حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ " .
The version of Ibn Juraij has the working:“If you perform ablution, then rinse your mouth.”
اس طریق سے بھی ابن جریج سے یہی حدیث مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو کلی کرو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي شَىْءٌ إِلاَّ مَا أَدْخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ قَالَ " أَعْطِي وَلاَ تُوكِي فَيُوكِيَ عَلَيْكِ " .
Asma, daughter of Abu Bakr, said :I said : Messenger of Allah(SAWS), I have nothing of my own except what al-Zubair (her husband) brings to me in his house: should I spend out of it? He said : Give and do not hoard so your sustenance will be hoarded
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ، يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ قَالَ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّأْمِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِهَدْىٍ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الشَّأْمِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ فَنَحَرْتُ الْهَدْىَ مَكَانِي ثُمَّ أَحْلَلْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لأَقْضِيَ عُمْرَتِي فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَبْدِلِ الْهَدْىَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبْدِلُوا الْهَدْىَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ .
Maymun ibn Mahran said:I came out to perform umrah in the year when the people of Syria besieged Ibn az-Zubayr at Mecca. Some people of my tribe sent sacrificial animals with me as an offering. When we reached the people of Syria, they stopped us from entering the sacred territory. I, therefore, sacrificed the animals at the same spot. I then took off ihram and returned. Next year I came out to make an atonement for my umrah. I came to Ibn Abbas and asked him (about it). He said: Bring a new sacrificial animal, for the Messenger of Allah (ﷺ) ordered his companions to bring fresh sacrificial animals for the umrah of atonement in lieu of the animals they had sacrificed in the year of al-Hudaybiyyah
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے، جب ہم اہل شام ( مکہ کے محاصرین ) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔
Narrated by Umm Hani
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ قَالَتْ فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً . فَقَالَ لَهَا " أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا " . قَالَتْ لاَ . قَالَ " فَلاَ يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا " .
Narrated Umm Hani: On the days of the conquest of Mecca, when Mecca was captured, Fatimah came and sat on the left side of the Messenger of Allah (ﷺ), and Umm Hani was on his right side. A slave-girl brought a vessel which contained some drink; she gave it to him and he drank of it. He then gave it to Umm Hani who drank of it. She said: Messenger of Allah, I have broken my fast; I was fasting. He said to her: Were you making atonement for something? She replied: No. He said: Then it does not harm you if it was voluntary (fast)
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟ جواب دیا نہیں، فرمایا: اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں ۱؎۔
Narrated by Abbad ibn Shurahbil
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَفَرَكْتُ سُنْبُلاً فَأَكَلْتُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ " مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلاً وَلاَ أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا " . أَوْ قَالَ " سَاغِبًا " . وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَىَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ .
Narrated Abbad ibn Shurahbil: I suffered from drought; so I entered a garden of Medina, and rubbed an ear-corn. I ate and carried in my garment. Then its master came, he beat me and took my garment. He came to the Messenger of Allah (ﷺ) who said to him: You did not teach him if he was ignorant; and you did not feed him if he was hungry. He ordered him, so he returned my garment to me, and gave me one or half a wasq (sixty or thirty sa's) of corn
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور ( باقی ) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا: تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق ( ساٹھ صاع ) یا نصف وسق ( تیس صاع ) غلہ مجھے دیا۔
Narrated by Asmar ibn Mudarris
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ جَنُوبٍ بِنْتُ نُمَيْلَةَ، عَنْ أُمِّهَا، سُوَيْدَةَ بِنْتِ جَابِرٍ عَنْ أُمِّهَا، عَقِيلَةَ بِنْتِ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ عَنْ أَبِيهَا، أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ " مَنْ سَبَقَ إِلَى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ " . قَالَ فَخَرَجَ النَّاسُ يَتَعَادَوْنَ يَتَخَاطُّونَ .
Narrated Asmar ibn Mudarris: I came to the Prophet (ﷺ), and took the oath of allegiance to him. He said: If anyone reaches a water which has not been approached before by any Muslim, it belongs to him. The people, therefore, went out running and marking (on the land)
اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے پانی ( چشمے یا تالاب ) پر پہنچ جائے ( یعنی اس کا کھوج لگا لے ) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے ، ( یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا ) ( یہ سن کر ) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے ( تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے ) ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا إِلاَّ شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الأَرْضَ .
Narrated Jabir:A man was buried with my father. I had a desire at heart for that (place for my burial). So I took him out after six months. I did not find any change (in his body) except a few hair that touched the earth
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔
Narrated by Zayd ibn Thabit
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ وَلاَ تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ " .
Narrated Zayd ibn Thabit: The Prophet (ﷺ) said: If anyone gives something in life-tenancy, it belongs to the one to whom it is given, in his life and after his death; and do not give property to go to the survivor, for if anyone gives something to to to the survivor, it belongs to him
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ۔ اور فرمایا: رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی ( یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی ) ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: My intercession will be for those of my people who have committed major sins
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيُغْفَرُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ عَبْدٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلاَّ مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَىْءٍ وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:The gates of Paradise are opened on Mondays and Thursdays, and forgiveness is granted to every man who does not associate anything with Allah, except for a man between whom and his brother there is rancor. Command will be given that they should be given respite till they conciliate. Abu Dawud said: The Prophet (ﷺ) kept apart from some of his wives for forty days, and Ibn 'Umar kept apart from his son till he died. Abu Dawud said: If keeping apart is meant for the sake of Allah, then it has no concern with it. 'Umar bin 'Abd al-'Aziz covered his face from a man
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں ( کی مغفرت ) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کر لیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو ۱؎ تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
Narrated by Bilal
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ شَدَّادٍ، مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا " . وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلاَلاً .
Narrated Bilal: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Bilal: Do not call adhan until the dawn appears clearly to you in this way, stretching his hand in latitude. Abu Dawud said: Shaddad did not see Bilal
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔