حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنِ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ . وَذَكَرَ فَوْقَ الْعِمَامَةِ - قَالَ عَنِ الْمُعْتَمِرِ - سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى نَاصِيَتِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ . قَالَ بَكْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ الْمُغِيرَةِ .
Al-Mughirah b. Shu’bah said:The Messenger of Allah (ﷺ) performed ablution and wiped his forelock and turban. Another version says : The Messenger of Allah (ﷺ) wiped his socks and his forelock and his turban. Bakr said: I heard it from Ibn al-Mughirah
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اپنی پیشانی پر مسح کیا، مغیرہ نے عمامہ ( پگڑی ) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کرتے تھے۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ، يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلاَّ الْيَهُودَ وَقَدْ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَكُنْ يَفْعَلُهُ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: was asked about a man who looks at the House (the Ka'bah) and raises his hands (for prayer). He replied: I did not find anyone doing this except the Jews. We performed hajj along with the Messenger of Allah (ﷺ), but he did not do so
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا: میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
Aishah said:The Prophet (ﷺ) used to observe retirement (i'tikaf) to the mosque during the last ten days of Ramadan till Allah took him, and then his wives observed retirement to the mosque after his death
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ " .
‘Abd Allaah bin Masud reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Listening and Obedience are binding on a Muslim whether he likes or dislikes, so long as he is not commanded for disobedience (to Allaah). If he is commanded to disobedience (to Allaah), no listening and disobedience are binding (on him)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے ۔
Narrated by Samurah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ " .
Narrated Samurah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone surrounds a land with a wall, it belongs to him
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بنجر زمین پر دیوار کھڑی کرے تو وہی اس زمین کا حقدار ہے ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ " كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَمْسُ سُنَنٍ " كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ " . أَىْ يُكَفَّنُ الْمَيِّتُ فِي ثَوْبَيْنِ " وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ " . أَىْ إِنَّ فِي الْغَسَلاَتِ كُلِّهَا سِدْرًا " وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ " . وَلاَ تُقَرِّبُوهُ طِيبًا وَكَانَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ .
Narrated Ibn 'Abbas: To the Messenger of Allah (ﷺ) was brought man wearing ihram who was thrown by his she-camel and has his neck broken and had died. He then said: Shroud him in his two garments, was him with water and lotus leaves, but do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection saying the talbiyah. Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal say: There are five rules of the law (sunan) in this tradition: "Shroud him in his two garment," that is, the dead should be shrouded in his two garments. "Wash him with water and lotus leaves," that is, washing all times should be with lotus leaves. Do not bring any perfume near him. The shroud will be made from the property (of the dead)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا، وہ حالت احرام میں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کے دونوں کپڑوں ( تہبند اور چادر ) ہی میں دفناؤ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو، اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں: ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس ( محرم ) کا سر نہ ڈھانپو۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ۱؎۔
Narrated by AbuUmamah
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَلاَ تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ الطَّعَامَ قَالَ " ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا " . ثُمَّ قَالَ " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .
Narrated AbuUmamah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) Said: Allah , Most Exalted, has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no will be made to an heir, and a woman should not spend anything from her house except with the permission of her husband. He was asked: Even foodgrain, Messenger of Allah? He replied: That is the best of our property. He then said: A loan must be paid back, a she-camel lent for a time for milking must be returned, a debt must be discharged, one who stands surety is held responsible
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی ( اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی ) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور ( دودھ ختم ہو جانے کے بعد ) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے ( یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا ) ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ " .
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:Before you there will be a pond the distance between whose sides is like that between Jarbah and Adhruh
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے ( قیامت کے دن ) ایک حوض ہو گا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَىَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ وَفِينَا نَبِيُّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ . فَقَالَ " دَعِي هَذِهِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ " .
Al-Ruhayyi’, daughter of Mu’awwidh b. ‘Afra’, said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) came and visited me in the morning when I had been conducted to my husband, and sat on my bedding as you are sitting beside me. Some little girls of ours began to play the tambourine and eulogise those of my ancestors who were killed in the battle of Badr, and then one of them said: And among us is a Prophet who knows what will happen tomorrow. He said : Stop this and say what you were saying
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس صبح آئے، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) بیٹھے ہو، پھر ( انصار کی ) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ قَالَ " حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ " قَدْ خَرَجْتُ " . إِلاَّ مَعْمَرٌ . وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ لَمْ يَقُلْ فِيهِ " قَدْ خَرَجْتُ " .
This tradition has also been reported through a different chain of narrators in a similar way. This version says:“Until you see me that I have come out”. Abu dawud said: No one except Ma’mar has narrated the words “that I have come out”. And the version transmitted by Ibn ‘Uyainah from Ma’mar does not mention the words “that I have come out”
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے «قد خرجت» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے «قد خرجت» نہیں کہا ہے۔