Narrated by Khuzaymah ibn Thabit
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ بِإِسْنَادِهِ قَالَ فِيهِ وَلَوِ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا .
Narrated Khuzaymah ibn Thabit: The Prophet (ﷺ) said: The time limit for wiping over the socks for a traveller is three days (and three nights) and for a resident it is one day and one night. Abu Dawud said: Another version adds: Had we requested him to extend (the period of wiping), he would have extended
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موزوں پر مسح کرنے کی مدت مسافر کے لیے تین دن ، اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور بن معتمر نے اسے ابراہیم تیمی سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس مدت کو ) بڑھانے کے لیے کہتے تو آپ اسے ہمارے لیے بڑھا دیتے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ .
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) performed the circumambulation at the Farewell Pilgrimage on a Camel and touched the corner(Black Stone) with a crooked stick
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكُونُ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَيُنَاوِلُنِي رَأْسَهُ مِنْ خَلَلِ الْحُجْرَةِ فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ . وَقَالَ مُسَدَّدٌ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ .
Aishah said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: "And I would comb it while I was menstruating
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ، عِنْدَ الْقِتَالِ فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَقَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثٌ نَبِيلٌ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيهِ أَحَدٌ .
Ibn ‘Awn said “I wrote to Nafi’ asking him about summoning the polytheists (to Islam) at the time of fighting. So, he wrote to me “This was in the early days of Islam. The Prophet of Allaah(ﷺ) attacked Banu Al Mustaliq while they were inattentive and their cattle were drinking water. So their fighters were killed and the survivors (i.e., women and children) were taken prisoners. On that day Juwairiyyah daughter of Al Harith was obtained. ‘Abd Allaah narrated this to me, he was in that army.” Abu Dawud said “This is a good tradition narrtted by Ibn ‘Awn from Nafi’ and no one shared him in narrating it.”
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا ( اس کے بعد ) اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کر لیا ۱؎، اور جویریہ بنت الحارث ۲؎ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن پایا، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔
Narrated by As-Sa'b ibn Jaththamah
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ " لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Narrated As-Sa'b ibn Jaththamah: The Prophet (ﷺ) protected Naqi and said: There is no (permission for) protected land except for Allah Most High
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنایا، اور فرمایا: اللہ کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، بِمِثْلِ هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولاَنِ لَهُ " . فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الأَوَّلِ قَالَ فِيهِ : " وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيَقُولاَنِ لَهُ " . زَادَ : " الْمُنَافِقُ " . وَقَالَ : " يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " .
The tradition mentioned above has also transmitted by ‘Abd al-Wahhab through a different chain of narrators in a similar manner. This version has :When a man is placed in his grave and his friends leave him, he hears the beat of their sandals. Then two angles come and speak to him. He then mentioned the rest of the tradition nearly similar to the previous one. It goes : As for the infidel and hypocrite they say to them. This version adds the word “hypocrite”. And he said : those who are near him will hear (his shout) with the exception of men and jinn
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں راوی نے منافق کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، - يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِيهَا إِنْ يَفْتَحِ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْمَرْأَةُ كَانَ لَهَا أَرْبَعُ عُكَنٍ فِي بَطْنِهَا .
Umm Salamah said that the Prophet (May peace be upon him) came upon her when there was with her an effeminate man (mukhannath) who said to her brother ‘Abd Allah (b. Abi Umayyah) :if Allah conquers al-Ta’if for you tomorrow, I shall lead you to a woman who has four folds of fats in front and eight behind. Thereupon the Prophet (May peace be upon him) said: Put them out of your houses. Abu Dawud said : The woman had four folds of fat on her belly
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔
Narrated by AbudDarda
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ " . قَالَ زَائِدَةُ قَالَ السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الصَّلاَةَ فِي الْجَمَاعَةِ .
Narrated AbudDarda': I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If there are three men in a village or in the desert among whom prayer is not offered (in congregation), the devil has got the mastery over them. So observe (prayer) in congregation), for the wolf eats only the straggling animal. Sa'ib said: By the word Jama'ah he meant saying prayer in company or in congregation
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے ۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔