حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . قَالَ فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ . وَقَالَ عَصِيدَةٍ . مَكَانَ خَزِيرَةٍ .
Laqit b. Sabirah reported that he was the leader of Banu’l-Muntafiq (name of a tribe). He came to ‘A’ishah. He then narrated the tradition in a similar manner. He said:The Prophet (ﷺ) then came shortly with rapid strides inclining forward. The narrator used the word ‘asidah (name of a dish) in this version instead of Khazirah
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» ( ایک قسم کا کھانا ) کا ذکر ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخَلُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) preached and said: Abstain from avarice, for those who had been before you were annihilated due to avarice. It (avarice) commanded them to show niggardliness; it commanded them to cut off their relationship with their nearest relatives, so they cut off. It commanded them to show profligacy, so they showed it
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو گئے، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے ۔
Narrated by al-Hajjaj ibn Amr
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَسَلَمَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ أَوْ مَرِضَ " . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . قَالَ سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ أَنَا مَعْمَرٌ .
Narrated al-Hajjaj ibn Amr: The Prophet (ﷺ) said: If anyone breaks (a leg) or becomes lame or falls ill. He then narrated the tradition to the same effect. The narrator Salamah ibn Shabib said: Ma'mar narrated (this tradition) to us
حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے یا بیمار ہو جائے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، سلمہ بن شبیب نے «عن معمر» کے بجائے «أنبأنا معمر» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ عَلَىَّ قَالَ " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ " . فَإِذَا قُلْنَا لاَ قَالَ " إِنِّي صَائِمٌ " . زَادَ وَكِيعٌ فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاهُ لَكَ . فَقَالَ " أَدْنِيهِ " . قَالَ طَلْحَةُ فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ .
Aishah said:When the Prophet (ﷺ) entered upon me, he would ask: Do you have food ? When we said: No, he would say: I am fasting. Waki' added in his version: Another day when he entered upon us, we said: Messenger of Allah, some pudding (hair) has been presented to us and we have retained it for you. He said: Bring it to me. Talhah said: He fasted in the morning, but broke his fast (that day)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں ( کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا ) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔
Narrated by Samurah ibn Jundub
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلاَثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلاَّ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلاَ يَحْمِلْ " .
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) said: When one of you comes to the cattle, he should seek permission of their master if he is there; if he permits, he should milk (the animals) and drink. If he is not there, he should call three times. If he responds, he should seek his permission; otherwise, he may milk (the animals) and drink, but should not carry (with him)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎ ۔
Narrated by Qaylah bint Makhramah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتَاىَ، صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَىْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا قَالَتْ، قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ تَقَدَّمَ صَاحِبِي - تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ - فَبَايَعَهُ عَلَى الإِسْلاَمِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لاَ يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ . فَقَالَ " اكْتُبْ لَهُ يَا غُلاَمُ بِالدَّهْنَاءِ " . فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ مُقَيَّدُ الْجَمَلِ وَمَرْعَى الْغَنَمِ وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَقَالَ " أَمْسِكْ يَا غُلاَمُ صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفُتَّانِ " .
Narrated Qaylah bint Makhramah: Abdullah ibn Hasan al-Anbari said: My grandmothers, Safiyyah and Duhaybah, narrated to me, that hey were the daughters of Ulaybah and were nourished by Qaylah, daughter of Makhramah. She was the grandmother of their father. She reported to them, saying: We came upon the Messenger of Allah (ﷺ). My companion, Hurayth ibn Hassan, came to him as a delegate from Bakr ibn Wa'il. He took the oath of allegiance of Islam for himself and for his people. He then said: Messenger of Allah (ﷺ), write a document for us, giving us the land lying between us and Banu Tamim at ad-Dahna' to the effect that not one of them will cross it in our direction except a traveller or a passer-by. He said: Write down ad-Dahna' for them, boy. When I saw that he passed orders to give it to him, I became anxious, for it was my native land and my home. I said: Messenger of Allah, he did not ask you for a true border when he asked you. This land of Dahna' is a place where the camels have their home, and it is a pasture for the sheep. The women of Banu Tamim and their children are beyond it. He said: Stop, boy! A poor woman spoke the truth: a Muslim is a brother of a Muslim. Each one of them may benefit from water and trees, and they should cooperate with each other against Satan
عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء ۱؎ کو سرحد بنا دیجئیے، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلام! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو ، قیلہ کہتی ہیں: جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلام رک جاؤ! ( مت لکھو ) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے اور کام آ سکتے ہیں ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ " .
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) as saying: When a servant (of Allah) is placed in his grave, and his Companions depart from him, he hears the stepping sound of their shoes
انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب بندہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹنے لگتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ صلى الله عليه وسلم " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: Life-tenancy is lawful for the one to whom it is given and donation of property to go to the survivor is lawful to whom it is given
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے، اور رقبیٰ ۱؎ ( بھی ) اسی کے اہل کا حق ہے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When one of you inflicts a beating, he should avoid striking the face
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے بچے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " إِذَا تَكَلَّمَ اللَّهُ بِالْوَحْىِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا فَيُصْعَقُونَ، فَلاَ يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ حَتَّى إِذَا جَاءَهُمْ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ " . قَالَ : " فَيَقُولُونَ : يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ فَيَقُولُ : الْحَقَّ فَيَقُولُونَ : الْحَقَّ الْحَقَّ " .
‘Abd Allah (b. Mas’ud) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:"When Allah, the exalted, speaks to send revelation, the inhabitants of heaven hear the clanging of a bell from the heavens like a chain being dragged across a rock, and they swoon. They continue to remain like that until Jibril comes to them. When he comes to them, they recover and say: 'O Jibril, what did your Lord say?' He would say: 'The truth,' and they would say: 'The truth, the truth
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق ( فرمایا ) تو وہ سب کہتے ہیں حق ( فرمایا ) حق ( فرمایا ) ۔
Narrated by AbuKhirash as-Sulami
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ " .
Narrated AbuKhirash as-Sulami: AbuKhirash heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If one keeps apart from his brother for a year, it is like shedding his blood
ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ مُؤَذِّنٍ، لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ مَسْعُودٌ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ .
Nafi' reported :A mu'adhdhin of ‘Umar, named Masruh, called the Adhan for the morning prayer before the break of dawn; ‘Umar commanded him (to repeat). The narrator reported the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Darawardi from ‘Ubaid Allah on the authority of Ibn ‘Umar, saying: there was a mu'adhdhin of ‘Umar, named Mas’ud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than one
عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا ( جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔