بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
10 hadith
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضِ الْعِمَامَةَ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: I saw the Messenger (ﷺ) perform ablution. He had a Qutri turban. He inserted his hand beneath the turban and wiped over the forelock, and did not untie the turban
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری ( یعنی قطر بستی کا بنا ہوا ) عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ ( پگڑی ) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ ( پگڑی ) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ ‏.‏
Ibn ‘Umar said The Messenger of Allah (ﷺ) used to come out from (Medina) by the way of Al Shajarah and enter (Makkah) by the way of Al Mu’arras
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ ( جو ذی الحلیفہ میں تھا ) کے راستے سے ( مدینہ سے ) نکلتے تھے اور معرس ( مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے ) کے راستہ سے ( مدینہ میں ) داخل ہوتے تھے ۱؎۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلاَ يُصَلِّي صَلاَةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏.‏ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ ‏.‏ قَالَ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلاَ أَصْبِرُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ ‏"‏ لاَ تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لاَ أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لاَ نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ حُمَيْدٍ أَوْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ‏.‏
Narrated AbuSa'id al-Khudri: A woman came to the Prophet (ﷺ) while we were with him. She said: Messenger of Allah, my husband, Safwan ibn al-Mu'attal, beats me when I pray, and makes me break my fast when I keep a fast, and he does not offer the dawn prayer until the sun rises. He asked Safwan, who was present, about what she had said. He replied: Messenger of Allah, as for her statement "he beats me when I pray", she recites two surahs (during prayer) and I have prohibited her (to do so). He (the Prophet) said: If one surah is recited (during prayer), that is sufficient for the people. (Safwan continued:) As regards her saying "he makes me break my fast," she dotes on fasting; I am a young man, I cannot restrain myself. The Messenger of Allah (ﷺ) said on that day: A woman should not fast except with the permission of her husband. (Safwan said:) As for her statement that I do not pray until the sun rises, we are a people belonging to a class, and that (our profession of supplying water) is already known about us. We do not awake until the sun rises. He said: When you awake, offer your prayer
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے ( دو دو سورتیں پڑھنے سے ) منع کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل روزہ ) نہ رکھے ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah bin Umar reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “One should not milk the cattle of anyone without his permission. Does anyone of you like that any one approaches his corn cell and its storage is broken and then the corn scatters away? Likewise, the teats of their Cattle store their food. Therefore none of you should milk the cattle of anyone without his permission.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
Narrated by Urwah
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَلَقَدْ خَبَّرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَرَسَ أَحَدُهُمَا نَخْلاً فِي أَرْضِ الآخَرِ فَقَضَى لِصَاحِبِ الأَرْضِ بِأَرْضِهِ وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُضْرَبُ أُصُولُهَا بِالْفُئُوسِ وَإِنَّهَا لَنَخْلٌ عُمٌّ حَتَّى أُخْرِجَتْ مِنْهَا ‏.‏
Narrated Urwah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone brings barren land into cultivation, it belong to him. He then transmitted a similar tradition mentioned above (No. 3067). He ('Urwah) said: One who transmitted this tradition to me said that two persons brought their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). One of them grew palm trees in the land of the other. He decided to return the land to its owner of the palm-trees to remove his palm-trees. He said: I saw when their roots were being struck with axes. The trees were fully grown up, but they were removed from there
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے ۔ پھر راوی نے اس کے مثل ذکر کیا، راوی کہتے ہیں: جس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی اسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگا رکھے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو اس کی زمین دلا دی، اور درخت والے کو حکم دیا کہ تم اپنے درخت اکھاڑ لے جاؤ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئیں اور وہ زمین سے نکالی گئیں، حالانکہ وہ لمبے اور گنجان پورے پورے درخت ہو گئے تھے۔
Narrated by Buraidah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً ‏"‏ ‏.‏
Narrated Buraidah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: I forbade you to visit graves, but you may now visit them, for in visiting them there is a reminder (of death)
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے ۔
Narrated by Safwan ibn Umayyah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطَ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا ‏.‏
Narrated Safwan ibn Umayyah: The Messenger of Allah (ﷺ) borrowed coats of mail from him on the day of (the battle of) Hunayn. He asked: Are you taking them by force. Muhammad? He replied: No, it is a loan with a guarantee of their return. Abu Dawud said: This tradition narrated by Yazid (b. Harun) at Baghdad. There is some change in the tradition narrated by him at Wasit, which is something different
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط ۱؎ میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَسْلَمُ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: The trumpet (sur) which will be blown
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صور» ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی ۔
Narrated by AbudDarda
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ الْحَالِقَةُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: Shall I not inform you of something more excellent in degree than fasting, prayer and almsgiving (sadaqah)? The people replied: Yes, Prophet of Allah! He said: It is putting things right between people, spoiling them is the shaver (destructive)
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ بِلاَلٌ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلاَةَ ‏.‏
Jabir b. Samurah said:Bilal would call the Adhan, then he used come to wait. When he would see that the prophet (ﷺ) had come out (of his house), he would pronounce the iqama
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ نکل چکے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔