Narrated by Aws ibn AbuAws ath-Thaqafi
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ عَبَّادٌ - قَالَ أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ . وَقَالَ عَبَّادٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ - يَعْنِي الْمِيضَأَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ ثُمَّ اتَّفَقَا - فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ .
Narrated Aws ibn AbuAws ath-Thaqafi: The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped over his shoes and feet. Abbad (a sub-narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to the well of a people. Musaddad did not mention the words Midat (a place where ablution is performed), and Kazamah (well). Then both agreed on the wording:"He performed ablution and wiped over his shoes and feet
اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ عباد کی روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ طَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ .
Jabir bin ‘Abd Allah said The Prophet(ﷺ) performed the circumambulation of the House(the Ka’bah) on his Camel at the Farewell Pilgrimage and ran between Al Safa’ and Al Marwah, so that the people could see him, remain well informed about him and ask him questions(about Hajj) for the people surrounded him
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ سے پوچھ سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - قَالَ النُّفَيْلِيُّ - قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلاَ يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ . وَقَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَتْ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ .
According to the version of Al Nufaili, A’ishah said “The Prophet (ﷺ) used to pass by a patient while he was observing I’tikaf(in the mosque) but he passed as usual and did not stay asking about him.” According to the version of Ibn Isa she said “The Prophet (ﷺ) would visit a patient while he was observing I’tikaf.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
Jabir reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “War is deception.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ۱؎ ۔
Narrated by Duba'ah daughter of az-Zubayr ibn AbdulMuttalib
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ، قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أُمِّهَا، كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا قَالَتْ، ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ - يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ - فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ لَهُ خُذْ صَدَقَتَهَا . فَقَالَ لَهُ صلى الله عليه وسلم " هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ " . قَالَ لاَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا " .
Narrated Duba'ah daughter of az-Zubayr ibn AbdulMuttalib: Al-Miqdad went to Baqi' al-Khabkhabah for a certain need. He found a mouse taking out a dinar from a hole. It then continued to take out dinars one by one until it took out seventeen dinars. It then took out a red purse containing a dinar. There were thus eighteen dinars. He took them to the Prophet (ﷺ), informed him and said to him: Take its sadaqah. The Prophet (ﷺ) asked him: Did you extend your hand toward the hole? He replied: No. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: May Allah bless you in it
ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ۱؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے ( وہ دیکھتے رہے ) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے ( ۱۷ ) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل ( ۱۸ ) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا: اس کی زکاۃ لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا ، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، : أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " مَا يُبْكِيكِ " . قَالَتْ : ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَمَّا فِي ثَلاَثَةِ مَوَاطِنَ فَلاَ يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا : عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ { هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ } حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَىْ جَهَنَّمَ " . قَالَ يَعْقُوبُ : عَنْ يُونُسَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِهِ .
‘A’ishah said that she thought of Hell and wept. The Messenger of Allah (May peace be upon him) asked her :What makes you weep ? She replied : I thought of Hell and wept. Will you remember your family on the 4th Day of resurrection ? the Messenger of Allah (May peace be upon him) said : There are three places where no one will remember anyone: at the scale until one knows whether his weight is light or heavy; at (the examination of) the book when one is commanded : Take and read Allah’s record, until he knows whether his book will be put into his right hand, or into his left hand, or behind his back ; and the path when it is placed across JAHANNAM
حسن بصری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتی ہو؟ ، وہ بولیں: مجھے جہنم یاد آ گئی تو رونے لگی، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے، دوسرے کتاب کے وقت جب کہا جائے گا: آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا ۔ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ فَقَالَ " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ " . قَالَتْ بَنَاتِي . وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ " مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ " . قَالَتْ فَرَسٌ . قَالَ " وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ " . قَالَتْ جَنَاحَانِ . قَالَ " فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ " . قَالَتْ أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلاً لَهَا أَجْنِحَةٌ قَالَتْ فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so heartily that I could see his molar teeth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ حَافِظُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سُنَنَ الْهُدَى وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم لَكَفَرْتُمْ .
Abd Allah b. Mas’ud said:Persevere in observing these five times of prayer where the announcement for them is made, because they are from the paths of right guidance. And Allah, the Might, the Majestic, has laid down for his prophet (ﷺ) the paths of right guidance. I have seen the time when no one stayed away from prayer except a hypocrite whose hypocrite was well known. I witnessed the time when a man would be brought swaying between two men till he was set up in the row (of the prayer). Every one of us has a mosque of his in his house. If you were to pray in your houses and stay from your mosques. You would abandon the Sunnah (practice) of your prophet, and if you were Abandon the Sunnah (Practice) of your Prophet, you would become an unbeliever
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔