بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
10 hadith
Narrated by Al-Mustawrid ibn Shaddad
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ ‏.‏
Narrated Al-Mustawrid ibn Shaddad: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) rubbing his toes with his little finger when he performed ablution
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا ( ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی ) سے ملتے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى قَالَ وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ ‏.‏
A’ishah said The Apostle of Allaah (ﷺ) entered Makkah from the side of Kuda’ the upper end of Makkah in the year of conquest (of Makkah) and he entered from the side of Kida’ when he performed ‘Umrah. ‘Urwah used to enter (Makkah) from both sides, but he often entered from the side of Kuda’ as it was nearer to his house
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ وَالصَّلاَةُ الدُّعَاءُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَيْضًا عَنْ هِشَامٍ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs b. Ghiyath from Hisham
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے ۔ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ ‏}‏ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Ibn Juraij said “O ye who believe, Obey Allaah and obey the Apostle and those charged with authority amongst you.” This verse was revealed about ‘Abd Allaah bin Qais bin ‘Adi whom the Prophet (ﷺ) sent along with a detachment. Ya’la narrated it to me from Sa’id bin Jubair on the authority of Ibn ‘Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی ( سورۃ النساء: ۵۹ ) عبداللہ ( عبداللہ بن حذافہ ) قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ مَكَانَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَأَنَا رَأَيْتُ الرَّجُلَ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators and to the same effect. Instead of the phrase “one who transmitted this tradition to me” this version has “A man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) and probably he was Abu Sa’id Al Khudri. I saw the man striking at the roots of the palm trees.”
ابن اسحاق اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں «الذي حدثني هذا» کی جگہ یوں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رہے ہوں گے کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے درختوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed women who visit graves, those who built mosques over them and erected lamps (there)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور اس پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔
Narrated by Some people
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاَحٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا قَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ عَارِيَةً ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلاَثِينَ إِلَى الأَرْبَعِينَ دِرْعًا وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَفْوَانَ ‏"‏ إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ثُمَّ أَسْلَمَ ‏.‏
Narrated Some people: AbdulAziz ibn Rufay' narrated on the authority of some people from the descendants of Abdullah ibn Safwan who reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Have you weapons, Safwan? He asked: On loan or by force? He replied: No, but on loan. So he lent him coats of mail numbering between thirty and forty! The Messenger of Allah (ﷺ) fought the battle of Hunayn. When the polytheists were defeated, the coats of mail of Safwan were collected. Some of them were lost. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Safwan: We have lost some coats of mail from your coats of mail. Should we pay compensation to you? He replied: No. Messenger of Allah, for I have in my heart today what I did not have that day. Abu Dawud said: He lent him before embracing Islam. Then he embraced Islam
عبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبردستی نہیں عاریۃً چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں جو بات ہے ( جو میں دیکھ رہا اور سوچ رہا ہوں ) وہ بات اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے ( تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا؟ ) ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الأَرْضُ إِلاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Apostle of AllSah(ﷺ) as saying:Every son of Adam will be devoured by the earth with the exception of the tail-bone from which he was created and from which he will be reconstituted
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین ابن آدم ( انسان ) کے تمام اعضاء ( جسم ) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ۱؎، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَمْ يَكْذِبْ مَنْ نَمَى بَيْنَ اثْنَيْنِ لِيُصْلِحَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُسَدَّدٌ ‏"‏ لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
Humaid b. 'Abd al-Rahman quoted his mother as saying:The Prophet (ﷺ) said: He who forged in order to put things right between two persons did not lie. The version by Ahmad ibn Muhammad and Musaddad has: The liar is not the one who puts things right between people, saying what is good and increasing good
ام حمید بن عبدالرحمٰن (ام کلثوم) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ قَالَ اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: Mujahid reported: I was in the company of Ibn Umar. A person invited the people for the noon or afternoon prayer (after the adhan had been called). He said: Go out with us (from this mosque) because this is an innovation (in religion)
مجاہد کہتے ہیں کہ کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ۱؎ کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔