حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ حَىٍّ، - هُوَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسِيتَ قَالَ " بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
Al-Mughirah b. Shu’bah said:The Messenger of Allah (ﷺ) wiped over the socks and I said: Messenger of Allah, have you forgotten ? He said: My Lord has commanded me to do this
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم بھول گئے ہو، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
Ibn ‘Umar said The Apostle of Allaah(ﷺ) did not give up touching the Yamani corner and the (Black) Stone in each of his circumambulations. Ibn ‘Umar used to do so
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يُتَابِعْ أَحَدٌ مَالِكًا عَلَى عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ .
A similar tradition has been transmitted by 'Aishah from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. Abu Dawud said:And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from 'Urwah from 'Umrah ; and Ma'mar, Ziyad b. Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from 'Urwah on the authority of 'Aishah
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَزَا قَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ " .
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah (ﷺ) went on an expedition, he said: O Allah, Thou art my aider and helper; by Thee I move, by Thee I attack, and by Thee I fight
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ کرتے تو فرماتے: «اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل» اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَمَى النَّقِيعَ .
Al Sa’b bin Jaththamah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “There is no (permission for) protected land except for Allaah and His Prophet. Ibn Shihab said “It has reached me that the Apostle of Allaah(ﷺ) protected Naqi’.”
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع ( ایک جگہ کا نام ہے ) کو«حمی» ( چراگاہ ) بنایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ أَبُو نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ نَخْلاً لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا فَفَزِعَ فَقَالَ : " مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ . فَقَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالُوا : وَمِمَّ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَعْبُدُ فَإِنِ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ : كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ . فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَىْءٍ غَيْرَهَا فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا بَيْتُكَ كَانَ لَكَ فِي النَّارِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ وَرَحِمَكَ فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي . فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ . وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَنْتَهِرُهُ فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَعْبُدُ فَيَقُولُ : لاَ أَدْرِي . فَيُقَالُ لَهُ : لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ . فَيُقَالُ لَهُ : فَمَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ : كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ . فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا الْخَلْقُ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " .
Anas b. Malik said:The Messenger of Allah(ﷺ) entered the garden of the palm trees of Banu al-Najjar. He heard a voice and was terrified. He asked: Who are the people buried in these graves? The people replied: Messenger of Allah! These are some people who died in the pre-Islamic times. He said: Seek refuge in Allah from the punishment of the fire, and the trail of Antichrist. They asked: Why is it that, Messenger of Allah? He said: When a man is placed in his grave, an angel comes to him and says to him: Whom did you worship? Allah then guides him and he says: I worshiped Allah. He is then asked: What was your opinion of this man? He replies: He is Allah’s servant and His Apostle. He will not then be asked about anything else. He will then be taken to his abode in Hell and will be told: This was your abode in Hell, but Allah protected you and had mercy on you substituted for you an abode in Paradise for it. He will say: Leave me so that I may go and give glad tidings to my family. He will be told: Dwell. When an infidel is placed in his grave, an angel comes to him, reprimands him and asks him: Whom did you worship? He replies: I do not know. He will be told: You neither knew nor did you follow(the believers). He is then asked: What was your opinion on this man? He replies: I held the opinion that the other people held. He will then give him a blow between his ears with an iron hammer and will utter a shout which will be heard by all the creatures(near him) with the exception of men and jinn
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا اٹھے، فرمایا: یہ قبریں کس کی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ ۱؎ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی ( یعنی قرآن ) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذَا " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ . فَأُمِرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَقْتُلُهُ فَقَالَ " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَالنَّقِيعُ نَاحِيَةٌ عَنِ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ .
Narrated AbuHurayrah: Am effeminate man (mukhannath) who had dyed his hands and feet with henna was brought to the Prophet (ﷺ). He asked: What is the matter with this man? He was told: "Messenger of Allah! He imitates the look of women." So he issued an order regarding him and he was banished to an-Naqi'. The people said: Messenger of Allah! Should we not kill him? He said: I have been prohibited from killing people who pray. AbuUsamah said: Naqi' is a region near Medina and not a Baqi
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع ( مدینہ کا قبرستان ) نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - مِثْلَ ذَلِكَ .
This tradition has been transmitted through a different chain of narrators in a similar way by ‘Ali b. Abi Talib
اس سند سے ابومسعود زرقی بھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے گذشتہ روایت کے ہم مثل روایت کرتے ہیں۔