بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
Narrated by Al-Mughirah ibn Shu'bah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، - هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ - عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ لاَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ لأَنَّ الْمَعْرُوفَ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ ‏.‏ وَلَيْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلاَ بِالْقَوِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَأَبُو أُمَامَةَ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Narrated Al-Mughirah ibn Shu'bah: The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped over the stockings and shoes. Abu Dawud said: 'Abd al-Rahman b. Mahdi did not narrate this tradition because the familiar version from al-Mughirah says that the Prophet (ﷺ) wiped over the socks. Abu Musa al-Ash'ari has also reported: The Prophet (ﷺ) wiped over stockings. But the chain of narrators of this tradition is neither continous nor strong. 'Ali b. Abi Talib, Ibn Mas'ud, al-Bara' b. 'Aziz, Anas b. Malik, Abu Umamah, Sahl b. Sa'd and 'Amr b. Huriath also wiped over the stockings
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن ابی طالب، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَعْرُوفٍ، - يَعْنِي ابْنَ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيَّ - حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ يُقَبِّلُهُ زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَطَافَ سَبْعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ ‏.‏
Abu Al Tufail reported on the authority of Ibn ‘Abbas who said I saw the Prophet (ﷺ) circumambulating the Ka’bah on his Camel, touching the corner (Black Stone) with a crooked stick and kissing it (the crooked stick). The narrator Muhammad bin Rafi’ added “he then went o Al Safa and Al Marwah and ran seven times on his Camel
ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے، ( محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلاَنِ ‏.‏ وَسَاقَ مَعْنَاهُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. In this version she said “When he was at the gate of the mosque which was near the gate of Umm Salamah, two men passed them. The narrator then transmitted the tradition to the same effect
زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے ، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔
Narrated by Isam al-Muzani
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنِ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Isam al-Muzani: The Messenger of Allah (ﷺ) sent us in a detachment and said (to us): If you see a mosque or hear a mu'adhdhin (calling to prayer), do not kill anyone
عصام مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: جب تم کوئی مسجد دیکھنا، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِيُّ
Al hasan said “Rikaz means treasure buried in pre Islamic times.”
حسن بصری کہتے ہیں کہ رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، ‏:‏ زَاذَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al-Bara’ (b. ‘Azib) from the prophet (May peace be upon him) through a different chain of narrators is a similar way
ابوعمر زاذان کہتے ہیں کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَرُبَّمَا دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي الْجَوَارِي فَإِذَا دَخَلَ خَرَجْنَ وَإِذَا خَرَجَ دَخَلْنَ ‏.‏
‘A’ishah said :I used to play with dolls. Sometimes the Messenger of Allah (May peace be upon him) entered upon me when the girls were with me. When he came in, they went out, and when he went out, they came in
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، میرے پاس لڑکیاں ہوتیں، تو جب آپ اندر آتے تو وہ باہر نکل جاتیں اور جب آپ باہر نکل جاتے تو وہ اندر آ جاتیں۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ آتِيَ قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقُهَا عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ يَا أَبَا عَوْفٍ الْجُمُعَةَ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا قَالَ صُمَّتَا أُذُنَاىَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلاَ غَيْرَهَا ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:I thought about giving orders to some youths for gathering a bundle of firewood, then going off to some people who their prayers in their homes without any excuse, and burning down their houses over them. I (Yazid b. Yazid) said: I asked Yazid b. al-Asamm: Abu ‘Awf did he mean Friday (prayer) or any other? He replied: may my ears become deaf if I have not heard Abu Hurairah narrating it from the Messenger of Allah (May peace be upon him); He did not mention Friday (prayer) or any other
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں ۔ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔