بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ جَرِيرًا، بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقَالَ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَمْسَحَ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ قَالُوا إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏ قَالَ مَا أَسْلَمْتُ إِلاَّ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏
Abu Zur’ah b. ‘Amr b. Jarir said :Jarir urinated. He then performed ablution and wiped over the socks. He said: What can prevent me from wiping (over the socks); I saw the Messenger of Allah (doing so). They (the people) said: This (action of yours) might be valid before the revelation of Surat al-Ma’idah. He replied: I embraced Islam after the revelation of Surat al-Ma’idah
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( موزوں پر ) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس پر لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ‏.‏
Ibn ‘Umar said I have not seen the Apostle of Allaah(ﷺ) touching anything in the House (the Ka’bah) but the two Yamani corners
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ كُلَّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا ‏.‏
Abu Hurairah said:The Prophet (ﷺ) used to observe I'tikaf during ten days of Ramadan every year. But when the year in which he died, he observed I'tikaf for twenty days
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمَعْنَاهُ ‏.‏
Sahl bin Mu’adh reported on the authority of his father “We fought along with the Prophet of Allaah(ﷺ). The rest of the tradition is to the same effect.”
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Jabal: He who put the necklace of jizyah in his neck abandoned the way followed by the Messenger of Allah (ﷺ)
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا ( یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا ) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا ( یعنی اس نے اچھا نہ کیا ) ۔
Narrated by Muhayyisah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَاقَةً، لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْهُ عَلَيْهِمْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ الأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ ‏.‏
Narrated Muhayyisah: The she-camel of Bara' ibn Azib entered the garden of a man and did damage to it. The Messenger of Allah (ﷺ) gave decision that the owners of properties are responsible for guarding them by day, and the owners of animals are responsible for guarding them by night
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ أَبُو طَالُوتَ، قَالَ شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَحَدَّثَنِي فُلاَنٌ، سَمَّاهُ مُسْلِمٌ وَكَانَ فِي السِّمَاطِ فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ ‏:‏ إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا الدَّحْدَاحُ، فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنِّي أَبْقَى فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَكَ زَيْنٌ غَيْرُ شَيْنٍ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ إِنَّمَا بُعِثْتُ إِلَيْكَ لأَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ فِيهِ شَيْئًا فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ ‏:‏ نَعَمْ لاَ مَرَّةً وَلاَ ثِنْتَيْنِ وَلاَ ثَلاَثًا وَلاَ أَرْبَعًا وَلاَ خَمْسًا، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلاَ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ ثُمَّ خَرَجَ مُغْضَبًا ‏.‏
AbdusSalam ibn AbuHazim AbuTalut said:I saw AbuBarzah who came to visit Ubaydullah ibn Ziyad. Then a man named Muslim who was there in the company mentioned it to me. When Ubaydullah saw him, he said: This Muhammadan [i.e. Companion of Muhammad (ﷺ)] of yours is short and fat. The old man (i.e. AbuBarzah) understood it. So he said: I did not think I would remain amongst a people who would criticize me for having had the company of Muhammad (ﷺ). Thereupon Ubaydullah said to him: The company of Muhammad (ﷺ) is a honour for you, not a disgrace. He added: I called for you to ask about the Haud (reservoir or cistern). Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say anything about it? AbuBarzah said: Yes, not once, twice, thrice, four times or five times. Whoever disbelieves in it, may Allah not supply him with water from it. He then went away angrily
عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا، ( مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے ) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا: دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے، تو شیخ ( ابوبرزہ ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے: مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے، تو عبیداللہ نے ان سے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے، نہ کہ عیب کی، پھر کہنے لگا: میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے؟ تو ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، چار بار نہیں، پانچ بار نہیں ( یعنی بہت بار سنا ہے ) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ، زَامِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَنْكَرُهَا ‏.‏
Nafi said :When we were with Ibn ‘Umar, he heard the sound of a man who was blowing a pipe. He then mentioned a similar tradition. Abu Dawud said : This is more rejected
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ‏.‏
Anas reported :the Iqamah was pronounced (for the night prayer) and the Messenger of Allah (ﷺ) remained engaged in talking (to a person) in the corner of the mosque. He did not begin prayer until the people slept
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ( عشاء ) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔