up to my ears. They brought me, prepared me, and decorated me. Then they brought me to the Messenger of Allah (ﷺ) and he took up cohabitation with me, when I was nine
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے، وہ مجھے لے گئیں، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی، اس وقت میں نو سال کی تھی۔
Narrated by Ibn Umm Maktum
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتَسْمَعُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ فَحَىَّ هَلاَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ " حَىَّ هَلاَ " .
Narrated Ibn Umm Maktum: Messenger of Allah, there are many venomous creatures and wild beasts in Medina (so allow me to pray in my house because I am blind). The Prophet (ﷺ) said: Do you hear the call, "Come to prayer," "Come to salvation"? (He said: Yes.) Then you must come. Abu Dawud said: Al-Qasim al-Jarmi has narrated this tradition from Sufyan in a similar manner. But his version does not contain the words "Then you must come
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» ( یعنی اذان ) سنتے ہو؟ تو ( مسجد ) آیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» ( آیا کرو ) کا ذکر نہیں ہے۔